آبنائے ہرمز کے قریب پاکستان آنے والے ایل این جی جہاز پر حملہ

 قطری کمپنی نے واقعے کی تصدیق کردی، جہاز کے تمام پچیس افراد محفوظ رہے
 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قطر سے پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے کر آنے والے بحری جہاز ال مایدہ کو 30 اکتوبر کو آبنائے ہرمز کے قریب نشانہ بنایا گیا، حالانکہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام نے جہاز کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایرانی حکام سے پیشگی اجازت حاصل کرلی تھی۔ حملے کے بعد جہاز نے اپنا راستہ تبدیل کرکے خلیج کی جانب واپسی اختیار کرلی، جس کے باعث پاکستان کے لیے گیس کی اس کھیپ کی ترسیل غیر یقینی ہوگئی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے سفر کرنے والا ایل این جی بردار جہاز ال مایدہ قطر سے پاکستان کے لیے گیس لے کر آرہا تھا۔ پاکستانی حکام نے آبنائے ہرمز سے اس کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے ایران سے رابطہ کیا تھا اور متعلقہ ذرائع کے مطابق تہران نے جہاز کو گزرنے کی اجازت بھی دے دی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اجازت مبینہ طور پر حملے سے چند گھنٹے قبل دی گئی، تاہم اس کے باوجود جمعہ 30 اکتوبر کو جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ تاحال حملے کے ذمہ داروں اور واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ قطر کی گیس ٹرانسپورٹ کمپنی نقیلات (Nakilat) نے اپنے سرکاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کا ایل این جی بردار جہاز ال مایدہ 30 اکتوبر کی شام خلیجی پانیوں سے گزرتے ہوئے نامعلوم اشیا کی زد میں آیا۔ کمپنی کے مطابق واقعے میں عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی ماحول کو کسی نقصان کی اطلاع ملی ہے۔ نقیلات نے بتایا کہ جہاز محفوظ حالت میں ہے اور اس کی آپریشنل صلاحیت برقرار ہے، جبکہ واقعے سے پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ کمپنی جہاز کے عملے اور خطے میں بحری سلامتی کے متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ بلومبرگ نے معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے ال مایدہ کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے ایرانی حکام سے مذاکرات کیے تھے اور تہران نے جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی تھی، تاہم چند گھنٹے بعد ہی اسے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات کے مطابق واقعے کے بعد ال مایدہ نے اپنا رخ تبدیل کیا اور واپس خلیج کی جانب روانہ ہوگیا۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ جہاز دوبارہ پاکستان کے لیے سفر شروع کرے گا یا گیس کی یہ کھیپ اپنی منزل تک پہنچ سکے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ ایران سے پیشگی اجازت ملنے کی اطلاع بلومبرگ کے ذرائع پر مبنی ہے، جبکہ نقیلات کے سرکاری بیان میں حملہ آور ملک یا گروہ کا نام نہیں لیا گیا؛ اس لیے ایران کو حملے کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ بلومبرگ کے مطابق بھارت کے وزیر جہاز رانی سربانند سونووال نے بھی بتایا کہ جہاز کو ایک پروجیکٹائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور اس پر سوار تمام 25 افراد محفوظ ہیں، جن میں چھ بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے قطر سے ایل این جی درآمد کرتا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی رکاوٹوں کے باعث ان درآمدات کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے قطر سے آنے والے متعدد ایل این جی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ حاصل کیا تھا، جن میں سے بعض کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کرکے بحیرہ عمان تک پہنچ گئے تھے۔ ال مایدہ پر تازہ حملے نے ان انتظامات کی مئوثریت اور مستقبل میں گیس کی ترسیل کے تسلسل سے متعلق سوالات پیدا کردیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ کھیپ پاکستان نہ پہنچ سکی تو متبادل ایل این جی خریدنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ بین الاقوامی اسپاٹ مارکیٹ میں گیس کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہونے کے باعث ایسی خریداری مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے اس مخصوص کھیپ کے ضائع ہونے، متبادل خریداری یا ملک میں گیس کی فراہمی متاثر ہونے سے متعلق کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث اس راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ بلومبرگ کے مطابق اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز سے ایل این جی کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 30 فیصد تک محدود رہی۔ قطر نے ستمبر سے اس راستے کے ذریعے گیس کی برآمدات جاری رکھی ہیں، تاہم بحری سلامتی کے خطرات اور اضافی انشورنس اخراجات نے جہاز رانی کے انتظامات مزید پیچیدہ بنادیے ہیں۔ ال مایدہ پر حملے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ آیا پیشگی سفارتی اجازت کے باوجود تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ فی الحال قطری کمپنی جہاز کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ حملے کی ذمہ داری اور پاکستان کے لیے گیس کی کھیپ کے مستقبل سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔