مریم نواز پتھر کے دور میں واپس لے جانا چاہتی ہے ، لطیف کھوسہ

 انکی بات لاقانونیت کو جنم دینے کے مترادف ، ان کا ذہنی توازن مجھے نہیں لگتا ٹھیک ہے 
لاہور(آئی این پی ) پی ٹی آ ئی رہنما اور سینئر قانون دان سردار لطیف کھوسہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا طرزِ بیان معاشرے میں لاقانونیت اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ مریم نواز کو اپنے موقف پر نظرثانی کرنی چاہیے، کیونکہ کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ایک انٹرویو میں سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ مریم بی بی نے جو بات کی ہے وہ لاقانونیت کو جنم دینے کے مترادف ہے اور اس سے انتہا پسندی کو مزید ہوا ملتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج کل کوئی عدالت اس معاملے پر ازخود نوٹس کیوں نہیں لے رہی؟ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو اس بیان پر کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے۔لطیف کھوسہ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز خود ہی جلاد، جج اور قانون نافذ کرنے کا اختیار رکھنے والی بن گئی ہیں، حالانکہ کسی بھی معاشرے میں قانون کے نفاذ اور سزا دینے کا اختیار متعلقہ قانونی اداروں کے پاس ہوتا ہے، کسی انفرادی شخصیت کے پاس نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہر شخص قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دے اور کسی ایک شخص کے جرم کی سزا اس کے پورے خاندان یا قبیلے کو دینے لگے تو معاشرہ انصاف کے بجائے انتقام کی راہ پر چل پڑے گا۔ کسی شخص کے قتل کے جواب میں اس کے پورے قبیلے کو نشانہ بنانا اجتماعی سزا اور لاقانونیت کی بدترین مثال ہے۔ ردار لطیف کھوسہ نے قبائلی نظام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کوسا اور لغاری قبائل کے درمیان بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔اگر ایک قبیلے کا کوئی شخص قتل ہو جاتا تو دوسرا قبیلہ انتقاما اپنے کسی دوسرے فرد کو قتل کر دیتا، خواہ وہ بے گناہ ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح ایک قبیلے کی جانب سے بھینس چوری کیے جانے پر دوسرا قبیلہ بدلے میں اس کی بکریاں اور گائیں چوری کر لیتا تھا۔ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے بیانات معاشرے کو دوبارہ اسی قبائلی اور انتقامی دور کی طرف دھکیل سکتے ہیں، جہاں لوگ قانون اور عدالتوں کے بجائے خود فیصلے کرتے تھے۔انہوں نے زور دیا کہ ریاست میں قانون کی بالادستی قائم رہنی چاہیے اور کسی کو بھی ذاتی یا اجتماعی انتقام کی بنیاد پر کارروائی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ مریم نواز کو اپنے طرزِ بیان اور موقف پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ معاشرے میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کا تصور برقرار رہ سکے۔