بلاعنوان

محمد تسنیم رضا
مہنگائی نے عوام کے کندھوں پر اتنا بوجھ ڈال دیا ہے کہ جب تک ان کو بھرپور پروٹین والی خوراک نہ ملے وہ اس بوجھ کو اٹھا نہ پائیں گے۔ مگر افسوس کہ پروٹین کے حصول کے لیے مٹن، بیف اور چکن عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکا ہے۔اس لء￿ ے وہ ان سے فاء￿ دہ نہیں اٹھا سکتے۔ ویسے تو دالیں بھی پروٹین حاصل کرنے کا اچھا ذریعہ ہیں لیکن وہ بھی اب گوشت کے نرخوں پر ہی دستیاب ہیں اور ان میں وہ ذائقہ بھی نہیں جس کے ہم عادی ہیں۔ شاید ہمارے معدے بھی اب دالوں کو قبول کرنے کے قابل نہیں رہے، کیونکہ سالوں سے صرف ایک ہی قسم کی پروٹین والی خوراک کھا کھا کر وہ اسی کے عادی ہو چکے ہیں۔
اس پروٹین  والی خوراک کی ضرورت اور ذائقے کا احساس ہمارے حکمرانوں کو تو ہوا نہیں حالانکہ روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی کا وعدہ اور پہلی ذمہ داری انہی کی تھی۔ لیکن جب یہ اپنی بے پناہ مصروفیت کی وجہ سے اپنی ذمہ داری کو نبھا نہ پائے تو اللہ کے کچھ نیک بندوں نے یہ ذمہ داری خود نبھانے کا سوچا تاکہ حکومت  کے بوجھ کو کچھ کم کیا جا سکے۔ اب یہاں مجھے خدشہ ہے کہ کوئی شر انگیز فتنہ پھیلانے کے لیے یہ نہ سوچ لے کہ حکومت کی وہ کون سی ذمہ داری ہے جو عوام تک روٹی، میرا مطلب پروٹین، پہنچانے میں رکاوٹ ہے۔ تو حکومتی کندھوں سے بوجھ کم کرنے کے لیے یہ ذمہ داری بھی میں ہی ادا کر دیتا ہوں، کیونکہ ’’محبِ وطن شہری ہونے کی حیثیت سے یہ میرا فرض بنتا ہے‘‘ کہ میں حکومت کی ذمہ داریوں کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار بھی ادا کروں تاکہ وطنِ عزیز دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر سکے۔
تو اے میرے ہم وطنو! غور سے سن لو، ہمارے حکمران اس وقت وطنِ عزیز کو ۹ مئی کے شرپسندوں سے بچانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ قوم کو گمراہ کرنے والے ان تمام دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے جنہوں نے قوم کو یہ بتا کر گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ تمہارے سابق حکمرانوں کی وجہ سے ملکی وسائل درست طریقے سے عوام تک نہیں پہنچ سکے، حالانکہ ان شرپسندوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان وسائل کو جہاں اچھی طرح پہنچنا تھا، وہ وہاں اچھی طرح پہنچ چکے ہیں۔
(اگر میرے جملے میں سے کوئی یہاں سابق حکمرانوں کی کرپشن کا مفہوم نکالتا ہے تو یہ اس کی اپنی شرپسندی ہے۔ میں نے نہ تو لفظ کرپشن لکھا ہے اور نہ ہی میرے جملے میں کوئی ایسا مفہوم پایا جاتا ہے)۔
ان تمام دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے نہ صرف حکومت بلکہ ہمارے تمام قومی ادارے بشمول عدالت دن رات اپنا کام کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کو سزائیں سنانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں دکھا رہے، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ وغیرہ اس کی ادنیٰ مثال ہیں اور اعلیٰ مثال جلد ہی پیش کی جائے گی، قیدی نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کر۔
بات ہو رہی تھی عوام کو پروٹین والی خوراک مہیا کرنے کی لیکن ان شرپسندوں کے تذکرے کی وجہ سے میری بات دوسری طرف نکل گئی۔اب ا?تے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف تو ذکر ہے اللہ کے ان نیک بندوں کا 
  جنہوں نے عوام کو پروٹین فراہم کر کے ان کے ناتواں کندھوں کو تھوڑی توانائی مہیا کرنے کے لیے کچھ مقدور بھر کوشش کی۔ انہوں نے اس کا آغاز تو لاہور سے کیا تھا اور وہ بڑی خاموشی کے ساتھ صوبائی دارالحکومت میں عوام کی خدمت میں مصروف رہے، اور جب انہیں محسوس ہوا کہ صوبائی دارالحکومت کی عوام کے کندھے بجلی کے بلوں، پٹرول کی قیمت، سبزیوں اور مہنگی دالوں کا بوجھ کچھ سہہ گئے ہیں تو انہوں نے وفاقی دارالحکومت کو بھی سستی پروٹین فراہم کرنے کا نیک قدم اٹھایا۔
شاید انہوں نے سوچا ہوگا کہ صرف عوام کی خدمت کرنے سے خواص کی حق تلفی ہوتی ہے، اور نیکی کرنے والے تو بغیر کسی امتیاز کے نیکی کرتے ہیں اور یہی اصل نیکی بھی ہے۔ آپ اللہ کے ان نیک بندوں کی سوچ کی گہرائی دیکھیں اور ان کے حسنِ انتخاب کی داد دیں جنہوں نے اپنے نیک مقصد کے لء￿ ے  ’’گدھے جیسے‘‘ جانور کا انتخاب کیا۔ صاحبِ علم و عقل جس طرح کے نتائج چاہتے ہیں اسی طرح کی غذا کا استعمال کرتے ہیں یا کراتے ہیں۔ اسی لیے حسن بن صباح اپنے فدائیوں کو بلی کا گوشت کھلاتا تھا اور اپنے عقیدے، نظریات کا پرچار یا واعظ کرنے والوں کو بادام، شہد اور حلوہ جات استعمال کراتا تھا۔ (بادام، شہد اور حلوے کا پڑھ کر اگر کسی کا دھیان روایتی ملا کی طرف چلا جاتا ہے تو وہ پڑھنے والے کا اپنا قصور ہے)
مجھے لگتا ہے کہ یہ نیک ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے صاحبِ علم لوگ بھی ہیں، انہوں نے عوام کو خوراک فراہم کرنے کے لیے اسی جانور کو چنا ہے جو بڑا صابر ہے، ذمہ دار ہے اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کا پورا اہل ہے۔ آئیے پہلے اس کی خوبیوں کا جائزہ لیتے ہیں، پھر دیکھیں گے عوام میں وہ خوبیاں پیدا ہوئی بھی ہیں یا نہیں۔
محنتی! گدھا بہت محنتی جانور ہے، بھاری بوجھ اٹھانے اور لمبے فاصلوں تک چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بردباری! یہ جانور بہت صابر اور برداشت کرنے والا ہوتا ہے، مار کھا کر بھی خاموش رہتا ہے۔
کم خوراک پر گزارا! گدھا معمولی خوراک پر بھی زندہ رہتا ہے، گھاس، بھوسہ اور خشک خوراک سے گزارا کر لیتا ہے۔
مضبوط جسمانی ساخت! اس کا جسم طاقتور ہوتا ہے، خاص طور پر کمر اور ٹانگیں، جو اسے بوجھ اٹھانے کے قابل بناتی ہیں۔
آواز! اس کی آواز (ڈھینچو ڈھینچو) بلند اور مخصوص ہوتی ہے، جو اکثر شور کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
وفادار! اپنے مالک یا روزمرہ استعمال کے ماحول سے وفادار رہتا ہے اور بغاوت نہیں کرتا۔
دھیمے مزاج کا! یہ جارحانہ جانور نہیں ہوتا، اکثر خاموش اور اپنے کام میں مگن رہتا ہے۔
ہم عوام محنتی بھی ہیں، بردبار بھی ہیں، کم خوراک پر بھی گزارا کر لیتے ہیں، جسم بھی ہمارے مضبوط ہیں سوائے کندھوں کے؛ انہی کو مضبوط کرنے کے لیے تو یہ کوشش کی گئی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو کب ہماری آواز اچھی لگتی ہے اسی لیے تو وہ اس پر کان نہیں دھرتے اور اپنی کرپشن میں مگن رہتے ہیں۔ (معاف کیجیے گا، اپنے کاموں میں مگن رہتے ہیں)۔ وفادار تو ہم اتنے ہیں کہ اصحابِ کہف کا وہ ساتھی بھی کیا ہوگا (سمجھ تو آپ گئے ہی ہوں گے)۔ ہم بغاوت نہیں کرتے اور انہی کو ہر بار منتخب کرتے ہیں، اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں جس کے سبب بیمار ہوتے ہیں، اور دھیمے مزاج سے خاموشی سے اپنے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ لگتا ہے اللہ کے نیک بندے عوام میں یہ سب خوبیاں پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
سوال تو میرا غیر متعلق ہے لیکن پتا نہیں کیوں پوچھنے کو دل چاہتا ہے:
کیا "وہ بھی "اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں" جنہوں" نے موجودہ حکمرانوں کو چنا ہے؟ کیا وہ بھی کسی خاص خصوصیات کے حامل لوگوں کو چاہتے تھے؟