دیساں وچوں دیس پنجاب اے سجنو

ثوبیہ شاہ، فیصل آباد

لاکھوں برس قبل جب انسانی تہذیب وجود میں آنا شروع ہوئی تو کلچر بھی خودبخود اپنی ارتقائی منازل طے کرتا گیا۔ مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی ثقافت یا کلچر بالکل مختلف ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پنجاب کے علاقے میں جو لوگ رہتے ہیں ان کی ثقافت برعظیم کے دیگر علاقوں سے ممتاز ہے۔ جو زبان یہ بولتے ہیں اسے پنجابی کہتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں تقریباً گیارہ سے بارہ کروڑ انسان پنجابی زبان بولتے ہیں۔ ان میں سے آٹھ کروڑ سے زیادہ پاکستانی پنجاب میں اور باقی بھارتی پنجاب اور تمام دنیا میں رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے بر عظیم کی قدیم زبانوں میں بشمول سنسکرت سے پنجابی زبان کا ظہور ہوا۔ موجودہ دور کی پنجابی ایک جدید اور مکمل زبان کی صورت میں ساتویں صدی میں ہی جوان ہو چکی تھی۔ 
پنجابی ادب کی مشہور تصانیف نویں صدی سے ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پنجابی زبانوں کی بولیوں ، کہاوتوں ، محاوروں ، پہلیوں لوک داستانوں جیسے ہیر رانجھا ، سوہنی مہینوال ، مرزا صاحباں، سسی پنوں اور قادر شاہ کے علاوہ "نادر شاہ دی وار" اور " جگنامہ " کے بغیر دنیا کے ادب کی تاریخ رقم نہیں کی جا سکتی۔جدید پنجابی زبان کی تاریخ سینکڑوں برس پر محیط ہے اور یہ "تھڑوں " پر بیٹھے "کمیوں" کی زبان نہیں بلکہ اس میں کسی بھی بڑی اور " تہذیب یافتہ " زبان سے زیادہ ادب ، شاعری ، قصے اور چاشنی موجود ہے۔ پنجابی ادب کی بات ہو اور صوفی شاعروں کا ذکر نہ ہو ، نا ممکن ہے یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں ہم بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں۔ کہ بر عظیم پاک و ہند میں اسلام کی ترویح کا ایک بڑا اور اہم ترین ذریعہ صوفیا کرام تھے۔ ان میں بابا فرید گنج شکر ،شاہ حسین ، حضرت سلطان باہو ، شاہ شرف ، بابا بلھے شاہ ، علی حیدر ، وارث شاہ ،میاں محمد بخش ، اور خواجہ غلام فرید نمایاں ہیں۔

جیڑے آکھن وچ پنجابی وسعت نئیں تہذیب نئیں 
پڑھ کے ویکھن ، وارث ، بلھا ، باہو ، لال پنجابی دا 

پنجاب میں قبل از مسیح دور کے تاریخی مقامات بھی موجود ہیں۔ ہڑپہ پاکستان کا ایک قدیم شہر ہے۔ جس کے کھنڈرات پنجاب میں ساہیوال سے 35 کلو میٹر پہلے کھدائی کے دوران ملے 1200 سو قبل مسیح سے بھی پہلے لکھی جانے والی ہندؤں کی کتاب رگ وید سے اس شہر کی تاریخ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ہڑپہ کی تہذیب اس زمانے کی انتہائی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی سے مزین تھی اور اس کے باسی زراعت ، شہری منصوبہ بندی ، تجارت ، برتن سازی اور مجسمہ سازی کے ماہر تھے۔ اس کے علاوہ وہ تجارت کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے میسو پوٹیمیا اور وسطی ایشیا سے بھی منسلک تھے۔
برصغیر کا ٹکرا افریقہ سے الگ ہونے کے بعد جب ہمالیہ رونما ہوئے تو اس کے دامن میں سواں کلچر یا سواں تہذیب ابھری۔
سوانین کلچر کا نام اسے 1930 میں اس وقت دیا گیا جب جرمن ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر ڈی ٹیرہ نے موجودہ سواں کیمپ تخت پڑی مور گاہ ، روات ،پنڈی گھیب، میال، نرگء ،سہالہ ، کہوٹہ ، ادھوال اور گوجر خان سے ملنے والے فوسلز اور انسانی ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو اسے ابتدائی پتھر کا زمانہ کہا ،اس کی تفصیلات ہم تک ییل یونیورسٹی کے معروف ماہر آثار قدیمہ جی۔ ای۔ لیوس نے پہلی مرتبہ 1910 میں پہنچائی تھیں۔ جنھوں نے یہاں پر ایسے فوسلز دریافت کیے جو ایک کروڑ سال سے زیادہ قدیم ہیں یہاں پتھروں کے ایسے اوزار بھی ملے جو 20 لاکھ سال تک پرانے ہو سکتے ہیں۔ اور ممکنہ طور پر انھیں جدید انسان سے پہلے آنے والے انسان نما جانداروں نے بنایا تھا۔ 
تاریخی حقائق دیکھیں تو پنجاب کی اہمیت کو کسی بھی طور کم نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب میں بیرونی حملہ آوروں کی آمد ہوئی۔ سکندر آیا تو اس کے سامنے پورس ڈٹ کے کھڑا ہوا اور دنیا کی مضبوط ترین فوج کا مقابلہ جوانمردی سے کیا۔ منگولوں سمیت جب کوئی یہاں حملہ آور ہوا تو پنجاب کے لوگوں نے مقابلہ کیا ، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ثابت کیا کہ گردن کٹوا لینا شکست نہیں جیت ہے۔ مغل دور میں دلا بھٹی جیسے ان گنت پنجابی مجاہدوں سے بہت آگے نکل کر دیکھیں تو ہمیں انگریز کے خلاف بھی پنجابی ہی میدان عمل میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ رائے احمد کھرل ہو یا پھر آزادی کا عظیم ہیرو فیصل آباد کا بیٹا بھگت سنگھ ، پنجابی ہر دور میں آزادی کی دلہن کے ماتھے کا جھومر دکھائی دیتے ہیں۔ اس خطے کے جوانوں نے کبھی شکست تسلیم نہیں کی۔
ملک کی ثقافت کی پہچان بہت ضروری ہے۔ ہر صوبہ تہذیب و ثقافت اپنی مثال آپ ہے۔ پنجاب رنگا رنگ ثقافتوں کی سر زمین ہے۔ پاکستان اپنی تہذیب و ثقافت میں الگ پہچان رکھتا ہے، لباس ، خوراک ، اور موسیقی سمیت ہر صوبے کے اپنے طور طریقے ہیں۔ ان میں پنجاب کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ 
دیساں وچوں دیس پنجاب اے سجنو 
جویں پھلاں و چوں پھل گلاب اے سجنو 
 پنجاب کا لفظ پنج اور آب سے مل کر بنا ہے۔ یہ پانچ بڑے دریاؤں کی سر زمین ہے۔ پنجاب کی تاریخ پنجند کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔ پنجاب میں گندم ، چاول ، مونگ پھلی ، مکء ، جوار باجرہ سمیت سبزیوں اور پھلوں کی بے شمار فصلیں اگائی جاتی ہیں۔ پاکستان گندم فروخت کر کے کثیر زرمبادلہ کماتا ہے۔
زرفشاں ہے میری زرخیز زمینوں کا بدن 
ذرہ ذرہ مرے پنجاب کا پارس نکلا
اچے برج لاہور کے ---------پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی تاریخ بھی بہت قدیم ہے۔ لاہور کی انتہائی قدیم تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ہے۔پرانوں کے مطابق رام کے بیٹے راجا لوہ نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی اور یہاں پر قلعہ بنوایا۔ دسویں صدی تک یہ شہر ہندو راجاؤں کے زیر تسلط رہا۔ گیارہویں صدی میں سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کر کے ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا اور لاہور کو اسلام سے روشناس کروایا۔
ملتان پیراں نال پر اے---------- مدینہتہ اولیاء￿  کی بات کریں۔ ملتان کی بات کریں تو 327 قبل مسیح میں سکندر نے اسے فتح کیا۔ پھر 712 عیسوی میں محمد بن قاسم نے فتح کیا اور اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ ملتان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ غوث العالمین ، شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی نے ملتان شہر میں اسلام کی تبلیغ شروع کیں اور بہت سے ہندو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ صاس شہر کو اولیائے کرام کا شہر کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کافی تعداد میں اولیاء￿  اور صوفیا کے مزارات ہیں۔ 
عشق یونہی تو نہیں ہے تیرے ملتان کے ساتھ
شمس کے شہر میں کچھ شمس نما رہتے ہیں۔

آزادی کے بعد فیصل آباد پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر بن کر ابھرا۔ اس کی معیشت کا بڑا انحصار کپڑے کی صنعت پر ہے۔ جو ٹیکسائل کا ہب Hub ہے یہ کراچی اور لاہور کے بعد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ اس کے آٹھ بازاروں کا ملک بھر میں شہرہ ان بازاروں کے عین وسط میں غرور اور وقار کے ساتھ سر اٹھائے کھڑا گھنٹہ گھر اس شہر کی پہچان ہے۔ موجودہ شہر اور اس کے گردو نواح میں ہر طرف ٹیکسٹائل ملز اور پاور لومز کا جال بچھا ہوا ہے صنعتی نیٹ ورک اور پارچہ بافی مضوعات کی بدولت اسے پاکستان کا مانچسٹر بھی کہا جاتا ہے۔
میاں محمد بخش نے فرمایا تھا۔
میلہ میلہ ہر کوئی آکھے ، میں وی آکھاں میلہ
جس میلے وچ میل نہ ہووے ، اوہ کاہدا جے میلہ
پنجاب اپنے میلوں ٹھیلوں کے لیے بھی بہت مشہور ہے------- ان میلوں میں پنجاب کی ثقافت اور تہوار کے سارے رنگ نظر آتے ہیں۔ پنجاب کے لوگ زندہ دل ہیں۔ پنجاب میں ہر تہوار بہت ذوق سے منایا جاتا ہے ان میں بسنت ، میلا چراغاں ، جوڑ میلہ ، بیساکھی بہت مقبول ہے۔ اس کے علاوہ عیدالفطر، عید الاضحی، عید میلادالنبی اور دیگر مزہبی تہواروں کو بھی بہت دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ پنجابی لوگ کھیل بہت شوق سے کھیلتے ہیں۔ پنجاب کے لوگ زیادہ تر گلی ڈنڈا، چور سپاہی ، یسو پنجو، کلی جوڑا اونچ نیچ کا پہاڑ کھیلتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بیشمار کھیل شامل ہیں۔
پنجابی لوگوں کا رہہن سہن اور طرز زندگی بہت سادہ ہے۔ لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔ پنجابی کھانوں کا الگ اور منفرد ذائقہ ہوتا ہے۔ سرسوں کا ساگ، مکھن اور مکء کی روٹی سب سے مقبول کھانا ہے۔اس کے علاوہ ساون میں مسی تندوری روٹی بھی شوق سے پکائی اور کھائی جاتی ہے۔ تندوری کھانے عام ہیں۔ پنجابی ثقافتی کھانوں میں مرغ تکہ ، آلو گوبھی ، پراٹھا ، دیسی لسی ، تندوری چکن ، زیرہ چاول ، پنجیری ، تڑکہ دال , سیویاں ، گاجر کا حلوہ ، اچار ، گوشت اور پنیر شامل ہیں۔ پانچ دریاؤں کی دھرتی ، پنجاب عظیم ورثے ، قدرتی مناظر ، مذہبی مقامات کی سیاحت ، تاریخی و قدیم مقامات و عمارات ، کلچر ، میلے ، کھانے ، شاندار روایات ، نایاب جنگلی حیات اور پھولوں سے بھی مالا مال ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مہمان نواز لوگ اور ورسٹائل لینڈ سکیپ موجود ہے اور یہاں کی بدلتی رتیں محبتیں بانٹتی ہیں۔ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ پنجاب کے علاقائی رسم و رواج اور ثقافتی روایات معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ پنجاب کے مختلف خطہ سطح مرتفع پوٹھوہار ، مشرقی پنجاب ، ملتان ، فیصل آباد، لاہور ، ہڑپہ ، سواں تہذیب ، پنجابی تہوار روایات ، کھیل ، کھانے طرز زندگی بودوباش کا رنگ اور متنوع ثقافتی حسن اپنی مثال آپ ہے اور ان علاقوں کی خوبصورت تہذیب و ثقافت اور تہذیب قابل قدر سرمایہ ہے۔ 
کہیں دیکھی نہیں اے شاد ہم نے ایسی خوشحالی
چلو اس ملک کو پنجاب میں تبدیل کرتے ہیں۔