وزیراعلی پنجاب کے نام

ڈاکٹر جاوید ملک

اسلام آباد دوستوں کی محفل میں جب بھی میرے کالم زیر بحث آتے ہیں۔
ڈاکٹر اسلم کی صلواتیں مجھے سننا ہی پڑتی ہیں کہ حضور کبھی ڈاکٹروں کے مسائل پر بھی لب کشائی فرما دیا کریں ؟
سپر سی ایمجن کی مدح سرائی میں آپ نے کالم لکھ لکھ کر اخیر کر دی ہے۔ان کے قابل احترام وزراء￿  صحت ، سیکٹریز چوبیس گھنٹے مریضوں کے لئے ہلکان نظر آتے ہیں۔سرکاری اسپتالوں کے طوفانی دورے کرتے ہیں۔مریضوں سے بار بار سوال کرتے ہیں۔آپ کو باہر سے دوالانے کے لئے تو نہیں کہا گیا ؟آپ کی بستر کی چادر روزانہ تبدیل ہو رہی ہے ؟
وراڈ کا ائرکنڈیشنڈ چل رہا ہے ؟ڈاکٹرز ، سٹاف نرسز کا رویہ کیسا ہے ؟آپ اپنے علاج سے مطمئن ہیں ؟اگر شکایت ہے تو بتائیں ، ابھی سب کو لائن حاضر کر دیتے ہیں۔اس سلسلہ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائی گی۔ڈاکٹر اسلم نے کہا ، بہت خوب ، کیا ڈاکٹروں سے آکر بھی آج تک کسی نے پوچھا ہے جناب آپ کے کمرے میں ائرکنڈیشنڈ ہے کے نہیں ؟آپ کے پینے کے لئے ٹھنڈا پانی مسیر ہے کے نہیں ؟آپ اور مریضوں کے کھانے پینے کے لئے اسپتال میں کیفے ٹیریا نام کی چیز ہے کے نہیں ؟جہاں سے آپ ایک فون کال پر کچھ منگوا لیں تاکہ ایمرجنسی وارڈ نہ چھوڑنا پڑے اور انسان ہونے کے ناطے اگر رات ڈیوٹی پر نیند غالب آنے لگے تو کوء چائے ، کافی کا آدھا کپ بھی میسر آتا ہے کے نہیں اور صاف واش روم نام کی کسی شے کا وجود بھی ہے کے نہیں ؟ اور
اف خدایا !بارہ ، بارہ گھنٹے کی نائٹ ڈیوٹی ، گھر میں سب خیریت ہے ناں ؟آپ کے عمر رسیدہ بیمار والدین کیسے ہیں ؟
کوئی ذاتی مسئلہ ہے تو ڈسکس کریں کیونکہ جب تک ڈاکٹر صاحب آپ ٹھیک نہیں ہوں گے۔مریضوں کا علاج کیسے ہو گا ؟
میرے ڈاکٹر دوستوں نے سرد آہ بھرتے ہوئے مجھ سے سوال کیا ؟ایسی مرہم پٹی مریضوں کے ہی مقدر میں کیوں لکھی جاتی ہے ؟
ڈاکٹر اور طبی عملہ اس سے مبرا کیوں ہے ؟کیا ڈاکٹر ربورٹ ہیں ؟کیا ان کو نیند نہیں آتی ہے ؟کیا وہ کھاتے پیتے نہیں ہیں ؟کیا ان کے مسائل نہیں ہیں ؟کیسا اصول ہے کہ اعلی حکام اپنے دورے کے دوران ہمیشہ ڈاکٹروں کی بے عزتی ہی کریں گے ؟ان سے سیکڑوں مریض چیک کروائے جائیں گے۔اس ڈرل میں مریضوں کا صحیح طریقے سے بھلے معائنہ ہو یا نہ ہو ، مریضوں کی تسلی سے بات سنی جائے یا نہ سنی جائے ، بس روزانہ کے دو سو مریض ایک ڈاکٹر نے دیکھنے ہی دیکھنے ہیں یعنی کوالٹی نہیں کوانٹیٹی پر زور رکھا جائے گا۔محفل میں موجود ڈاکٹر سلمان نے جو مجھے پکا ن لیگی سمجھتا ہے۔بڑی ہی عجیب بات کر دی کہ آجکل ہر طرف کلینک آن ویل (پھیری والے ڈاکٹر) کے چرچے ہیں جہاں پیراسٹامول ، ایک اینٹی بائیوٹک کے سوا تمہاری حکومت دے ہی کیا رہی ہے ؟
پتہ نہیں کون دور کی کوڑی لایا ہے ؟کس آئن سٹائن نے بی بی صاحبہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کلینک آن ویل ایسا منصوبہ شروع کرایا ہے ؟
ڈاکٹر سلمان نے زور دے کر کہا۔تم لکھتے کیوں نہیں ؟ن لیگ سے پیار کرنے والے اہل دانش لوگ کلینک آن ویل کو نیب کا پھندہ قرار دے رہے ہیں۔کہنے والے اربوں روپے کے اس پروگرام کو صرف اور صرف سیاسی لوگوں کو نوازنے اور ڈاکٹروں کو گلی گلی کھجل کرانے کا نسخہ کیمیاء￿  قرار دے رہے ہے۔ڈاکٹر سلمان نے کہا۔کیا آپ کو معلوم ہے ؟محکمہ صحت کے اعلی حکام کے احکامات ہیں کہ مریض آئے یا نہ آئے ، روزانہ کی دو سو مریضوں کی فیک انٹریز کرنی ہی کرنی ہے ، یہی صورت حال ڈینگی مریضوں کی بھی ہے جبھی تو میڈم وزیراعلی کو سال میں ایک کروڑ پچیس لاکھ مریض چیک کرنے کا بتا کر نمبر ٹانکے جا رہے ہیں۔ان الفاظ کو سنتے ہی محفل میں دیار غیر سے آئے ڈاکٹر علی نے کہا۔یار کیوبا میں مریض کم ہیں اور ڈاکٹر زیادہ ہیں ، وہاں پرہیز علاج سے بہتر کے فارمولے پر عمل کیا جاتا ہے ، کمال حیرت ہے ، یہاں سوا کروڑ مریض چیک کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔بیرون ملک اس بات پر محکمہ صحت کی باز پرس ہوتی کہ سوا کروڑ لوگ بیمار ہیں ، آپ کر کیا رہے ہیں ؟وہاں بیٹھا ڈاکٹر ارشاد جو پکا ن لیگی ہے۔اس نے میری کلاس لینا شروع کر دی کہ حضور مانا آپ ایم ایس ایف قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور کے صدر رہے ہیں۔کارکن لور نواز شریف سے محبت آپکے خون میں شامل ہے۔آپ ہر پانچویں ، ساتویں دن وزیراعلی پنجاب ، وزراء￿  ، بیوروکریسی کے ترانے پڑھتے ہوئے ، ان بے وفا لوگوں کے حق میں کالم لکھنے سے باز نہیں آتے ہیں۔
لگے ہاتھوں اپنے کالم میں وزیراعلی پنجاب سے عرض کریں۔یکم جولائی سے پی ایچ ایف ایم سی کا بوریا بستر گول کرنے کی شنید ہے۔
ہزاروں ملازمین بشمول بیوہ و طلاق یافتہ خواتین ، گھر کے واحد کفیل ، بوڑھے والدین اور کم سن بچے ، بچیوں کے وارث  یک جنبش قلم لاوارث ہو رہے ہیں۔کوئی فکر کرنے والا نظر نہیں آ رہا ہے۔ڈاکٹر ارشاد نے بڑے دکھی دل سے کہا۔
کاش کسی نے نوکریوں سے فارغ کئے جانے والوں ان بے بس لوگوں کی آنکھوں میں دھکتی آگ کو دیکھا ہو ؟
ڈاکٹر ارشاد نے منت ترلہ کرتے ہوئے مودبانہ گزارش کی۔
براہ کرم!ارباب اختیار ملازمین پر رحم کھائیں ، کسی ایک بھی شخص کے گھر کا چولہا نہ بجھنے دیں۔
کہیں ایسا نہ ہو۔بے روزگار ہونے والے کسی ایک بھی شخص کا آنسو اللہ کا عرش ہلا دے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے۔
اس بات کو سننے کے بعد محفل کے افسردہ ماحول میں بیٹھے تمام دوستوں نے یک زبان ہو کر کہا۔
یہ کام صرف خدا ترس محترمہ مریم نواز ہی کر سکتی ہیں۔اللہ ان کو ہمت و استقامت عطا فرمائے۔آمین