خواتین کا عالمی دن!

آئمہ محمود 
خواتین کا عالمی دن ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے لیکن اس سال یہ دن محض تقریبات، سیمینارز اور سوشل میڈیا پیغامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ان کروڑوں خواتین اور بچیوں کی آواز بننا چاہیے جو جنگ، غربت، بھوک، بے گھری اور استحصال کا سامنا کر رہی ہیں۔ آج جب مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں ہے اور معصوم جانیں خصوصاً خواتین اور بچیاں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں تو 8 مارچ کو امن، انصاف اور برابری کے عہد کے طور پر منانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔غزہ میں جاری تباہی ہو یا ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی یا خطے میں اسرائیل اور امریکہ کی پالیسیوں کے اثرات  ہر جگہ سب سے زیادہ قیمت عام لوگ ادا کر رہے ہیں اور ان میں بھی خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔  جنگ اور بدامنی کا پہلا وار تعلیم پر ہوتا ہے۔عالمی اداروں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 129 ملین لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں ان میں سے تقریباً 32 ملین پرائمری اسکول کی عمر کی بچیاں ہیں۔ تنازعات سے متاثرہ ممالک میں لڑکیوں کے اسکول نہ جانے کا امکان لڑکوں کے مقابلے میں دوگنا ہے۔
جنگی حالات میں سب سے پہلے اسکول بند ہوتے ہیں اور سب سے آخر میں دوبارہ کھلتے ہیں۔ جب جنگ زدہ علاقوں میں اسکول ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں تو صرف عمارتیں نہیں گرتیں بلکہ نسلوں کے خواب دفن ہو جاتے ہیں۔ تعلیم سے محروم لڑکیوں کے لیے کم عمری کی شادی، جبری مشقت اور استحصال کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔اگر دنیا اکیسویں صدی میں بھی کروڑوں بچیوں کو تعلیم کا حق فراہم نہیں کیا جا رہا تو یہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی خرابی ہے۔ دنیا سالانہ کھربوں ڈالر ہتھیاروں پر خرچ کرتی ہے مگر تعلیم کے لیے بنیادی بجٹ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ صحت کے میدان میں بھی خواتین شدید عدم مساوات کا شکار ہیں۔ کم آمدنی والے اور جنگ زدہ ممالک میں زچگی کے دوران موت کا خطرہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔دنیا بھر میں تقریباً 800 ملین خواتین کو مناسب تولیدی صحت کی سہولیات تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔
جنگی علاقوں میں اسپتال تباہ ہو جاتے ہیں ادویات کی قلت پیدا ہو جاتی ہے اور حاملہ خواتین کو بنیادی طبی امداد تک میسر نہیں ہوتی۔ جب بجلی نہیں، صاف پانی نہیں، ادویات نہیں  تو سب سے پہلے متاثر ہونے والی عورت اور بچہ ہی ہوتا ہے۔یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ صرف میڈیکل ٹیکنالوجی کی ترقی کافی نہیں ہمیں اپنے سیاسی اور معاشی نظام میں انسانی زندگی کو ترجیح دینا ہو گی ورنہ صحت کا حق ایک خواب ہی رہے گا۔اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 735 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہیں جن میں خواتین کا تناسب زیادہ ہے۔تقریباً 2 بلین افراد کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں اور دیہی علاقوں میں پانی لانے کی ذمہ داری عموماً خواتین اور بچیوں پر ہوتی ہے۔دنیا بھر کے بے گھر افراد اور پناہ گزینوں میں تقریباً نصف تعداد خواتین اور بچیوں پر مشتمل ہے۔
جنگ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم خواتین کو دوہری اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایک طرف وہ اپنے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں دوسری طرف خود بنیادی ضروریات سے محروم رہتی ہیں۔ جب معیشتیں جنگ کی نذر ہو جاتی ہیں تو روزگار کے مواقع سکڑ جاتے ہیں اور سب سے پہلے خواتین ہی ملازمتوں سے محروم ہوتی ہیں۔آج کی عالمی معیشت میں ہتھیاروں کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ عالمی دفاعی اخراجات کھربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں بجٹ مسلسل کم کیا جا رہا ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے۔
جب طاقتور ممالک جنگ کو خارجہ پالیسی کا ذریعہ بناتے ہیں تو اس کے اثرات پوری دنیا  تک پھیلتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ عالمی ضمیر کب جاگے گا؟
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اپنی انتہا کو پہنچا خواتین نے مزاحمت کی نئی داستانیں رقم کیں چاہے وہ امن مارچ ہوں، انسانی حقوق کی تحریکیں ہوں یا فلاحی نیٹ ورکس خواتین ہمیشہ صفِ اول میں کھڑی رہی ہیں۔
8 مارچ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خواتین کمزور نہیں بلکہ تبدیلی کی سب سے بڑی قوت ہیں۔ وہی عورت جو جنگ میں سب کچھ کھو دیتی ہے وہی اپنے بچوں کو دوبارہ زندگی کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ وہی عورت جو بھوک اور بے گھری سہتی ہے وہی کمیونٹی کو منظم کر کے اجتماعی جدوجہد کا آغاز کرتی ہے۔
خواتین کے عالمی دن پر جنگ زدہ علاقوں کی خواتین اور بچیوں کے نام ہمارا پیغام ہے کہ آپ اکیلی نہیں ہیں۔آپ کی جدوجہد عالمی جدوجہد کا حصہ ہے۔ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ تعلیم ہر بچی کا حق ہے اسے جنگ یا غربت کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔صحت بنیادی انسانی حق ہے اسے منافع کی منڈی نہیں بننے دیں گے۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سماجی انصاف کے لیے آواز بلند کریں گے۔صنفی تفریق، بدعنوانی اور استحصالی نظام کے خاتمے کے لیے متحد رہیں گے کیونکہ امن کوئی کمزوری نہیں سب سے بڑی طاقت ہے۔انصاف کوئی نعرہ نہیں بلکہ انسانی بقا کی شرط ہے اور برابری کوئی خواب نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد سے حاصل ہونے والی حقیقت ہے۔خواتین کا عالمی دن اس سال جشن کا نہیں عہد کا دن ہے اْن خواتین کے نام جو جنگ کی راکھ سے بھی امید کا چراغ جلانا جانتی ہیں