محمدعباس خان
6ستمبر1965ء یوم دفاع پاکستان۔ایک ایسا عظیم دِن جب پاکستان نے دْشمن کاغرورخاک میں ملایا۔وْہ دْشمن جوپاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعدسے ہی نہ صرف پاکستان کیخلاف سازشیں رچارہاتھا،مقبوضہ جموں وکشمیرپرغاصبانہ قبضہ کررہاتھابلکہ خطہ کانام نہادچوہدری بننے کی کوشش کررہاتھا۔لیکن۔وْہ کہتے ہیں ناں کہ’’غرورکاسرنیچا‘‘۔یہ وْہ وقت تھاجب پاکستان دْنیامیں نئی پہچان کے ساتھ اْبھررہاتھا۔سفارتی محاذپرجہاں نئے نئے محاذبن رہے تھے وہیں پاکستان اورچین کی دوستی مزیدمضبوط ہورہی تھی،سعودی عرب،ایران،خلیج،وسط ایشیاء ،یورپ حتیٰ کہ امریکہ کیساتھ بھی پاکستان کے تعلقات مزیدمضبوط ہورہے تھے۔ایسے میں دْشمن کوخوف تھاکہ جہاں مقبوضہ جموں وکشمیرکے حق خودارادیت کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادادیں منظورہوچکی تھیں وہیں دْشمن پاکستان کی ترقی وسفارتی محاذپرکامیابیوں سے بھی خائف تھااوردْشمن کے مذموم عزائم تھے کہ پاکستان پرحملہ کرکے نہ صرف دھاک بٹھائی جائے بلکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کامسئلہ بھی کمزورکیاجائے اوریوں پھر6ستمبر1965ء کی صبح بھارت نے اچانک لاہور کے تین اطراف سے حملہ کر دیا۔ لاہور میں داخل ہونے کیلئے دْشمن نے باٹا پور پل کی جانب رْخ کیا توپاکستان کی جانب سے نہربی آربی کاپل تباہ کردیاگیایوں بھارتی افواج ایک اِنچ لاہورکی جانب آگے نہ بڑھ سکی۔باٹا پور سے شکست کھانے کے بعد بھارت نے بھینی کے محاذ پر دباؤ سخت کر دیا۔یہ مقام باٹا پور سے سات میل شمال کی طرف واقع ہے۔ دشمن کا ارادہ تھا کہ وہ لاہور شہر کو ایک طرف چھوڑ کر بھینی کے راستے محمود بوٹی پر بند پر پہنچے اور وہاں سے راوی کے پل پر قبضہ کر کے لاہور کو راولپنڈی سے کاٹ دے۔ چنانچہ یہاں دشمن نے انیس حملے کیے اور تقریباً ڈیرھ ہزار گولے برسائے مگر ہر حملے میں منہ کی کھائی اور پسپائی اختیار کرتے ہوئے واپس بھاگنا شروع کردیا۔ برکی سیکٹر پر دشمن نے ایک ڈویڑن اور دو بریگیڈوں کی مدد سے حملہ کیا۔ پنجاب رجمنٹ کی ایک کمپنی دْشمن پر ٹوٹ پڑی اور پورے نو گھنٹے تک دشمن کی یلغار روکے رکھی۔ دشمن نے دوبارہ صف بندی کرنے کے بعد حملہ کیا تو پاکستان کی ٹینک شکن رائفلوں اور توپخانوں کے گولوں نے دشمن کو آڑے ہاتھوں لیا۔10 ستمبر تک دشمن نے چھ حملے کیے جنہیں مکمل پسپا کر دیا گیا۔بھارتی ہائی کمانڈ نے قصور کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی توبھیکی ونڈ اور کھیم کرن کے نواح میں افواج پاکستان کے عظیم ثپوتوں نے دْشمن کوایساتابڑتوڑجواب دیاکہ دْشمن اپنے ٹینک اورسازوسامان چھوڑکرواپس بھاگ پڑا۔اِسی طرح بھارتی فضائیہ جب محاذ پرآگے بڑھی تو پاکستانی طیارہ شکن توپوں سے جلد ہی پسپا ہو گئی۔ دشمن کے سات ٹینک تباہ ہوئے تو اس کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی اور کھیم کرن پر پاکستان نے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔بری،فضائیہ افواج کی شکست کے بعدجب بھارت نے بحری بیڑے آگے بڑھانے کی کوشش کی توپاکستان کے شاہینوں نے بھارتی بیڑوں کوواپس دھکیل دیا۔یوں ہرمحاذپرپسپائی کے بعدبھارتی افواج ہرمحاذسے واپس دوڑنے لگیں اورپھرپوری دْنیانے دیکھاکہ پاکستان کی عظیم افواج،حکومت پاکستان اورپاکستانی قوم نے دْشمن کوایسادندان شکن جواب دیاکہ آج چھ دہائیوں بعدبھی دْشمن کے زخم اوراِس کی ذلت تاریخ میں درج ہے جبکہ پاکستانی قوم کی قربانیوں اور فتح کوتاریخ میں سْنہری حروف سے لکھاگیاہے۔65ء کی جنگ کا پس منظر یہ تھا کہ 1962ء میں بھارت چین پر حملہ آور ہوا مگر منہ کی کھائی چین از خود جنگ بند نہ کردیتا تو بھارت صدیوں تک ذلت کے داغ دھو نہ سکتا۔اِسی طرح پاک چین دوستی سے خائف بھارت نے جب 1965ء میں پاکستان کوبھی آزمانے کی کوشش کی تواِسے ہمیشہ کی طرح شکست فاش سے دوچارہوناپڑا۔یوم دفاع پاکستان ایک تاریخی معرکہ ہے جس میں ہمت اور حوصلوں کی بے مثال تاریخ رقم ہے۔65ء کی فتح کے بعد پوری دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ پاکستان کی عوام اور افواج دشمن کے عزائم کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور اس کے منصوبے خاک میں ملا دیئے۔یوم دفاع پاکستان کا یہ عہد اور مقصد ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف اگر کسی نے بھی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کی تو اس کی آنکھیں پھوڑ دی جائیں گی جیساکہ گزشتہ برس ہی معرکہ حق اورآپریشن بنیان المرصوص کے موقع پرایک دفعہ پھرپاکستان نے دْشمن کوایسادندان شکن جواب دیاہے کہ آج ایک برس مکمل ہونے کے بعدبھی دْشمن کے اوسان خطا ہیں۔آج وقت کاتقاضا ہے کہ عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق مادرعزیزکی ترقی وخوشحالی کیلئے حکومت پاکستان،افواج پاکستان کے شانہ بشانہ مل کرکرداراداکیاجائے۔