امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ چین نے معروف مختصر ویڈیو ایپلیکیشن ٹک ٹاک کے حوالے سے ٹرانسفر ڈیل کی منظوری دے دی ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ چین نے TikTok کے لیے منتقلی کے معاہدے کی حتمی منظوری دے دی ہے اور آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اس حوالے سے پیش رفت کی توقع ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ، "کوالالمپور میں، ہم نے چینی منظوری حاصل کرنے کے سلسلے میں ٹک ٹاک معاہدے کو حتمی شکل دی ہے، اور میں توقع کرتا ہوں کہ یہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں آگے بڑھے گا اور ہم آخر کار اس کا حل دیکھیں گے۔" اس حوالے سے، فاکس بزنس نیٹ ورک کے پروگرام مارننگز ود ماریا کو انٹرویو دیتے ہوئے بیسنٹ نے یہ بات کہی۔دریں اثنا، چین کی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا کہ چین امریکا کے ساتھ ٹک ٹاک سے متعلق معاملات کو مناسب طریقے سے ہینڈل کرے گا۔ ایک چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ چین کا فریق ٹک ٹاک سے متعلق مسائل کو مناسب طریقے سے حل کرنے کے لیے امریکی فریق کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
یاد رہے کہ، 25 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس میں اس معاہدے کی قیمت 14 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔ اس موقع پر، صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی سرمایہ کار ٹک ٹاک کی ملکیت سنبھال رہے ہیں اور چینی صدر شی جن پنگ نے اس منظوری کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کے علاوہ، امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اب ٹک ٹاک کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور اس ایپ کو امریکی عوام کے لیے محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی اور سکیورٹی کے معاملات پر پہلے سے تناؤ پایا جاتا ہے۔