طاقت کی فصیلیں اورتاریخ کامیزان

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے صحیفے پرسلطنتوں کے نام ہمیشہ سونے کے پانی سے نہیں لکھے جاتے؛بعض اوقات توپوں کادھواں،اجڑے ہوئے شہروں کی خاک اورشکستہ قوموں کی آہیں بھی ان کے نام کے گردایسا حاشیہ کھینچ دیتی ہیں جسے زمانے کی کوئی روشنائی مٹا نہیں سکتی۔ قوت،بلاشبہ،ریاستوں کے ہاتھ میں ایک عظیم وسیلہ ہے؛مگرقوت اورحکمت ایک ہی چیز نہیں،اورعسکری فتح اورسیاسی کامیابی ہمیشہ ایک ہی منزل کے دو نام نہیں ہوتے۔دنیا کی تاریخ بارباریہ سبق دہراتی رہی ہے کہ تلوارکسی دروازے کوتوڑتوسکتی ہے،مگر دلوں پرحکومت نہیں کرسکتی؛فوج کسی دارالحکومت پرقبضہ توکرسکتی ہے،مگرکسی قوم کی اجتماعی یادداشت،تہذیبی مزاحمت اورسیاسی ارادے کوہمیشہ کیلئے زیرنہیں کرسکتی۔
امریکا بیسویں صدی کے نصف آخرسے اکیسویں صدی تک دنیاکی سب سے طاقتورعسکری،معاشی اورتکنیکی قوتوں میں سرفہرست رہاہے۔اس کے پاس سمندروں پرتیرتے ہوئے ہوائی اڈے ہیں،براعظموں کوناپنے والی فضائی قوت ہے،دنیاکے مختلف خطوں میں عسکری اڈوں کاجال ہے اورایسا دفاعی بجٹ ہے جس کابہت سی ریاستیں تصوربھی نہیں کرسکتیں۔ اس کے باوجودسوال یہ ہے کہ آخرکیوں کوریاسے ویتنام،بیروت سے موغادیشو،کابل سے بغداداورلیبیاسے شام تک کئی مقامات پرغیر معمولی عسکری طاقت دیرپاسیاسی وفوجی فتح میں تبدیل نہ ہوسکی؟یہ سوال امریکادشمنی یاامریکادوستی سے زیادہ تاریخ، طاقت اورسیاسی بصیرت کاسوال ہے۔
اصل مسئلہ شایدیہ نہیں کہ امریکاہرجنگ ہارگیا؛تاریخی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ امریکا نے کتنی جنگیں میدان میں جیت کرسیاست میں ہاریں؟ کتنی حکومتیں گراکرایسے بحران پیدا کیے جن کاحل خودواشنگٹن کے پاس بھی نہ رہا؟اورکتنی مرتبہ ایک محدودعسکری مقصدبتدریج ایسے سیاسی دلدل میں بدل گیاجہاں فتح کی تعریف ہی مبہم ہوگئی؟
1950میں جزیرہ کوریاجنگ کی آگ میں لپٹاتوابتدامیں اسے کمیونزم اور مغربی دنیاکے درمیان ایک بڑے نظریاتی تصادم کی پہلی مسلح آزمائش سمجھاگیا۔شمالی کوریاکی افواج جنوب کی طرف بڑھیں؛امریکااقوام متحدہ کے پرچم تلے جنوبی کوریاکی حمایت میں میدان میں اترا۔ابتدائی مہینوں میں جنگ کانقشہ کئی مرتبہ بدلا۔کبھی شمالی افواج جنوبی ساحلوں تک پہنچیں،کبھی جنرل ڈگلس میک آرتھرکی قیادت میں اتحادی افواج شمال کی جانب اس سرعت سے بڑھیں کہ یالودریا تک پہنچنے لگیں لیکن چین کے جنگ میں داخل ہونے سے طاقت کاترازوپھربدل گیا۔تین برس کی خونریزلڑائی کے بعد1953میں جنگ بندی ہوئی۔نہ مکمل فتح ہوئی،نہ مکمل شکست۔سرحدتقریبااسی علاقے میں قائم رہی جہاں سے تصادم شروع ہواتھا۔لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں،بستیاں اجڑیں،خاندان ہمیشہ کیلئیدوحصوں میں تقسیم ہو گئے اورکوریا آج تک سیاسی طورپرمنقسم ہے۔گویاکوریا:وہ جنگ جس کااختتام ہوا،فیصلہ نہیں۔یہ جنگ امریکی عسکری تاریخ کا پہلا بڑا سبق تھی کسی مخالف فوج کوپیچھے دھکیل دیناآسان ہوسکتاہے،مگر ایک ایسے سیاسی تنازعے کوہمیشہ کیلئے ختم کرناکہیں زیادہ دشوارہے جس کے پیچھے بڑی طاقتوں کے مفادات اورمقامی قومیتیں کارفرما ہوں۔
اگرکوریاایک نامکمل فیصلہ تھاتوویتنام امریکی طاقت کیلئے ایک ایساآئینہ بن گیاجس میں پہلی مرتبہ عسکری قوت کی حدود پوری دنیاکونمایاں دکھائی دیں۔ویتنام میں امریکاکابڑھتاہوا کردارسردجنگ کیاس نظریے سے وابستہ تھاجسے ڈومینو تھیوری کہاجاتاتھا؛اندیشہ یہ تھاکہ اگرجنوبی ویتنام کمیونسٹ قوتوں کے ہاتھ آگیاتوجنوب مشرقی ایشیاکے دوسرے ممالک بھی یکے بعددیگرے اسی جانب جھک سکتے ہیں۔
1960کی دہائی تک امریکی فوجی موجودگی لاکھوں سپاہیوں تک پہنچ گئی۔دنیاکی جدیدترین فضائی قوت نے بمباری کی، جنگلات پرکیمیائی مادے برسائے گئے،دیہات خالی ہوئے اورایسی کارروائیاں ہوئیں جن کے اثرات نسلوں تک باقی رہے۔ لیکن میدانِ جنگ کی ایک حقیقت واشنگٹن کے عسکری منصوبہ سازوں کے سامنے روزبروزواضح ہوتی گئی: ویت کانگ اور شمالی ویتنامی افواج کیلئے یہ محض ایک نظریاتی جنگ نہ تھی؛ان کیلئے یہ قومی خودمختاری،تاریخی مزاحمت اوربیرونی اقتدارکے خلاف طویل جدوجہدکاتسلسل بھی تھی۔یہی وہ فرق تھاجسے صرف اعدادوشما سے سمجھناممکن نہ تھا۔امریکادشمن کے کتنے سپاہی مارسکتاہے،یہ ایک عسکری سوال تھا؛لیکن کتنے ویتنامی دوبارہ جنگ میں شامل ہونے کیلئے تیارہوں گے، یہ سیاسی اورتہذیبی سوال تھا۔
1968کاٹیٹ حملہ عسکری اعتبارسے شمالی ویتنام اورویت کانگ کیلئے بھاری نقصان کاباعث بنا،لیکن سیاسی اعتبارسے اس نے امریکی رائے عامہ کوجھنجھوڑدیا۔واشنگٹن کے ان دعوؤں پراعتبارمتزلزل ہونے لگاکہ فتح قریب ہے۔بالآخر1973 میں امریکی افواج کا بڑا حصہ واپس چلاگیااور1975میں سائیگون شمالی ویتنام کے قبضے میں آگیا۔سائیگون سے امریکی انخلاکی تصاویرمحض ایک جنگ کے اختتام کی تصویریں نہ تھیں؛وہ اس حقیقت کااستعارہ بن گئیں کہ جدیدترین اسلحہ بھی اس وقت بے بس ہوسکتاہے جب کسی جنگ کا سیاسی مقصد،مقامی حقیقت اورعوامی ارادہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہ ہوں۔ویتنام نے امریکا کو یہ درس دیا تھا۔افسوس یہ کہ تاریخ کے استاد کی آوازاکثرتوپوں کے شورمیں سنائی نہیں دیتی۔
ایران اورامریکاکے تعلقات کومحض حالیہ تصادم یاپابندیوں سے سمجھناایسا ہی ہے جیسے کسی درخت کے پتوں کودیکھ کر اس کی جڑوں کافیصلہ کرلیاجائے۔1953اس تاریخ کاایک اہم موڑہے۔ایرانی وزیراعظم محمدمصدق نے تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لینے کی کوشش کی۔برطانیہ کے ساتھ شدیدتنازع پیداہوااورامریکی وبرطانوی خفیہ اداروں نے ان کی حکومت کے خلاف ایک خفیہ آپریشن کی حمایت کی جس کے نتیجے میں مصدق اقتدارسے ہٹادیے گئے اورشاہ محمدرضاپہلوی کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔یہ واقعہ ایرانی اجتماعی یادداشت میں ایک ایسازخم بن گیاجس نے امریکاکے بارے میں گہرے عدم اعتمادکوجنم دیا۔1979 کے اسلامی انقلاب نے شاہی نظام ختم کیا،امریکی سفارت خانے کابحران پیداہو ااور دونوں ممالک کے تعلقات تقریباًمستقل دشمنی کی طرف چلے گئے۔1980کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران امریکاکی خلیج میں فوجی موجودگی بڑھی۔ 1988میںآپریشن پریئنگ مینٹس کے دوران امریکی اورایرانی افواج کے درمیان براہ راست بحری جھڑپ بھی ہوئی۔ اسی سال امریکی بحری جہازیوایس ایس وینسینیس نے ایران ایئرکی مسافرپرواز655کو مارگرایا،جس میں290افرادہلاک ہوئے۔ یہ سانحہ ایرانی ذہن میں آج بھی ایک گہرا تاریخی حوالہ ہے۔بعدکے عشروں میں پابندیاں، جوہری پروگرام،خلیجی سیاست،اسرائیل کی سلامتی،عراق،شام اورلبنان جیسے مسائل دونوں ممالک کوایک دوسرے کے مقابل کھڑاکرتے رہے۔جنوری2020میں بغدادمیں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے کشیدگی کونئی سطح تک پہنچادیا۔یہاں بھی بنیادی سوال یہی ہے:کیاکسی ریاست کومعاشی پابندیوں، عسکری دباؤیا محدود حملوں کے ذریعے مستقل طورپرایک خاص سیاسی راستہ اختیارکرنے پرمجبورکیاجاسکتاہے؟تاریخ کاجواب نہایت محتاط ہے۔
دباؤحکومتوں کوکمزوربھی کرسکتاہے،مگربعض اوقات وہی دباؤقوم پرستانہ جذبات کومضبوط،مخالف حکومت کوداخلی جوازفراہم اورخطے میں غیرریاستی اتحادیوں کے استعمال کوبڑھا دیتا ہے۔حالیہ موجودہ امریکی پالیسی کوچین کی توانائی کی ضروریات،ایران اوروینزویلاکے تیل اوربڑی طاقتوں کی معاشی رقابت سے بھی جوڑتاہے۔ توانائی،تجارتی راستے اوربڑی
 طاقتوں کی معاشی مسابقت ہمیشہ سے جنگ وامن کی سیاست کے اہم عناصررہے ہیں۔
11ستمبر2001کے حملوں کے بعدامریکاافغانستان میں داخل ہوا۔ابتدائی مقصدنسبتاواضح تھا:القاعدہ کے ڈھانچے کو تباہ کرنا اورطالبان حکومت کوہٹاناجس نے اسامہ بن لادن کوپناہ دے رکھی تھی۔چندہفتوں میں طالبان حکومت بڑے شہروں سے ہٹ گئی۔یہ عسکری فتح تھی۔لیکن اس کے بعدجنگ کی نوعیت بدل گئی۔دہشتگردی کے خلاف محدودکارروائی بتدریج ریاست سازی،جمہوری اداروں کی تعمیر،افغان فوج کی تشکیل،ترقیاتی منصوبوں،انسدادِبغاوت اورپورے سیاسی نظام کی تشکیلِ نو کے ایک عظیم منصوبے میں تبدیل ہوگئی ۔یہیں سے عسکری کامیابی اورسیاسی حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگا۔
افغانستان محض نقشے پرکھینچی ہوئی سرحدوں کانام نہیں تھا۔قبائلی تعلقات،نسلی تقسیم پاکستان وایران سمیت پڑوسی ممالک کے مفادات،بدعنوانی،مقامی طاقت کے مراکز،دیہی معاشرہ ، مذہبی روایت اورجنگ کی کئی دہائیوں نے ایساپیچیدہ سماجی منظر نامہ تشکیل دیاتھاجسے بیرونی طاقت کے ذریعے چندبرسوں میں ازسرنومرتب کرناتقریبا ناممکن تھا۔طالبان ختم نہیں ہوئے۔وہ دیہی علاقوں میں دوبارہ منظم ہوئے،سرحدی خطوں میں پناہ گاہیں تلاش کیں اوروقت کواپنے حق میں استعمال کیا۔امریکاکے پاس گھڑیاں تھیں؛طالبان کے پاس وقت۔یہ فرق بالآخرفیصلہ کن ثابت ہوا۔(جاری ہے)