5 سال میں لڑکیوں کے اغوا کے 14 ہزار کے مقدمات درج ہوئے، 452 خواتین کو ابھی تک بازیاب نہیں کروایا جا سکا، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ڈیٹا پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا
لاہور (آئی این پی ) لاہور ہائی کورٹ نے خاتون کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران آئی جی پنجاب کو11 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔عدالتِ عالیہ میں خاتون کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں 5 سال کے دوران لڑکیوں کے اغوا سے متعلق پولیس رپورٹ پیش کی گئی۔پولیس رپورٹ کے مطابق 5 سال میں لڑکیوں کے اغوا کے 14 ہزار کے قریب مقدمات درج ہوئے، 452 خواتین کو ابھی تک بازیاب نہیں کروایا جا سکا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے 2026 کا ڈیٹا پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔جس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت سے درخواست کی کہ رپورٹ پیش کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ڈی آئی جی کرائم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ غفلت کے مرتکب تفتیشی افسران کو شوکاز دیا ہے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ مسنگ خواتین کے معاملے پر جو بندہ لگایا وہ ٹک ٹاک بناتا رہتا ہے، کیا ٹک ٹاک بنانے کی رولز میں اجازت ہے؟۔ڈی آئی جی کرائم نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ جو ٹک ٹاک بناتا ہے اس کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ ایک خاتون نے بیٹی کی بازیابی کیلئے درخواست دائر کر رکھی ہے۔