چلغوزہ سب کے لیے

پروفیسر صائمہ جبین مہک 
جب بھی کسی محفل میں ذکر چھیڑیں کہ ہم نے بچپن میں چلغوزے کھائے تھے، تو لوگ ایسے چونکتے ہیں جیسے ہم نے اعلان کر دیا ہو کہ ہم چاند پر پیدا ہوئے تھے اور ہمارا پہلا دوست نیل آرمسٹرونگ تھا۔ ان کی حیرت ایسی ہوتی ہے کہ لگتا ہے ابھی اٹھ کر تاریخ کی کتابیں کھولیں گے اور ہمارا نام وہاں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ فقط یہ ہی نہیں بلکہ ان کی آنکھوں میں ایسے سوالات ہوتے ہیں جیسے ابھی ہمارے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا بھی مشورہ دیں گے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ہم واقعی اس دور کے انسان ہیں  یا پھر کسی قدیم تہذیب کا باسی جو غلطی سے ڈیجیٹل دور میں آ نکلا ہو۔
ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ اب چلغوزے صرف خوابوں، افسانوں، اور مزاحیہ باتوں تک محدود ہو گئے ہیں۔ ایک تقریب میں، جہاں ہم کتاب کی رونمائی کے لیے مدعو تھے، ایک دوست کو نہ جانے کہاں سے ہماری چلغوزے کھانے والی بات یاد آگئی۔ کہنے لگے، ''شباب تو بچپن کے چلغوزوں کی نسبت قائم ہے، ورنہ آپ کی عمر تو کچھ اور کہانی سناتی ہے۔!'' یہ سن کر دل چاہا کہ چلغوزوں کا دفاع کریں، لیکن پھر سوچا کہ اتنے مہنگے ذکر کو ضائع کرنا مناسب نہیں۔ 
چلغوزے کھانے کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ قسمت سے ہے! آج کے دور میں یہ لذت تو خواب و خیال کی بات ہو گئی ہے، بس ہم خوش نصیب نسل کے آخری نمائندے ہیں!''یہ وہی زمانہ تھا جب چلغوزے کھانے کے لیے نہ بینک اکاؤنٹ خالی کرنا پڑتا تھا، نہ گھر گروی رکھنا پڑتا تھا۔ آج کل تو چلغوزے اتنے قیمتی ہو گئے ہیں کہ اگر کسی کے پاس دو دانے دیکھ لیں تو دل کرتا فوراً اس خزانے کے مالک کے ہاتھ چوم لیں۔
چلغوزے آج کل اتنے نایاب ہو گئے ہیں کہ ان کے دانے دیکھنے کے لیے مائیکروسکوپ اور ان کی قیمت سمجھنے کے لیے کیلکولیٹر چاہیے۔ چلغوزے صرف ایک میوہ نہیں، بلکہ ہمارے بچپن کے شاہکار دنوں کی علامت بن چکے ہیں۔ وہ وقت یاد آتا ہے جب چلغوزے کھانے کے بعد چھلکے کو آرٹ کے شاہکار کے طور پر دیوار پر پھینکتے تھے۔ وہ حرکت آج کریں تو لوگ فوراً چوری کا الزام لگائیں گے کہ آپ نے یہ انمول چیز کہاں سے لی؟
چلغوزے کے بغیر آج کل کے بچوں کا بچپن کچھ ادھورا سا لگتا ہے۔ یہ وہی بچے ہیں جو انسٹاگرام پر تصویریں دیکھ کر سوچتے ہیں کہ چلغوزہ کوئی افسانوی چیز ہے، جو شاید کسی جادوئی دیس سے لائی گئی ہو۔ ان کے لیے چلغوزے کا ذکر ایسے ہی ہے جیسے کسی نے خلائی مخلوق کی کہانی سنائی ہو۔ چلغوزوں کی مہنگائی پر آج کل کے جوان نسل کے رویے دیکھ کر دل کرتا ہے کہ کوئی دستاویزی فلم بنائی جائے، جس کا عنوان ہو، ''چلغوزہ: ایک کھوئی ہوئی تہذیب کی داستان۔'' وہ دن دور نہیں جب چلغوزوں کو عجائب گھروں میں رکھا جائے گا اور بچے اسکول کی تفریح پر جا کر کہیں گے، ''سر، یہ وہ چیز ہے جو ہمارے دادا کے زمانے میں کھائی جاتی تھی۔''ہماری قوم کے نوجوان اب لذت چلغوزہ سے محروم ہو چکے ہیں۔ وہ انٹرنیٹ پر چلغوزوں کی تصویریں دیکھ کر حسرت بھری آہیں بھرتے ہیں۔ ایک دن ہمارے بھتیجے نے موبائل پر کچھ دیکھتے ہوئے کہا، ''پھپھو، یہ چلغوزہ ہوتا ہے؟'' ہم نے آنکھیں موند کر کہا، ''ہاں بیٹا، یہی وہ جادوئی چیز ہے جو ہم نے اپنے بچپن میں کھائی تھی۔'' وہ حیرت سے بولا، ''تو آپ نے کھا بھی لیا؟'' ہمیں لگا جیسے ہم کوئی نایاب تاریخی شخصیت ہیں، جنہیں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ ملنی چاہیے۔
اب حال یہ ہے کہ چلغوزے خواب میں بھی آئیں تو انسان جھرجھری لے کر جاگ اٹھتا ہے۔ ایک بار ہم نے خواب دیکھا کہ ہم ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہیں اور چلغوزے خود بخود جھولی میں گر رہے ہیں۔ لیکن خواب بھی ہماری جیب کا حال جانتا تھا، کیونکہ جیسے ہی ہم نے ایک دانہ اٹھانے کی کوشش کی، وہ گم ہو گیا۔ جاگنے کے بعد احساس ہوا کہ چلغوزے خوابوں میں بھی اتنے نایاب ہو چکے ہیں کہ انسان خواب کے اندر بھی دیوالیہ محسوس کرتا ہے۔
چلغوزوں کی کہانی صرف ایک میوے کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ہماری ثقافت اور بچپن کے قیمتی لمحوں کی یادگار ہے۔ آج کل کے بچے، جو صرف چپس اور فاسٹ فوڈ کے دیوانے ہیں، چلغوزے کی اصل لذت سے واقف ہی نہیں۔ وہ کیا جانیں کہ اس چھوٹے سے میوے میں کتنی خوشیاں اور یادیں قید ہوتی ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک مہم شروع کریں: ''چلغوزہ سب کے لیے۔'' حکومت کو چاہیے کہ چلغوزے کو عوام کے بنیادی حقوق میں شامل کرے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم ان کی قیمت اتنی کم کرے کہ خوابوں میں چلغوزے دیکھنے والے افراد جاگتے وقت حسرت کا شکار نہ ہوں۔
چلغوزے کھانے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تجربات کو نسل نو تک پہنچائیں تاکہ یہ قیمتی ورثہ ضائع نہ ہو۔ اور اگر آپ بھی ہمارے جیسے خوش نصیب ہیں جو چلغوزے کے ذائقے سے واقف ہیں، تو اپنی خوش قسمتی پر فخر کریں، کیونکہ آپ نے نہ صرف ایک میوہ کھایا بلکہ ایک نایاب ثقافت کا حصہ بھی بنے۔
تو دوستو، چلغوزے کھانے والوں کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جانا چاہیے۔ ہم ان چند خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف چلغوزے کھائے بلکہ ان کی یادوں کے ساتھ ہنستے مسکراتے رہے۔  ان کی یادیں نہ صرف ہمارے دل کو گرماتی ہیں بلکہ ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ کبھی کبھی چھوٹی چیزیں بھی بڑی خوشیوں کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔