یاور مہدی
دوستو! ‘‘ب’’ کی بساط لپیٹ کر اب ‘‘پ’’ سے پروٹوکول کی پہلی پرواز کا احوال کچھ یوں ہے۔ بچپن میں تو ’پ‘ سے ’پتنگ‘ اڑائی اور یہی سمجھا کہ ہوا ہماری تابع ہے، مگر جب خود ہوا کے رحم و کرم پر آئے تو معلوم ہوا کہ ہر پرواز کے ساتھ ’پ‘ سے ’پرکھ‘ بھی ہے، ’پ‘ سے ’پابندی‘ بھی اور ’پ‘ سے ’پاکیزگی‘ بھی۔
اللہ رب العزت کا خاص کرم، والدین کی دعائیں، اور بڑے میاں صاحب، یعنی میاں نواز شریف کی ایک خاص سی نظرِ عنایت شاملِ حال رہی کہ ہمیں 7 کلب روڈ پر اْن کے پرسنل ڈپٹی سیکرٹری، نذیر سید صاحب کو رپورٹ کرنے کا پروانہ ملا۔ یوں سروس کے ابتدائی ایام میں ہم اقتدار کے اس گھر میں جا پہنچے جہاں عموماً رسائی کے لیے برسوں کی ریاضت، مضبوط حوالوں، ایجنسیوں کی مداخلت اور کہیں کہیں خاموش سی خوشامد کی سیڑھیاں طے کرنا پڑتی ہیں۔
ہم نے تو سنا تھا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس تک پہنچنے والے اکثر کسی نہ کسی ‘‘پ’’ سے ‘‘پہچان’’ یا ‘‘پ’’ سے ‘‘پشت پناہی’’ کے سہارے آتے ہیں، مگر ہمارا معاملہ کچھ مختلف نکلا۔ ہم نہ کسی بڑے تعارف کے امین تھے، نہ کسی سفارش کے سائے تلے آئے تھے۔ یہ محض بڑے میاں صاحب کی پہلی شفقت بھری نظر اور ’پ‘ سے ’پہچانِ نودرات‘ کا ایک عملی ثبوت تھا کہ ایک نوآموز کو اس قدر قریب آنے دیا گیا۔ یوں لگا جیسے کسی نوآموز کو پہلی ہی سیڑھی پر بٹھا کر کہا جائے: ‘‘بیٹا! اب دیکھو اور سیکھو۔’’
وہ دن بھی کیا دن تھے۔ ایک طرف اقتدار کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی، تو دوسری طرف اس کی تپش دل کو یہ احساس دلاتی تھی کہ یہ قربت جتنی دلکش ہے، اتنی ہی ذمہ داری طلب بھی۔ ہم نے نہ صرف اس نظام کی گرمی کو قریب سے محسوس کیا بلکہ اس کے سائے کی ٹھنڈک سے بھی خاموشی سے فیض اٹھایا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ محض پاور ہاؤس نہیں تھا بلکہ بقول جاوید محمود مرحوم، ایک "شیشے کا گھر" تھا۔ اس گھر میں ہماری سروس ایک آئینہ بن گئی۔ پھر جہاں بہار میں پھولوں نے اسے مہکایا اور یادگار بنایا، وہیں خزاں میں اسے جڑ سے اکھاڑنے کے لیے بڑے بڑے طوفان بھی آئے۔
(اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پر بجلیاں)
مگر کیا خوب کہا ہے شاعر نے:
تندی? بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب،
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے۔
اور یوں ہم بھی گریڈوں کی زنجیروں سے آزاد ہوئے، بلکہ یوں کہیں کہ چڑیا گھر کے پنجرے سے نکل کر "باغِ جناح" کی وسعتوں میں آ پہنچے۔
آج جب آنکھیں بند کریں تو وہ منظر صاف دکھائی دیتا ہے: 7 کلب روڈ کا پورچ، وائرلیس آپریٹر کی آواز کہ "شمس" ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہو چکے ہیں، سیکرٹری فرید الدین صاحب کا باوقار انداز میں ضروری عملے کے ہمراہ وزیراعلیٰ کا خیر مقدم، اور راہداریوں میں چلتی سنجیدہ سرگوشیاں۔ سمیع سید، خیام قیصر، ندیم حسن آصف اور سہیل مسعود کے ہاتھوں میں موجود فائلوں سے جھلکتی اقتدار کی مخصوص ہیبت، ملک منظور مرحوم کی آمد سے کچن سے اٹھتی کھانوں کی مہک، اور کہیں دور سے آتی ہوئی وہ آوازیں جن میں فیصلوں کا وزن بھی ہوتا تھا اور وقت کی رفتار بھی۔
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ! اگر اس کالم میں علی عارف اور حسن پیرزادہ مرحوم کی اس جوڑی کا ذکر نہ کروں تو میری یہ تحریر بے جان رہے گی، جنہوں نے خدمتِ خلق میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اور جی جناب! اگر میں یہ کہوں تو حق بجانب ہوں گا کہ جی ایم سکندر مرحوم کی کمال بصیرت بحیثیت سیکرٹری، میاں نواز شریف کے احکامات پر انتہائی احسن اور موثر طریقے سے عمل درآمد، اور دوسری طرف کیپٹن طارق مسعود کی بحیثیت اسٹاف آفیسر انتھک جانفشانی، میاں صاحب کے وزیراعلیٰ سے وزیراعظم تک کے کٹھن سفر کی انمنٹ داستان ہے۔ ان سب نے وہ کام کیے جن کا کوئی عام بیوروکریٹ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اور ہم میں اور عامر ضمیر پورچ کی سیڑھیوں پر کھڑے آنے والے مہمانوں کے استقبال کے ساتھ ساتھ یہ سب یوں دیکھتے تھے جیسے کوئی شاگرد پہلی بار استاد کے حجرے میں داخل ہو کر خاموشی سے اسرارِ خودی سیکھ رہا ہو۔
اب قصہ اس پہلی پرواز کا ہے جب ہمیں سروس کے پہلے ہی ماہ میں میاں نواز شریف اور اْن کے اسٹاف آفیسر، میجر شاہ نواز بدر کے ہمراہ ’سیسنا‘ طیارے میں ہم سفر ہونے کا اعزاز ملا۔ وہ بھی کرنل سلیم اور میجر سعید جیسے تجربہ کار اور باکردار پائلٹس کی معیت میں۔ پشاور کے اس پہلے پڑاؤ میں مختصر قیام، سیاسی آداب کی جھلک، جمعہ کی نماز، دوپہر کا کھانا اور پھر اسی تیزی سے واپسی کی پرواز۔ یوں شام تک لاہور پہنچ کر گویا ایک ہی دن میں ’پ‘ سے ’پرواز‘ اور ’پ‘ سے ’پروٹوکول‘ دونوں کا عملی سبق حاصل ہو گیا۔
اور ہاں، سب سے بڑھ کر حاجی شکیل اور عبدالستار مرحوم کی ہوائی میزبانی اور پائلٹس کی کمال ہموار لینڈنگ نے اس سفر کو یادوں میں ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔ لاہور آمد پر کرنل سلطان حیدر، مراتب علی شیخ مرحوم، محسن رانا مرحوم، عامر ضمیر، محمد نعمت اور دیگر احباب کے ہمراہ کینٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ہونہار افسر سلمان اعجاز کی نگرانی میں استقبالیہ انتظامات، کالی مرسڈیز کے باہر سفید یونیفارم میں ملبوس محمد فاروق کار پائلٹ، اور ٹریفک پائلٹ گاڑیوں پر محمد احسن مرحوم اور بلال کے چاق و چوبند سلیوٹ نے ان لمحات کو سحر انگیز بنا دیا۔
یہ سب یادیں آج بھی احساس دلاتی ہیں کہ اقتدار کی بساط پر رسائی صرف تعارف یا سفارش سے نہیں، بلکہ اللہ کی عنایت اور والدین کی دعاؤں سے بھی کیا خوب حاصل ہوتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ یقینِ کامل ہو۔ اسی 7 کلب روڈ کی قربت نے ہمیں یہ سکھایا کہ اصل پرواز صرف فضا میں نہیں ہوتی، وہ انسان کے اندر بھی ہوتی ہے۔ عہدے آتے جاتے ہیں، راستے بدلتے رہتے ہیں، مگر ابتدا اور پہلی قربت کا اثر عمر بھر ساتھ رہتا ہے۔
وقت کی گردش نے چہرے، عہدے اور عمارتیں ضرور بدلی ہیں، مگر آج بھی ان ایوانوں میں وہ تسلسل میاں شہباز شریف کی اور مریم نواز شریف کے جدید و توانا ویڑن کی بدولت جاری ہے۔ یہ یادیں ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں کام محض موجودگی یا منصب سے نہیں، بلکہ بصیرت، نظم و ضبط اور احساسِ ذمہ داری سے مکمل ہوتا ہے۔ یہاں ہم جیسے ریٹائرڈ افسران اپنی عمر بھر کی بصیرت کے ساتھ اب بھی ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ یہی ہماری پہچان ہی نہیں بلکہ ہماری شان بھی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ "پہچانِ نودرات" کا ذوق رکھنے والے قدر دانوں کو "گھوڑے اور کھوتے" کا فرق معلوم ہو!
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
یہ تو تھی ’پ‘ کی پہلی پرواز۔ اگلے کالم کا انتظار کیجیے، کیونکہ کہانی ابھی باقی ہے۔