شہرکی فضا خطرناک حد تک آلودہ، ایئر کوالٹی انڈیکس 500 سے تجاوز کر گیا، بخار، کھانسی، نزلہ، گلے میں درد اور جسمانی درد کی شکایات میں اضافہ
میو ہسپتال میں 11 ہزار سے زائد مریض فلو، کورونا اور انفلوئنزا جیسی علامات کے ساتھ سامنے آئے، سروسز ہسپتال میں 9 ہزار 800 سے زائد مریض داخل
لاہور(سپیشل رپورٹر‘آئی این پی )لاہور میں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھنے لگی، شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 500 سے تجاوز کر گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست آگیا۔فضائی آلودگی کے حوالے سے علامہ اقبال ٹان سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 912 ریکارڈ کیا گیا، برکی روڈ پر 698، گلبرگ میں 619، ڈی ایچ اے فیز 5 میں 569 جبکہ ماڈل ٹان میں اے کیو آئی 471 ریکارڈ کیا گیا ہے۔لاہور میں سموگ کی شدت میں اضافے کے ساتھ مختلف موسمی اور وائرل بیماریوں نے بھی شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، کورونا کے مختلف ویرینٹس اور انفلوئنزا وائرس کے پھیلا ئوکے باعث بخار، کھانسی، نزلہ، گلے میں درد اور جسمانی درد کی شکایات میں اضافہ ہونے لگا۔ذرائع کے مطابق لاہور کے 6 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں گزشتہ 7 روز کے دوران فلو، کورونا اور انفلوئنزا جیسی علامات کے ساتھ 35 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔میو ہسپتال میں 11 ہزار سے زائد مریض فلو، کورونا اور انفلوئنزا جیسی علامات کے ساتھ سامنے آئے، جبکہ سروسز ہسپتال میں 9 ہزار 800 سے زائد اور جناح ہسپتال میں ایک ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے، اس کے علاوہ جنرل ہسپتال، گنگارام ہسپتال اور چلڈرن ہسپتال میں بھی ہزاروں مریض فلو جیسی علامات کے ساتھ علاج کیلئے پہنچے۔ذرائع کے مطابق ریپڈ ٹیسٹنگ کے دوران کورونا کے مثبت کیسز سامنے آنے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جس نے صحت کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔