دنیا کی 90 فیصد آبادی کوماحولیاتی بحران کا سامنا ہے: ورلڈ بینک

 کم آمدنی والے ممالک میں ہر 10 میں سے 8 افراد تینوں سہولتوں یعنی صحت مند ہوا، پانی اور زمین سے محروم ہیں
  جنگلات کے خاتمے سے بارش کا نظام متاثر، زمین خشک،قحط مزید سنگین ، اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے:رپورٹ
واشنگٹن (آئی این پی)ورلڈ بینک   کی جانب سے  انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی 90 فیصد آبادی ماحولیاتی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ میڈیا   رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف  عالمی بینک کی نئی رپورٹ  کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق   دنیا کی نوے فیصد آبادی یا تو انسانی سرگرمیوں سے متاثرہ زمین پر رہ رہی ہے، یا غیر صحت مند ہوا اور پانی کی قلت کا شکار ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی نظاموں کی بحالی ممکن ہے اور اس کے بڑے فوائد حاصل  کئے جا سکتے ہیں۔عالمی بینک کے مطابق کم آمدنی والے ممالک میں ہر 10 میں سے 8 افراد تینوں سہولتوں یعنی صحت مند ہوا، پانی اور زمین سے محروم ہیں۔ریبوٹ ڈیولپمنٹ: دی اکنامکس آف اے لیویبل پلانیٹ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں مزید  کہا گیا ہے کہ جنگلات کے خاتمے سے بارش کا نظام متاثر ہوتا ہے، زمین خشک ہوجاتی ہے اور قحط مزید سنگین ہوجاتا ہے، جس سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔رپورٹ میں نائٹروجن کے تضاد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں کھادیں فصلوں کی پیداوار بڑھاتی ہیں لیکن ان کے بے تحاشا استعمال سے بعض علاقوں میں فصلیں اور ماحولیاتی نظام متاثر ہوتے ہیں، اس عمل سے سالانہ 3 کھرب 40 ارب ڈالر تک کا نقصان ہوتا ہے، اسی طرح ہوا اور پانی کی آلودگی خاموشی سے انسانی صحت، پیداواریت اور سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جس کے باعث انسانی صلاحیتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ میں  بتایا گیا ہے کہ اگر فطرت کا درست انتظام کیا جائے تو یہ روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے، معیشت کو فروغ دے سکتی ہے اور لچک پیدا کر سکتی ہے