اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ) پاکستان کی سمندری معیشت میں ترقی کے وسیع امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بحری تعلیم، جدید تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر وائس ایڈمرل عابد حمید سے ملاقات کی، جس میں پاکستان میرین اکیڈمی اور بحریہ یونیورسٹی کے درمیان تعلیمی تعاون کو فروغ دینے اور بحری شعبے میں مشترکہ اقدامات کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بلیو اکانومی کی ترقی کے لیے بحری تعلیم کا فروغ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیمی پالیسیوں کو بحری شعبے کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ اس شعبے کے لیے قابل، تربیت یافتہ اور ہنرمند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بحری شعبے میں ہنرمند افراد کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ ساحلی اور ماہی گیر برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بھی معیاری تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے مساوی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں سمندری معیشت کا حصہ صرف 0.4 فیصد ہے، جو اس شعبے میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بلیو اکانومی کے پائیدار فروغ کے لیے ساحلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ بھی انتہائی ضروری ہے۔اس موقع پر بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر وائس ایڈمرل عابد حمید نے کہا کہ بحریہ یونیورسٹی پاکستان میرین اکیڈمی کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ یونیورسٹی میں بحری تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں مشترکہ اشتراک کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے بحری شعبے میں تعلیمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دے کر بلیو اکانومی کی ترقی، انسانی وسائل کی استعداد میں اضافے اور سمندری معیشت کے قومی ترقی میں کردار کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔