کوئی گروپ بندی نہیں :تحریک انصاف کا اعلامیہ

 سیاسی کمیٹی کا اجلاس، گرفتار منتخب نمائندوں، رہنمائوں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ 
 اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی میں کسی قسم کی گروپ بندی یا تقسیم نہیں اور پوری جماعت عمران خان کی قیادت، نظریے اور مشن کے ساتھ متحد ہے۔ اعلامیے کے مطابق پارٹی رہنما اور کارکن مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال، مہنگائی اور امن و امان کے معاملات پر غور کیا گیا۔ سیاسی کمیٹی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، اسپیکر اور دیگر ارکان پارلیمنٹ کی حراست کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ منتخب نمائندوں کو حراست میں رکھنا جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ کمیٹی نے سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہلخانہ کو اعتماد میں لیے بغیر ہسپتال منتقلی باعث تشویش ہے۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کے علاج کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور ان کی صحت سے متعلق اہلخانہ کو باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے۔ عمران خان کے اہلخانہ کو ملاقات اور عیادت کی سہولت فراہم کرنے جبکہ بشریٰ بی بی کو مناسب طبی سہولیات اور اہلخانہ سے ملاقات کا موقع دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ سیاسی کمیٹی نے بانی چیئرمین کی بہنوں کی گرفتاری اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی اور ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی عادل بازی سمیت دیگر پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا اور ایم پی او کے تحت گرفتار تمام رہنمائوں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اعلامیے میں سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی کو انتقام کا نشانہ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے عمر ایوب، شیر علی ارباب اور شاہ احد کے گھروں پر چھاپوں اور توڑ پھوڑ کی مذمت کی گئی۔ کمیٹی نے ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے موثر اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں، جبکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہ کرنے پر بھی زور دیا گیا۔