یورپ میں بم کی جھوٹی دھمکیوں سے درجنوں پروازیں متاثر

یورپ میں بم کی جھوٹی دھمکیوں سے درجنوں پروازیں متاثر

یورپ کے مختلف ممالک میں مسافر طیاروں کو بم کی جھوٹی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد فضائی سفر کا نظام شدید متاثر ہوگیا۔

 ایک ہی دن میں تقریباً 30 پروازوں کو بم کی دھمکیاں دی گئیں، جس کے باعث متعدد ہوائی اڈوں پر ہنگامی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے، کئی طیاروں کا رخ دوسرے ایئرپورٹس کی جانب موڑ دیا گیا جبکہ بعض پروازوں کو لڑاکا طیاروں نے حفاظتی حصار میں لے کر بحفاظت لینڈنگ کروائی۔تفصیلات کے مطابق یورپ کے مختلف فضائی راستوں پر سفر کرنے والی پروازوں کو پراگ، پیرس، روم، برسلز، میلان اور صوفیا سمیت متعدد شہروں کے لیے بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ ان دھمکیوں کے بعد متعلقہ ممالک کے فضائی اور سیکیورٹی حکام نے فوری طور پر ہنگامی اقدامات شروع کردیے۔فرانس میں ڈبلن سے روم جانے والی ایئر لنگس کی پرواز کو سیکیورٹی خدشات کے باعث لڑاکا طیاروں نے روک کر ایک فوجی اڈے پر اتارا۔ طیارے کی لینڈنگ کے بعد سیکیورٹی حکام نے ضروری کارروائی اور تلاشی کے انتظامات کیے۔اسی طرح بلغاریہ میں تین مسافر طیاروں کو لڑاکا طیاروں کی مدد سے بحفاظت زمین پر اتارا گیا۔ حکام نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر طیاروں کی نقل و حرکت اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے۔

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں پیرس جانے والی ایل او ٹی ایئرلائن کی پرواز کو ٹیک آف سے قبل روک دیا گیا۔ طیارے کو سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے روکنے کے بعد متعلقہ حکام نے اس کی جانچ پڑتال کی۔دوسری جانب اسپین میں بھی متعدد مسافر پروازوں کی تلاشی لی گئی اور مشکوک اطلاعات کے پیش نظر ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔ ان واقعات کے باعث مختلف ایئرپورٹس پر پروازوں کے شیڈول متاثر ہوئے اور مسافروں کو تاخیر اور سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔حکام کے مطابق تاحال ان دھمکیوں کے پیچھے کسی ملک، تنظیم یا گروہ کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ واقعے کی نوعیت اور دھمکیوں کے ذرائع کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب سیکیورٹی ماہرین نے ان واقعات کو ممکنہ طور پر مربوط ہائبرڈ حملوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیوں کا مقصد براہ راست حملے کے بجائے خوف و ہراس پھیلانا، اہم نظاموں میں خلل ڈالنا اور سیکیورٹی اداروں کے وسائل کو مصروف رکھنا بھی ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ یورپی ممالک ماضی میں مختلف تخریبی کارروائیوں اور ہائبرڈ حملوں کے الزامات روس پر عائد کرتے رہے ہیں، تاہم روسی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ موجودہ واقعات میں بھی روس یا کسی دوسرے ملک کے ملوث ہونے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔