سعودی عرب مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کا فیصلہ حالات اور سیاسی قیادت کی مشاورت سے ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

سعودی عرب مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کا فیصلہ حالات اور سیاسی قیادت کی مشاورت سے ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کا فیصلہ حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی مشاورت سے مشروط ہے۔

پاکستان سعودی عرب اور مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی اور امن کی کوششوں کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مثبت پیش رفت کی امید نہ ہوتی تو فیلڈ مارشل دو مرتبہ ایران کا دورہ کیوں کرتے؟ تاہم امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے والے طاقتور عناصر ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد میں مزید ممالک کی شمولیت سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اجتماعی دفاع اور علاقائی امن کا مشترکہ وژن رکھنے والے ممالک اس اتحاد میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق نئے ممالک کی شمولیت کا فیصلہ معاہدے کے تینوں ممالک کی سیاسی قیادت نے کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یمن کا تنازع اس کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان اس تنازع کا حصہ نہیں، بلکہ اس کی موجودگی سعودی عرب اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہے۔