پاکستانی میں امریکی اسلحہ دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے دفترخارجہ

امریکی اسلحہ افغانستان اور امریکہ کا اندرونی معاملہ ہے، اس معاملے پر پاکستان کا کوئی موقف نہیں، افغان  حکام نے پاکستانی سرحد پر چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی تھی
افغانستان میں دہشت گردوں کی  پناہ گاہوں پر تحفظات ہیں‘  8 پاکستانی  امریکہ سے جلا وطن ہو کر آئے ہیں، پاک امریکہ دیرینہ تعلقات سے جڑے ہیں،  ایف 16 پروگرام کے حوالے سے فیصلہ خوش آئند ہے
 اسلام آباد(آئی این پی )ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے   کہا ہے  امریکی اسلحہ افغانستان اور امریکہ کا اندرونی معاملہ ہے، اس معاملے پر پاکستان کا کوئی موقف نہیں، ترجمان نے بارڈر بندش کے حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے  افغان  حکام نے پاکستانی سرحد پر چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی،افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر تحفظات ہیں۔ان خیالات کا اظہار  ترجمان دفتر خارجہ    ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کیا ۔ انہوں  کہا  کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ابوظہبی کے ولی عہد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کا یہ پہلا دورہ تھا، جس میں 5 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ میں بتایا کہ ہم نے بار بار افغانستان میں جدیدترین امریکی ہتھیار چھوڑنے کا معاملہ اٹھایا ہے۔ یہ جدید ترین ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھوں جانے کا خطرہ ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر تحفظات ہیں۔ کسی بھی اہم شخصیت کو دورہ افغانستان سے قبل بریفنگ دی جاتی ہے تاکہ انہیں پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا جا سکے۔طورخم بارڈر کی گزشتہ جمعہ سے بندش پر  ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ بارڈر بندش ایک مشکل مسئلہ ہے جس میں مختلف ایجنسیاں شامل ہوتی ہیں۔ افغان حکام پاکستان کی طرف ایک پوسٹ بنانا چاہ رہے تھے۔ ہم نے افغان حکام سے کہا کہ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرحد پر ٹرکوں کے رکنے یا سرحد بند ہونے پر متعدد ادارے کام کررہے ہوتے ہیں‘ پاک امریکا دیرینہ تعلقات سے جڑے ہیں۔ دونوں ممالک کے سفارتی سطح پر اہم تعلقات ہیں ۔ ایف 16 پروگرام بھی ان تعلقات کا دیرینہ حصہ ہے۔ امریکا کا ایف 16 پروگرام کے حوالے سے فیصلہ خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا سے جلاوطن پاکستانیوں کا پہلا بیج پہنچا ہے۔ہم اس حوالے سے امریکا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم مزید غیر قانونی پاکستانیوں کی واپسی پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جو پاکستانی واپس آئیں گے ہم انہیں واپس لیں گے کیونکہ وہ پاکستانی شہری ہیں