وفاقی وزیر صحت نے اسلام آباد کے شہریوں کیلئے ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کا آفتتاح کردیا

وفاقی وزیر صحت نے اسلام آباد کے شہریوں کیلئے ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کا آفتتاح کردیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن میں ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح کردیا، جس کے تحت عوامی شکایات کے اندراج اور ان کے فوری ازالے کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1166 متعارف کرایا گیا ہے۔

وزارتِ صحت کے مطابق نئے نظام کے ذریعے شہری وزارتِ صحت اور اس کے ماتحت اداروں سے متعلق اپنی شکایات براہِ راست فون کال کے ذریعے درج کرا سکیں گے۔ اس سہولت کا مقصد عوام کو شکایات کے اندراج کے لیے مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی زحمت سے بچانا اور شکایات کے حل کے عمل کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنانا ہے۔

شکایات خودکار نظام کے تحت متعلقہ محکمے کو بھجوائی جائیں گی

نئے ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے تحت شہریوں کی جانب سے درج کرائی جانے والی شکایات خودکار طریقے سے متعلقہ افسر یا محکمہ صحت کو منتقل کی جائیں گی۔شکایت موصول ہونے سے لے کر اس پر کارروائی اور مسئلے کے حل تک تمام مراحل کی باقاعدہ نگرانی کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ہر شکایت کو متعلقہ ذمہ دار افسر کے سپرد کرنے اور اس پر ہونے والی پیش رفت کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا۔وزارتِ صحت نے شکایات کی نگرانی کے لیے ایک مرکزی ڈیش بورڈ بھی قائم کیا ہے، جس کے ذریعے شکایات کی صورتحال اور ان کے حل میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے گا۔

وزیر صحت خود شکایات کی نگرانی کرسکیں گے

مرکزی ڈیش بورڈ کی مدد سے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اپنے دفتر میں بیٹھ کر شہریوں کی شکایات، متعلقہ محکموں کی کارروائی اور مسائل کے حل کی صورتحال براہِ راست دیکھ سکیں گے۔اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ مختلف علاقوں میں درپیش بیماریوں اور صحت سے متعلق مسائل کی نشاندہی میں مدد مل سکے گی۔ شکایات کے ڈیٹا کی بنیاد پر وزارتِ صحت کو یہ جاننے میں آسانی ہوگی کہ کن علاقوں یا اداروں میں شہریوں کو زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔

اسپتالوں میں شکایات کے ازالے کے لیے ذمہ دار افسران مقرر ہوں گے

نئے نظام کے تحت ہر شکایت کے ازالے کے لیے متعلقہ اسپتال میں ایک نامزد ذمہ دار افسر مقرر کیا جائے گا، جو شکایت پر کارروائی اور اس کے حل کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوگا۔اس اقدام سے اسپتالوں میں شہریوں کی جانب سے درج کرائی جانے والی شکایات کا مرکزی اور قابلِ سراغ ریکارڈ مرتب ہوگا۔ وزارتِ صحت کو اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور سروس ڈلیوری کی براہِ راست نگرانی میں بھی مدد ملے گی۔