واسا کا خالی ٹینکیوں سے کمائی کا منصوبہ

 11ٹینکیوں کو لیز پر دیا جائے گا،سیلولر کمپنیزکے ٹاور نصب ہونگے، 2 کروڑ12لاکھ آمدن متوقع 
لاہور (خصوصی رپورٹ)واسا لاہورنے عرصہ دراز سیدرجنوں اوور ہیڈ ریزروائر کاپرانا نظام متروک ہونے پرخالی ٹینکیوں کو اثاثہ بنا کر آمدن کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ابتدائی طور پر گیارہ ٹینکیوں کو لیز پر دیا جا رہا ہے۔واسا کے مطابق ان ٹینکیوں پر سیلولر کمپنیوں کے ٹاور نصب کیے جائینگے جس سے 2 کروڑ 12لاکھ 53 ہزار روپے آمدن متوقع ہے۔ظفر علی روڈ گلبرگ کی ٹینکی سے سب سے زیادہ آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو 33 لاکھ 35 ہزار ہے۔ شاہ جمال کی دو ٹینکیوں سے آمدن بالترتیب14لاکھ 75 ہزار اور 25 لاکھ78ہزار ہوگی۔ سمن آباد اور کالج بلاک اقبال ٹا ئون ٹینکی سے14لاکھ 75 ہزار فی کس آمدن کا تخمینہ ہے۔ٹی بلاک گلبرگ کی ٹینکی سے12لاکھ29ہزار اور مین گلبرگ ٹینکی سے20لاکھ 14 ہزار ،راوی بلاک اقبال ٹا ئون کی ٹینکی سے8لاکھ ، آنند روڈ ٹینکی سے14لاکھ 75 ہزار جبکہ گرین ٹا ئون ٹینکی سے 25 لاکھ78ہزار آمدن متوقع ہے۔واسا حکام کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی اثاثوں کو ریونیو میں بدلنے کیلئے بنائی گئی ہے تاہم شہری حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان مقامات پر ٹاورز لگنے سے ماحولیاتی اثرات اور سیفٹی کے تقاضوں بارے شفافیت لازمی ہونی چاہیے۔