قونصل خانہ بند کیا تو 27 اسرائیلی سفارتکار نکال دیں گے، اسرائیل کو برطانیہ کی دھمکی

قونصل خانہ بند کیا تو 27 اسرائیلی سفارتکار نکال دیں گے، اسرائیل کو برطانیہ کی دھمکی

برطانیہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کیا گیا اور وہاں تعینات برطانوی سفارتکاروں کا سفارتی درجہ ختم ہوا تو لندن 27 اسرائیلی سفارتکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو برطانیہ چھوڑنے کا حکم دے سکتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل میں برطانوی سفیر سائمن والٹرز نے اسرائیلی حکام کو برطانوی حکومت کا پیغام پہنچایا ہے۔ پیغام میں کہا گیا کہ قونصل خانے میں تعینات 27 برطانوی سفارتکار متاثر ہوئے تو برطانیہ بھی اتنی ہی تعداد میں اسرائیلی سفارتکاروں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ تاہم برطانوی سفارتخانے نے رپورٹ پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، جبکہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے بھی اس کی فوری تصدیق نہیں کی۔اسرائیل نے برطانوی قونصل خانے کو 8 اکتوبر 2026 تک بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے یہ فیصلہ برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق پابندیاں عائد کرنے اور ان بستیوں سے منسلک اشیا کی درآمد پر اقدامات کے ردِعمل میں کیا۔مشرقی یروشلم کا برطانوی قونصل خانہ تل ابیب میں قائم برطانوی سفارتخانے سے الگ کام کرتا ہے۔ یہ یروشلم، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں سے متعلق برطانیہ کے سیاسی اور قونصلر امور سنبھالتا ہے۔ قونصل خانہ بند ہونے کی صورت میں وہاں تعینات برطانوی سفارتکاروں کی سفارتی حیثیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
برطانیہ نے قونصل خانے کی بندش رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں کی ہیں۔ برطانوی قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور اسرائیلی حکام سے مذاکرات کیے، تاہم قونصل خانہ کھلا رکھنے پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ مذاکرات جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، مگر مقررہ تاریخ قریب آنے کے باعث معاملے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔قونصل خانے کی بندش کے اعلان کے ساتھ اسرائیل نے دیگر اقدامات بھی کیے تھے۔ ان میں غزہ سے متعلق امریکی قیادت والے رابطہ مرکز سے برطانوی نمائندوں کو ہٹانا، رام اللہ میں فلسطینی سیکیورٹی فورسز کی تربیت میں برطانوی کردار ختم کرنا اور بعض برطانوی سیاست دانوں و شخصیات کے اسرائیل یا مقبوضہ علاقوں میں داخلے پر پابندی شامل ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق برطانوی پابندیاں ہیں۔ لندن کا مؤقف ہے کہ بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کا تشدد خطے میں امن اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسرائیل نے برطانوی اقدامات کو یک طرفہ اور اپنے خلاف قرار دیا ہے۔