اپریل میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو دھچکہ، 100 انڈیکس 6480 پوائنٹس گر گیا

اپریل میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو دھچکہ، 100 انڈیکس 6480 پوائنٹس گر گیا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے لیے اپریل 2025 ایک نہایت مشکل اور مندی سے بھرپور مہینہ ثابت ہوا۔

کاروباری ماہ کے اختتام پر 100 انڈیکس میں 6480 پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو 5.50 فیصد گراوٹ کے مساوی ہے۔ اس گراوٹ کے بعد انڈیکس 1,11,326 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، جو سرمایہ کاروں کے لیے تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

مندی کی وجوہات
ماہرین معیشت اور اسٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس ماہ کے دوران مارکیٹ میں منفی رجحان کی متعدد وجوہات تھیں، جن میں نمایاں عوامل درج ذیل ہیں:

بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال:

امریکی صدر کی جانب سے نئی ٹریڈ پالیسی کے اعلان نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس پر دباؤ ڈالا، جس کا اثر براہِ راست پاکستان پر بھی پڑا۔امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی نے عالمی سرمایہ کاروں میں خوف کی لہر پیدا کی، جس کے باعث وہ محتاط ہوگئے۔
علاقائی کشیدگی:

اپریل کے آخری ایام میں پاک بھارت تعلقات میں اچانک کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس نے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید کمزور کر دیا اور مارکیٹ میں panic selling کا رجحان دیکھا گیا۔
مارچ کے مثبت اشارے
اس مندی کے باوجود، مارچ 2025 کے دوران پاکستانی معیشت سے متعلق کچھ مثبت اشاریے بھی سامنے آئے تھے جنہوں نے عارضی طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا:

مہنگائی کی شرح 30 سال کی کم ترین سطح یعنی 0.70 فیصد تک آ گئی۔کرنٹ اکاؤنٹ میں 1.2 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ ہوا — یہ پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر ایک ماہ کا سرپلس تھا۔ترسیلات زر میں سالانہ بنیادوں پر 33 فیصد اضافہ ہوا، مارچ کے مہینے میں 4 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو کہ ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
اگرچہ مارچ کے معاشی اعداد و شمار حوصلہ افزا تھے، لیکن اپریل کے جغرافیائی اور عالمی تجارتی دباؤ نے ان اثرات کو زائل کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ مہینوں میں علاقائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈیوں میں استحکام دیکھنے کو ملتا ہے، تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج ایک بار پھر ری باؤنڈ کر سکتی ہے۔