ظفر اقبال
ایک وقت تھا جب ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے الفاظ معلمی سے لگتے تھے لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ ماہرین گم از گم میں سالوں سے ماحولیاتی آلودگی کا رونا رو رہے ہیں، حکومتوں اور عوام کو آنے والی موسی تبدیلیوں کے خطرناک نتائج سے آگاہ کرتے رہے ہیں لیکن ہماری حکومتوں نے اْن کے مشوروں پر کان نہیں دھرے۔ اب جبکہ موسمیاتی تبدیلیاں حقیقت بن کر سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں تو ہماری حکومت بھی انہیں اہمیت دینا شروع ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے 2010 میں اور 2022 میں آنے والے سیلاب بھی اس طرف توجہ دلانے کے لئے کافی تھے لیکن ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔ اب ہمیں بار بار بھارتی آبی جارحیت کا رونا نہیں رونا چاہیے، موجودہ سیلابوں میں پانی کا ایک بڑا حصہ ہمارے اپنے گلیشیر کا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تیزی سے پگھل رہے ہیں اور پھٹ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے 45 فیصد گلیشیر ز پکھل چکے ہیں، باقی بھی پانچ ، دس سال میں ختم ہو جائیں گے۔ صرف پاکستان ہی نہیں ، بھارت میں بھی گلیشیر پگھل رہے ہیں ، اس وجہ سے وہاں بھی خطر ناک سیلاب پیدا ہور ہے ہیں، جن کا کم یا زیادہ حصہ وہ پاکستان بھیج دیتا ہے۔ جب سارے گلیشیر ز کھل جائیں گے تو اکیلی بارشیں ایسے سیلاب پیدا نہیں کرسکیں گی کئی دفعہ ہمیں خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں سیلابوں اور بارشوں کا زیادہ سے زیادہ پانی روک کر ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم بارشوں کے پانی کو ذخیرہ نہیں کریں گے تو ہمیں مستقبل نہیں بڑی خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں ایسے اقدامات اْٹھانے ہیں، جو ایک طرف ہمیں سیلاب کے نقصانات سے بچائیں تو دوسری طرف ہم مستقبل کی خشک سالی کو کم سے کم کر سکیں۔فضائی آلودگی موسمیاتی تبدیلیوں اور سموگ کو جنم دیتی ہیں۔ سموگ نمونیا اور دوسری بیماریاں پیدا کر رہی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیاں آج گل سیلاب کا پیش خیمہ بن رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلاب کو ہم بعد میں دیکھیں گے پہلے ہم فضائی آلودگی کو کم کرنے اور ختم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیں گے۔ ان اقدامات میں سب سے اہم شجر کاری ہے، یہ ایک ایسا کام ہے جو انتہائی کم خرچ سے ہر فرد کر سکتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اگر پودے لگانے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے تو کاٹنے والے ظالموں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ غیر قانونی طور پر درخت کاٹنے والے لکڑی کا کاروبار کرنے والے افراد ہوتے ہیں یا لکڑی کو بطور ایندھن بیچنے والے افراد، ان کے لئے ٹمبر مافیا کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ایسے افراد کے لئے قانون سازی کر کے سخت سزائیں رکھی جائیں، ساتھ ہی نگرانی کو بھی موثر بنایا جائے۔ اس کے علاوہ وسیع شجر کاری کے منصوبے بنائے جائیں، جیسا کہ پی ٹی آئی کے دور میں بلین ٹری پروگرام بنائے گئے۔ یہ یاد رکھیں کہ ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے ہمیں صرف درختوں کی ضرورت نہیں ، ہمیں صرف پودوں کی ضرورت ہے۔ تقریبا تمام پودے ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لے کر آکسچن پیدا کرنے والی فیکٹریاں ہیں۔ ہمیں صرف ایسے پودوں کی ضرورت ہے جو تیزی سے بڑھتے ہوں، زیادہ سے زیادہ پھیلتے ہوں اور اْن کے پتوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو۔ ایسے پودے ڈھونڈے جاسکتے ہیں، شہری علاقوں میں درخت لگانے کے رقبے کم ہوتے ہیں، وہاں ایسے پودوں کی مدد سے ہم ماحولیاتی آلودگی سے نجات حاصل کر کے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات گم کر سکتے ہیں۔کراچی کے ایک شہری نے درختوں کا ایک متبادل ڈھونڈ لیا ہے ، اْس کا نام اْس نے عمودی باغ Verticle Garden رکھا ہے۔ حقیقت میں اْس نے کھیتی باڑی کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے، کراچی میں پھیلے ہوئے کھیت نہیں ہوتے اس لئے اْس نے کم سے کم زمین استعمال کر کے زیادہ زرعی پیداوار حاصل کرنے کا ایک طریقہ بنایا ہے۔ اْس نے ایک سیمنٹ کا چوڑاٹا ور بنایا ، ٹاور میں بناتے ہوئے اْس میں کئی گملے رکھنے کیلئے لوہے کے چھلے فٹ کر دیئے۔ مگر بہت سے گملوں میں سبزیوں کے بیج بو کر پانی دے کر ، لوہے کے چھلوں میں پھنسا دیئے ، انہیں پانی اوپر تک پہنچانے کا بھی انتظام کیا۔