وزیراعلی ہو تو ایسی!

ڈاکٹر جاوید اقبال

حضرت علی بن عثمان المعروف حضور داتا گنج بخش (رح) اپنی تصنیف  'کشف المجوب' میں فرماتے ہیں
"  مشائخ کرام کے ہاں یہ دستور تھا کہ جب کوء مرید ان کے پاس آتا تو اسے تین سال میں تین باتوں کی تعلیم دیتے ؛
پہلے سال خدمت خلق ،
دوسرے سال خدمت حق اور تیسرے سال اپنے قلب کی نگہداشت۔
اگر وہ اس پر قیام کرتا تو اسے قبول کر لیتے وگرنہ کہہ دیتے طریقت اسے قبول نہیں کر رہی "
حضور داتا گنج بخش (رح) کی تعلیمات میں اگر ہم بات خدمت کی کریں۔
بلاشبہ اللہ کے ہاں
 مخلوق کی خدمت کرنے والوں کا مقام بیان کرنا مشکل ہے۔
مرشدی حضرت واصف علی واصف (رح) کا قول بھی ہے " عبادت اس مقام تک نہیں پہنچاتی جہاں تک مخلوق کی خدمت پہنچاتی ہے "
اسی خدمت کا اعلان چند دن پہلے میں نے سنا ، جب دختر پاکستان محترمہ مریم نواز شریف جن کو یہ ناچیز سپر سی ایم لکھتا ہے۔
انہو ں نے ایک جگہ خطاب کرتے ہوئے کہا۔
" اللہ تعالی نے مجھے مخلوق کی خدمت کے لئے چنا ہے ، موقع دیا ہے اور یہ موقع پروٹوکول انجوائے کرنے ، پیسے بنانے کے لئے نہیں ہے بلکہ اللہ پاک نے جو موقع دیا ہے ، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، اس کی مخلوق کی خدمت کر کے انسان کو اپنی دنیا اور آخرت بنانی چاہیئے "
بہت خوب بہت اعلی زبردست کیا کہنے۔
آپ نے اس بات کا اعادہ پہلے ہی کر دیا تھا۔جب آپ کو وزیراعلی پنجاب کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔اس وقت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں آپ نے فخر پاکستان میاں محمد نواز شریف کو بھاری مینڈیٹ دینے پر پنجاب کی عوام کا شکریہ ادا کیا وہاں خدمت خلق سے سرشار جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ " اللہ پاک مجھے اپنی مخلوق کی بہترین انداز میں خدمت کی توفیق عطا فرمائے "
آج ایک سال بعد مجھے لگ رہا کہ اللہ پاک  نے سی ایم صاحبہ کی دعا کو قبول فرمایا ہے۔
آپ نے پنجاب میں ایسے ایسے سنہری کام کئے ہیں ، جن کی پہلے نظیر نہیں ملتی ہے۔
راقم چند دن پہلے اپنے آباء علاقے خیریور ، بہاولپور گیا۔عبدالحکیم  سی پیک موٹروے انٹرچینج سے اترتے ہی جس سڑک پر تین تین فٹ کے گڑھے تھے ، وہ کالا شاہ کاکو تک کارپٹ روڈ بن چکی تھی۔کالا شاہ کاکو شہر میں نء سڑک زیر تعمیر تھی۔وہاں سے وہاڑی ، ھیڈ اسلام تک بہترین روڈ بن چکی تھی ، حتی کہ لڈن کی وہ سڑک جو پچھلے کء سالوں سے گہری کھائی کا منظر پیش کرتی تھی۔وہ بھی زیر تعمیر تھی۔
یہاں ینگ ، متحرک وزیر مواصلات پنجاب جناب ملک صہیب بھرت کی تعریف کرنا تو بنتا ہے۔
اب بات سڑکوں کی بحالی پر ہی ختم نہیں ہوتی ہے۔
خاکسار جس جس شہر سے گزرا ، تجاوزات کا خاتمہ ہو چکا تھا۔
میرے کزن نے بتایا۔ہمارے شہر کے بازار کھلے ہو چکے ہیں ، جگہ جگہ سڑک ، فٹ پاتھوں پر کھڑی ریڑھیوں کا داخل دفتر کر دیا گیا ہے یعنی ہر شہر نکھر کر سامنے آ گیا ہے۔
اس میں کوء مبالغہ آرائی نہیں کہ وزیراعلی پنجاب کی ٹیم کا تجاوزات کا مکو ٹھپنے کے ساتھ ساتھ صاف ستھرے ، صحت مند پنجاب کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے نے پنجاب کی شکل بدل دی ہے۔
خاکسار نے پہلی بار چھوٹے چھوٹے شہروں میں ویسٹ منیجمنٹ کے ڈرم (کوڑا دان) دیکھے اور میرے علم میں یہ بھی آیا ہے کہ اسٹنٹ کمشنر ، ڈی سی ، کمشنر روزانہ کی بنیاد پر اس حوالہ سے رپورٹ لیتے ہیں۔
ابھی دو دن پہلے میرے عزیز نے بتایا۔اس کو سی ایم پروگرام کے تحت قسطوں پر گرین موٹرسائیکل ملا ہے۔ 
یہ سن کر دل باغ باغ ہو گیا کہ عاجزی و ایمان داری کی عمدہ مثال جناب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی سابق سیکریٹری ٹرانسپورٹ کی محنت رنگ لے آء ہے۔
میں نے کل اخبار میں پڑھا۔پنجاب حکومت مفت پلاٹ بھی دے رہی ہے۔سولر تو پہلے ہی عوام کو ملنے کی نوید آ چکی ہے۔طلباء￿  میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے جا رہے ہیں۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں زیر تعلیم میری بیٹی کو بھی لیپ ٹاپ ملا ہے۔سکولوں کی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔پنجاب دستک پروگرام۔لائیو سٹاک کارڈ۔کسان کارڈ۔ہمت کارڈ برائے معذوراں۔دھی رانی پروگرام۔آسان کارباور کارڈ۔خواتین کی حفاظت کے لئے پروگرام۔لاہور سے پنڈی بلٹ ٹرین کا قابل قدر منصوبہ۔صحت کارڈ۔شوگر (ذیابیطس) ہیپاٹائٹس ، امراض قلب ، ٹی بی ، کینسر کے مریضوں کو ادویات بشمول انسولین ان کی دہلیز تک پہنچانا خدمت کا اعلی نمونہ ہیں اور سب سے بڑھ کر پنجاب کے ٹیچنگ اسپتالوں میں سی ایم صاحبہ کا خود جا کر مریضوں کی تکالیف سن کر ان کے دکھوں کا مداوا کرنا ،
ان کے انسان دوست ہونے کا بہترین ثبوت ہے۔
اسپتالوں کا ذکر چل پڑا ہے تو یہاں مریم نواز ہیلتھ کلینک کا ذکر کرنا ضروری ہے۔
باکمال ، لاجواب وزیر پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ جناب خواجہ عمران نذیر و ایکٹو ، انرجیٹک ، انتہائی قابل سیکریٹری مسز نادیہ ثاقب کا اس پروجیکٹ کے لئے دن رات کام کرنا تاکہ عام سکھی ہو سکے ، وزیراعلی کے خواب کی تعبیر ہے۔
ان دونوں شخصیات اور انکی پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا جانا چاہیئے۔
شکر الحمد اللہ!
محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری کی انتھک محنت سے ہم اس سال ڈینگی سے بھی محفوظ رہے ہیں۔
راقم عوامی صحت کے لئے صاف پینے کے پانی کا ذکر کء بار اپنے کالموں میں کر چکا ہے۔
کاش ہمیں محترمہ مریم نواز شریف ایسی وزیراعلی پنجاب پہلے میسر آتی۔
آپ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے لاہور کے 75 سالہ بوسیدہ سیوریج سسٹم  ، سڑکوں سمیت گلی محلوں کی حالت بدلنے کے لئے 137 ارب خرچ کرنے پر لاہوریوں کے دل جیت لئے ہیں اور صحافیوں کی ہر دل عزیز ، انتھک محنتی ، سٹیل نروز کی مالک وزیر اطلاعات پنجاب  میڈم عظمی بخاری جی نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ
لاہور جسے پاکستان کا دل کہتے ہیں۔اس کو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں شامل کرنا عالمی سطح پر بڑی کامیابی ہے جبھی تو تینوں صوبوں کی عوام محترمہ مریم نواز شریف بارے یہ کہتی نہیں تھکتی ہے۔
وزیر اعلی ہو تو ایسی!