خواجہ خالد آفتاب
امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کی منظوری ایک داخلی سیاسی واقعہ ہی نہیں بلکہ یہ عالمی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس قرارداد نے نہ صرف امریکی آئینی نظام میں اختیارات کے توازن کے سوال کو دوبارہ زندہ کیا ہے بلکہ دنیا بھر میں یہ پیغام بھی دیا ہے کہ جنگ اور امن کے فیصلے کسی ایک فرد کی خواہش پر نہیں بلکہ جمہوری اداروں کی اجتماعی دانش کے مطابق ہونے چاہئیں۔امریکی ایوانِ نمائندگان میں منظور ہونے والی اس قرارداد کے حق میں 215 اور مخالفت میں 208 ووٹ آئے۔ تمام ڈیموکریٹ ارکان نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ چار ریپبلکن اراکین بھی اپنی جماعتی قیادت سے ہٹ کر اس کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ ہوئے۔ ان اراکین میں تھامس میسی ،برین فٹز پیٹرک ، وارن ڈیوڈ سن اورٹام بیرٹ ( Thomas Massie، Brian Fitzpatrick، Warren Davidson اور Tom Barrett) شامل تھے۔
اس قرارداد نے بنیادی طور پر امریکی صدر کو پابند کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی طویل فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی واضح منظوری حاصل کریں، بصورت دیگر امریکی افواج کو واپس بلایا جائے۔ قرارداد میں 1973 کے وار پاور ریزولوشن (War Powers Resolution ) کو بنیاد بنایا گیا ہے، جو ویت نام جنگ کے تلخ تجربات کے بعد منظور کی گئی تھی تاکہ امریکی صدور کو کانگریس کی منظوری کے بغیر طویل جنگوں میں جانے سے روکا جا سکے۔اگرچہ اس قرارداد کو ابھی قانون کی مکمل شکل اختیار کرنے کے لئے اسے سینیٹ سمیت مزید مراحل سے گزرنا ہے، تاہم اس کی سیاسی اور سفارتی اہمیت غیر معمولی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے صدر کے جنگی اختیارات کو چیلنج کرنا خود اس امر کا اظہار ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے بارے میں امریکہ کے اندر بھی شدید تحفظات موجود ہیں۔اس قرارداد کے عالمی اثرات کئی جہتوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔سب سے پہلا اثر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ممکنہ خاتمے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے اس سے خلیجی خطے میں امن کے امکانات بڑھ جائیں گے اور وہ ممالک جو براہِ راست کسی ممکنہ جنگ کے اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں، انہیں بھی کسی حد تک اطمینان حاصل ہوگا۔
دوسرا اہم اثر عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارتی راستوں پر دباؤ ڈالا۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال نے توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا۔ اگر جنگ کے امکانات کم ہوتے ہیں تو عالمی منڈیوں میں استحکام پیدا ہوگا، تیل کی قیمتوں میں کمی بھی آئے گی اور ترقی پذیر ممالک کو معاشی ریلیف ملنے کے امکانات ہیں۔
تیسرا اثر بین الاقوامی سفارت کاری پر مرتب ہوگا۔ دنیا کے بہت سے ممالک، خصوصاً یورپی طاقتیں، طویل عرصے سے ایران کے ساتھ مسائل کا سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیتی رہی ہیں۔ اس قرارداد کی منظوری سے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت میں اضافہ ہوگا
اور عسکری راستے کے بجائے سیاسی حل کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
چوتھا اثر خود امریکی سیاست پر پڑ سکتا ہے کیونکہ یہ قرارداد اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی نظام میں ادارے اب بھی طاقتور ہیں اور کانگریس صدر کے فیصلوں پر نگرانی کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس سے دنیا بھر میں امریکی جمہوری نظام کے بارے میں ایک مثبت تاثر پیدا ہوگا کہ وہاں اختیارات مکمل طور پر کسی ایک شخصیت کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔
اس قرارداد کی منظوری نے امریکی ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ چار ریپبلکن ارکان کا اپنی ہی پارٹی قیادت کے خلاف جا کر ووٹ دینا اس بات کی علامت ہے کہ ایران کے معاملے پر خود حکمران جماعت کے اندر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ یہ اختلافات مستقبل میں امریکی خارجہ پالیسی کے تعین پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے بھی یہ پیش رفت اہم ہے۔ پاکستان ہمیشہ خطے کے تنازعات کے سفارتی حل کا حامی رہا ہے۔ اس قرارداد کی منظوری کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی یقیناً کم ہونے کے امکانات ہیں تو اس سے پورے خطے میں استحکام پیدا ہوگا، عالمی تجارت بہتر ہوگی اور توانائی کے بحران کے خطرات میں کمی آئے گی۔ امریکی کانگریس کا یہ اقدام دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ جنگ کے فیصلوں پر سوال اٹھانا جمہوری معاشروں کی طاقت ہے، کمزوری نہیں۔
آج جب دنیا یوکرین، غزہ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر تنازعات کے باعث غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، ایسے وقت میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد امید کی ایک کرن بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ فیصلہ دنیا کو اس حقیقت کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ طاقت کے استعمال سے زیادہ پائیدار راستہ مکالمہ، سفارت کاری اور بین الاقوامی باہمی تعاون ہے۔
اگر آنے والے دنوں میں اس قرارداد کی روح کے مطابق امریکی پالیسی تشکیل پاتی ہے تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آسکتی ہے بلکہ عالمی امن، توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی سطح پر معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے بھی مزید نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی اس قرارداد کی سب سے بڑی اہمیت اور اس کا سب سے بڑا عالمی اثر ہوگا #