مسلم نیٹو کے امکانات؟

 سید منیر حسین گیلانی
پاک بھارت جنگ کے بعد ایک مرتبہ پھر دنیا کے سامنے پاکستان کا کردار اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ایران امریکہ کے درمیان ثالثی ، اسلام آباد امن معاہدہ، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور سب سے بڑھ کر مکہ دفاعی معاہدے میں ترکی کی شمولیت یقینا پاکستان کے کلیدی کردا ر کی عکاس ہے۔ پھر فیلڈمارشل سید عاصم منیر مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کولے کر تہران پہنچ گئے۔ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی نے اجلاس کی میزبانی کی۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان ، وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی شرکت کی ،سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن نے بھی اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کی۔ چار نمایاں مسلم ممالک کے درمیان امن و سلامتی کے فروغ ، کشیدگی میں کمی ، علاقائی چیلنجوں، فلسطین و لبنان کی صورتحال، اور بیرونی مداخلت کا ایجنڈے پر ہونا یقینا قابل تحسین ہے۔ اجلاس کے بعدکسی حتمی اقدام کی منظوری تو نہیں دی گئی، لیکن مشترکہ اعلامیہ می ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔دنیا کے اندر سامراج کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیاں، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور بلاوجہ حملے کر کے دفاعی تنصیبات کے علاوہ سرکاری نجی املاک کا نقصان، شہریوں کی شہادت کے علاوہ ایران کی سب سے بڑی روحانی علمی شخصیت آیت اللہ خامنہ ای کی بمعہ اہل و عیال شہادت کے بعد لگ رہا تھا کہ ایران سخت رد عمل دے گا اوردیا بھی لیکن بڑھتی ہوئی کشیدگی میں پاکستان کا جنگ روکنے میں اہم کردار بے مثال رہا۔ سہ ملکی مکہ معاہدہ کی تشکیل نے حالات کو مزید بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو کسی دوسرے ملک پر حملہ اور اقدامات کی بنیاد فراہم نہیں کرتا ،بلکہ ممبر ممالک کے دفاع کی ضمانت دیتا ہے۔ 26 اکتو بر سے چند دن پہلے پاکستانی وفد کی تہران کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں بہت اہمیت اختیار کرچکی ہیں،وہ یمن کے مسئلے کی حل کی تجاویز کے تناظر میں سعودی عرب اور حوثی ملیشیا تنظیم’ انصار اللہ‘ کے درمیان کشیدگی نے امت مسلمہ کے ممالک کے درمیان دفاعی اتحاد کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایران شروع سے ہی متنبہ کررہا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی جارانہ اقدام کیا تو پھر بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اسلام آباد اور تہران کے درمیا ن بڑھتی قربتیں اورایرانی حکومت کی مکہ دفاعی معاہدہ کے ممبر ممالک کے وفود کو دعوت ، میزبانی بہت بڑی تبدیلی اورخاص طور پر امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا پیغام بھی ہے۔کیونکہ امریکہ اور سامراجی قوتوں کی ایران کو تنہا کرنے کی کو شش تھی۔جبکہ خطے کے اہم ممالک روس اور چین کے تعلقات پہلے سے ایران کے ساتھ دوستانہ ہیں اوردونوں ممالک امریکہ کے خلاف جنگ میں مشاورت میں ساتھی بھی رہے ہیں۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔ تہران میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے نمائندہ وفود کے مذاکرات اور اعلامیہ عالمی منظر نامے میں ایک بہت بڑا قدم ہے۔ ان ملاقاتوں میں اہم کردارفیلڈ مارشل کا ہے جنہوں نے اپنی فہم و فراست کو
 استعمال کرتے ہوئے تمام ممالک کوآمادہ کیا کہ یکجا ہو کر بین الاقوامی ایشوز کو حل کرنے کی کوشش کی جائے،جن میں امریکہ ایران کو برباد کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے ،جبکہ اسرائیل امریکہ کے اشارے پرحملہ بھی کر دیتا ہے۔ آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود ایرانی قوم نے نہ صرف استقامت ، جرات بہادری کااعلیٰ نمونہ پیش کیاہے،بلکہ ڈٹ کر کھڑی ہے ، ایرانی امریکہ سے خوفزدہ ہوئے ہیں،اور نہ ہی بین الاقوامی سازشوں سے مرعوب ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان نے دیکھا کہ ہمارے بارڈر کے قریب ترین ملک کا رویہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق جارحیت کے خلاف سینہ سپر کھڑاہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ مظلوم مسلمان ملک پر جارحانہ امریکی اقدامات کے خلاف ایران پاکستان ترکیہ سعودی عرب شامل ہو جائیں۔ بین الاقوامی سامراج کو اس خطے کے اندر سے نکال باہرکریں، جس کی ابتدا عراقی حکومت نے امریکی اڈوں کے خاتمے کا حکم دے دیا ہے اور امریکی اڈے عین الاسد ائربیس کو خالی کیا جارہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک جنہوں نے اپنے تحفظ کے لیے امریکی فوج کو ڈھا ل بنانے کے لئے انہیں اپنی سرزمین مہیا کی، مگر ان کی حفاظت میں ناکامی کی وجہ سے عرب ممالک کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ امریکہ اپنے اڈوں اورہماری حفاظت میں بھی ناکام رہا ہے، لہٰذا ان ممالک سے امریکہ اپنے اڈوں اور دفاعی نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے مداخلت کو ختم کرے۔لیکن دوغلے پن کا شکارامریکہ بری طرح ایران سے شکست کے باوجود آج شرمندگی ماننے پرتیارنہیں،البتہ اس جنگ سے باہر نکلنے کا باعزت راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل میں انتخابات سے پہلے نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے، اب نتائج بھی سامنے آچکے ہیں۔ نیتن یاہو کی پارٹی حکومت سازی کے لئے مطوبہ تعداد میں نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی عوام کے اندر ٹرمپ حکومت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنانے والی اکثریت میں ہیں اور امریکی صدر کی مقبولیت کا گراف بری طرح گر چکا ہے،اگر ایسا ہی ہوا تولگتا ہے کہ وہ کسی صورت وسط مدتی انتخابات میں کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے ،بلکہ ممکن ہے کہ انتخابات کے بعد ناکامی کی وجہ سے ٹرمپ اپنی اکثریت کھو بیٹھیں اور اس کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی آجائے۔کچھ کرم فرماو ¿ ںنے سوشل میڈیا پر ایران کی سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ملاقات کو منفی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ، لیکن وہ تمام قیاس آرائیاں ا ب دم توڑ چکی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امت مسلمہ کا اتحاد ہی پاکستان اور او آئی سی کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔ ہمیں خبردار رہنے کی ضرورت ہے کہ اب دشمن شیعہ سنی ، وہابی دیوبندی کی بنیاد پر ہم میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرے گا اور اس حوالے سے خاصے عرصے سے سرمایہ کاری جاری ہے،سوشل میڈیا استعمال کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ کونسا مولوی، خطیب ، ذاکر اور سندھ کا ملنگ ٹولہ کہاں سے بات کررہا ہے؟لیکن ہمیں اتحاد کی اس فضا کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم ممالک باہمی اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے ختم کریں تو ہم امریکہ کے دست نگر ہوں گے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کی دفاعی شیلڈ کی ہمیں ضرورت پڑے گی۔لیکن ان تمام حالات میں یہ تو واضح نظر آ رہا ہے کہ وہ جنگ جسے امریکہ نے28 فروری کو ایران سے شروع کیا تھا، آٹھ ماہ گزرنے کے بعد بھی امریکہ ہی امن کی بھیک مانگ رہا ہے۔ایران اسے اب کچھ دینے کو تیار نہیں۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ ایران پر ایک بڑے حملے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور یہ بھی خبر ہے کہ ایران بھی اس بڑے حملے کا بھر پورجواب دینے کی تیاری کر چکا ہے۔اب دیکھتے ہیں کہ دنیا کے حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ،لیکن ہم پر امید ہیں کہ اللہ کی مدد ایران کے ساتھ ہوگی اور امریکہ کے لیے شرمندگی نوشتہ دیوار ہے۔