سکھ دھرم اور پاکستان

 سید منیر حسین گیلانی

پاکستان عالمی نقشے پر اس خطے میں واقع ہے جہاں جغرافیائی،مذہبی ، سیاسی ،نظریاتی اور لسانی تنوع پایا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کی سرزمین پرچند شرپسندوں کو چھوڑ کرہر کوئی ایک دوسرے کے مذہب، مسلک ،زبان اور سیاسی نظریے کا احترام کرتا ہے۔ ماضی میںجب کبھی ان بنیادوں پر لڑائی جھگڑے رونما ہوئے ،ان کے پیچھے خفیہ ہاتھ ہی کارفرما رہے ہیں۔ کوئی نظریہ کسی دوسرے سے نفرت نہیں سکھاتا۔ باہمی احترام،رواداری، قدر مشترک اور درد مشترک کی بنیاد پر معاشرے میں امن برقرار رہتا ہے۔ دستیاب اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں تین فیصد غیر مسلم اقلیتیں بستی ہیں۔ پاکستانی ہونے کے ناطے ان کے شہری حقوق برابرہیں۔ آئینی حدود میںہر شہری کومذہبی آزادی حاصل ہے۔ پاکستان میں ہزاروں سکھ آباد اور درجنوں گوردوارے موجود ہیں۔البتہ ہندو پاکستان میں سب سے بڑی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔جبکہ بھارت میں مسیحی، اور مسلمانوں کے ساتھ جو بدسلوکی اور غیر انسانی رویہ رکھا جاتا ہے، ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں، آر ایس ایس کے غنڈوں کا رویہ ہی کافی ہے۔ بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر سے لے کر مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اوراسلام کے پیروکاروں کے خلاف ظالمانہ قانون سازی نے ثابت کردیا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں علیحدہ وطن کے لئے تحریک آزادی کامیاب کیسے ہوئی۔ قارئین کو یادہوگا 2021ء￿ میں ضلع رحیم یار خان میں ایک مندر کو نذر آتش کیا گیا تو حکومت نے تین دن کے اندر نہ صرف اسے بحال کیا بلکہ پہلے سے بہتر تعمیر کرکے آباد کردیا۔جبکہ اسی سال خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک میں بھی اس طرح کا واقعہ ہوا تو سپریم کورٹ نے مندر کی تعمیر کی فی الفور بحالی کا حکم دیتے ہوئے مولوی سمیت حملہ آوروں سے اخراجات وصول کرنے کا حکم دیا۔ جس سے ریاست پاکستان کی پالیسی کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔مجھے فخرہے کہ حکومت پاکستان نے سکھوں کے گردواروں کو آباد کیا ہے۔ کرتار پور راہداری، ننکانہ صاحب، لاہور، حسن ابدا ل اور دیگر مقامات پر سکھوں کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال سے ثابت ہے کہ سکھ ہمارا اثاثہ ہیں۔اسی طرح ہندو، مسیحی ، پارسی او ر دیگر اقلیتوں کو بھی مذہبی آزادی حاصل ہے۔
 چند دن پہلے ہمارے عزیزدوست علی رضا بھٹی کے والدمحترم کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے گاو ¿ں میرپور بھٹیاں جانے کا موقع ملا۔ کھیتوں میں گھرا یہ گاوں گرونانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب سے کوئی دس کلومیٹر فاصلے پر ہے۔میری خواہش پر باباگرو نانک کا گھر 
گوردوارہ جنم استھان دیکھنے کے انتظامات سینئر صحافی محترم نذیر بھٹی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر کلیان سنگھ کے ذریعے کئے۔ میرے پوتے آیان رضا گیلانی،عمران نقوی، ضمیر ترمذی اور پاراچنار سے محترم مظہر علی طوری بھی ہمراہ تھے۔ننکانہ صاحب سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لئے ایسے ہی مقدس ہے جیسا کہ ہمار ے لئے مکہ، مدینہ، نجف اور کربلا عقیدت کا مرکز ہیں۔ گرونانک کے گھر جا کر احساس ہوا کہ پاکستان نے سکھوں کے لئے کتنے اچھے انتظامات کئے ہیں۔ سکھ دھرم کی برصغیر میں ابتدا تلونڈی سے ہوئی ،جسے آج کل ننکانہ صاحب کہا جاتا ہے۔گرونانک نے اپنے کمالات اور انسانیت کے درس سے اپنے حلقہ احباب کو متوجہ کیا۔گرونانک اپنی حقیقت کا اظہار کچھ یوںکرتے ہیں:
ہندو کواں تے ماریا جاواں،مسلمان وی نہ
پنج تن دا میں پتلا، نانک میرا ناں
جب ہم جنم استھان میں داخل ہوئے تو عمران نبی نے ہمارا استقبال کیا، خدمات گزاروں نے جوتے اتار کر اپنے پاس ریک کے اندر رکھ لیے ، جب ہم واپس آئے تو ان جوتوں کو پالش اور صاف ستھرا کر کے ہمیںواپس کیا گیا۔ آگے بڑھے تو ہمیں چلتے پانی سے ننگے پاو ¿ں گزاراگیا۔ڈیوڑی میں ہماراسامنا دو خدمت گزاروں سے ہوا، جنہوں نے سر ڈھانپنے کے لیے ہمیں کپڑا دیا ہے۔یہاںتقریباً 10 سال کی بچی بھی یاتریوں کی خدمت میں مصروف تھی۔ متروکہ وقف املاک کے گائیڈ نے ہمیں گوردوارے بارے بریفنگ دی۔ گرونانک کی حویلی کے کنویںاور شہیدی درخت کی اپنی تاریخ ہے۔ یہاںغیر ملکی مہمانوں کو ٹھہرانے کے لیے وسیع بلڈنگ موجود ہے ،جہاںامریکہ، کینیڈا،بھارت اور دنیا بھر سے آنے والوںکو بہترین رہائش دی جاتی ہے۔
ہم ایک چھوٹے سے کمرے میں پہنچے جہاں پر سفید ریش سردارپریم سنگھ گرنتھی زمین پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے بڑے پرتپاک انداز سے ہمارا استقبال کیا۔ ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے، اور ان سے معلومات لینے لگے۔وہ بڑے پیار سے ہمارے سوالات کے جوابات دیتے رہے۔پتہ چلا کہ ان کے سامنے شیشے کا کیس سکھوں کی مذہبی کتاب گرو گرنتھ کے لئے مخصوص ہے،اس کی طرف پیٹھ کرنے کی اجازت نہیں ، اسے گستاخی سمجھا جاتا ہے۔باہر سردارپریم سنگھ کے ساتھ ہم نے گروپ فوٹو بھی بنایا۔یہاں سے فارغ ہوکر ہم دوبارہ سنگ مر مر سے بنے صحن میں آگئے، گرمی کی وجہ سے زمین پر پاو ¿ں رکھنا مشکل تھا۔صحن کے درمیان میں جنڈ کادرخت ہے،جس کے اردگرد چار دیواری پرکتبہ بھی لکھا ہوا ہے، اسے شہیدی درخت کہا جاتا ہے۔ بتایا گیا کہ باباگرونانک کے گھر پر ہندوو ¿ں نے قبضہ کر لیا تھا تو 200سکھ جوانوں نے اسے واگزار کرانے کے لئے حملہ کیا ، اس درخت پر سرداروں کو زندہ جلایا گیا۔اس واقعہ کی یاد کے طور پر اس شہیدی درخت کو سنبھال کر رکھا گیا ہے۔ اس کے قریب ہی ایک پالکی رکھی گئی ہے جو بھارتی وزیر اعلیٰ پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ خود وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے دور میں بڑے شوق سے لائے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ برصغیر میں مذہب کے نام پر بہت ساری تقسیم موجود ہے لیکن گرونانک کا نظریہ سکھ دھرم کے پیروکاروں کے ذہنوں میںخوب رچا بسا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں ،اپنے لباس ،پنجابی زبان سے پہچانے جاتے اور دیار غیر میں کسی قسم کی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ان کی گفتگو میں ایسی محبت اور اپنائیت ہوگی، جیسے کہ ایک ہی دیس کے بچھڑے دوست کسی دوسرے ملک میں 
ملیں۔ مگر ہم پاکستانی مسلمان ہیں کہ جس ملک میں بھی جائیں ،وہاں کی زبان بولتے ہیں، لباس بھی وہی پہنتے اورحتیٰ کہ اس کی تہذیب کوبھی اپنا لیتے ہیں،جیسے کہ وہ خود اسی ملک کے شہری اور تہذیب کے ماننے والے ہیں۔وہ پانی کی طرح ہیں کہ جس برتن میں بھی ڈالو اسی طرح کی مشکل اختیار کر لیتے ہیں۔حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ جہاں بھی ہوں ہمیںاپنی اسلامی تہذیب اور تمدن کا پیروکار بننے کے ساتھ اسلامی شناخت کو برقرار رکھنا چاہیے۔۔۔END۔۔۔