لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے بارہویں ایڈیشن کی تیاریوں کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کھلاڑیوں کی ریٹینشنز کی آخری تاریخ 13 جنوری 2027 مقرر کر دی گئی ہے۔
ایونٹ کے فریم ورک، پلیئرز آکشن کے قواعد اور ٹیموں کے اسکواڈز سے متعلق معاملات پر تمام فرنچائزز نے اتفاق کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل سیزن 12 کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر کی زیر صدارت آپریشنز ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں تمام فرنچائزز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے دوران ریٹینشنز پالیسی، پلیئرز آکشن کی شرائط اور ٹیموں کے اسکواڈز کے حجم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں طے پایا کہ ہر فرنچائز زیادہ سے زیادہ سات کھلاڑیوں کو ریٹین کر سکے گی۔ تاہم، اگر کوئی ٹیم تمام سات کھلاڑی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے گزشتہ آکشن میں شامل اپنے سب سے مہنگے کھلاڑی کو لازمی طور پر ریلیز کرنا ہوگا۔ورکشاپ میں فرنچائزز کی سیلری کیپ بھی مقرر کر دی گئی۔ ہر ٹیم کے لیے 45 کروڑ پاکستانی روپے، یعنی تقریباً 1.6 ملین امریکی ڈالر کی بنیادی سیلری کیپ مختص کی گئی ہے۔ اگر کوئی فرنچائز کسی کھلاڑی کو ڈائریکٹ سائن کرتی ہے، گزشتہ سیزن کی ڈائریکٹ سائننگ برقرار رکھتی ہے یا دونوں آپشنز استعمال کرتی ہے تو اس کی سیلری کیپ بڑھ کر 50 کروڑ 50 لاکھ روپے ہو جائے گی۔
پلیئرز آکشن کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر فرنچائز کے لیے کم از کم 36 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کرنا لازمی ہوگا۔ دوسری جانب ڈائریکٹ سائننگ کا عمل 23 نومبر تک جاری رہے گا، تاہم فرنچائزز صرف ایسے غیر ملکی کھلاڑیوں کو براہِ راست سائن کر سکیں گی جنہوں نے گزشتہ دو پی ایس ایل سیزنز میں شرکت نہ کی ہو۔ریٹینشنز کی تاریخ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی گئی ہے تاکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے مقامی کھلاڑیوں کو بھی فرنچائزز کی توجہ حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔
اس موقع پر سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر نے کہا کہ یہ دن صرف فیصلوں کے حوالے سے اہم نہیں تھا بلکہ اس بات کی بھی اہمیت تھی کہ تمام معاملات پر اتفاق رائے کس انداز میں قائم ہوا۔ ان کے مطابق تمام فرنچائزز نے ورکشاپ میں کھلے پن کا مظاہرہ کیا اور پلیئرز آکشن کے اصولوں کے ایک ایک نکتے پر تفصیلی گفتگو کی۔