حکومت سے مذاکرات ، تحریک انصاف تیار
دہشت گردی کیخلاف کارروائیوں کی آڑ میں مبینہ سیاسی انتقامی اقدامات بند کرنے ،وزیراعلیٰ و دیگر کی فوری رہائی کا مطالبہ،صوبائی مذاکراتی کمیٹی میں بیرسٹر گوہر، علی امین گنڈاپور ، پختونخوااسمبلی کے 3 اراکین کو بھی شامل کیا جائیگا:ذرائع کا دعویٰ
پشاور ،اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک،بیورو رپورٹ ) حکومت سے مذاکرات ، تحریک انصاف تیار ہو گئی ،6رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیدی گئی پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی اور عوامی مینڈیٹ کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف ہر آئینی، قانونی، عدالتی اور سیاسی فورم پر جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیاجبکہ وفاقی حکومت سے مذاکرات کیلئے 6رکنی مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دیدی ،بیر سٹر گوہر نے 48 گھنٹے میں کمیٹی کے باضابطہ اعلان کی یقین دہانی کرادی۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختونخواکی پارلیمانی پارٹی کا گزشتہ رات اجلاس منعقد ہوا جس میں علی امین گنڈا پور سمیت 46 ارکان نے شرکت کی جبکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی اجلاس میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔اس موقع پر اہم سیاسی و آئینی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، اجلاس کے اعلامیے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں مبینہ سیاسی انتقامی اقدامات فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا،پی ٹی آئی کارکنان کے گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور ایم پی او کے تحت نظر بندیوں کی مذمت کی گئی جبکہ پارٹی کے پرچم اتارنے اور ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں ہٹانے کے اقدامات کو بھی ناقابل قبول قرار دیا گیا۔پارلیمانی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مستند معلومات فراہم کی جائیں اور اہل خانہ و وکلا کو فوری رسائی دی جائے، بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ کو فوری انصاف، ان کی بہنوں کی رہائی اور اہل خانہ کو تمام قانونی، انسانی اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں،وزیراعلیٰ پختونخوا، سپیکر اسمبلی اور دیگر منتخب نمائندوں کی مبینہ غیر آئینی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور انتظامی اختیارات کی منتقلی پر شدید تحفظات ہیں، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے عمل کو رول بیک کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی، اس سلسلے میں قبائلی مشران اور سیاسی جماعتوں کو مدعو کرکے مشترکہ جرگہ بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔پارلیمانی پارٹی نے بیرسٹر گوہر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پی ٹی آئی میں کوئی گروپ بندی نہیں، پارٹی کے تمام سیاسی و تنظیمی فیصلے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات اور باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے وفاقی حکومت سے مذاکرات کیلئے کمیٹی قائم کر دی جس میں بیرسٹر گوہر، علی امین گنڈاپور اور نور الحق قادری شامل ہوں گے، کمیٹی صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کرے گی۔ اس کمیٹی میں کے پی اسمبلی کے تین ارکان کو بھی شامل کیا جائے گا۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے باضابطہ اعلان کے بغیر مذاکرات کا حصہ بننے سے معذرت کر لی اور کہا کہ حکومت باضابطہ اعلامیے کے بغیر کس حیثیت سے مجھے قبول کرے گی ۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی تینوں بہنوں اور معطل وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی کی رہائی وفاقی پارلیمانی کمیٹی کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔