لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک ہوگئی، شہر آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست آگیا جبکہ آلودہ فضا نے شہریوں کا سانس لینا بھی دشوار کر دیا۔
شہر کے مختلف علاقوں میں اسموگ اور آلودگی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں، جس کے باعث شہریوں کو صحت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 435 ریکارڈ کیا گیا، جو فضائی آلودگی کی انتہائی خراب صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق علامہ اقبال ٹاؤن میں ایئر کوالٹی انڈیکس 828 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برکی روڈ پر آلودگی کی شرح 537 تک پہنچ گئی۔ اسی طرح بیدیاں روڈ پر اے کیو آئی 459 اور ڈی ایچ اے فیز فائیو میں 453 ریکارڈ کیا گیا۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں فی الحال بارش کا کوئی امکان نہیں اور موسم خشک رہنے کی توقع ہے۔ شہر کا موجودہ درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 ڈگری اور کم سے کم 16 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔
موسمیاتی اعداد و شمار کے مطابق شہر میں ہوا کی رفتار 6 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 60 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بارش نہ ہونے اور موسم خشک رہنے کے باعث فضائی آلودگی میں کمی کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔ماہرین صحت نے شہریوں کو فضائی آلودگی کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز، باہر نکلتے وقت معیاری ماسک پہننے اور خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کے مسائل سے دوچار افراد کا خاص خیال رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آلودہ فضا میں زیادہ دیر رہنے سے سانس کی تکالیف، آنکھوں میں جلن، کھانسی اور دیگر طبی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور فضائی آلودگی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اپنائیں۔