نئی دہلی (نیٹ نیوز) ایٹم بم کو انتہائی تباہ کن سمجھا جاتا ہے لیکن ایک ہتھیار روایتی ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے، یہ ہائیڈروجن بم ہے۔ہائیڈروجن بم جسے تھرمل نیوکلیئر ویپن بھی کہا جاتا ہے، ایٹمی ہتھیاروں کی ایک ایسی قسم ہے جو فیوڑن کے عمل پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں ہائیڈروجن کے ہلکے ایٹم آپس میں جْڑ کر بھاری ایٹم بناتے ہیں اور اس کے نتیجے میں انتہائی زیادہ توانائی خارج ہوتی ہے۔انڈیا ڈاٹ کام کے مطابق عام ایٹم بم میں یورینیم یا پلوٹونیم کے ایٹموں کا فِیوڑن ہوتا ہے، لیکن ہائیڈروجن بم میں سب سے پہلے فشن کے ذریعے شدید گرمی اور دباؤ پیدا کیا جاتا ہے، پھر اس گرمی سے فیوڑن کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس عمل سے خارج ہونے والی توانائی عام ایٹم بم کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ تباہ کن ہوتی ہے۔اس بم کی دو بنیادی سطحیں ہوتی ہیں: پہلی فشن اور دوسری فیوڑن۔سنہ 1961 میں سابق سوویت یونین نے دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈروجن بم، جسے 'زار بومبا' کہا جاتا ہے، تجرباتی طور پر پھاڑا تھا، جس کی تباہی 50 میگا ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔ ہائیڈروجن بم کی تیاری سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کا اہم حصہ تھی۔یہ بم اتنی شدت سے تباہی پھیلا سکتا ہے کہ اس کا شمار اب دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیاروں میں ہوتا ہے۔