اقبال طارق بحرین
زندگی ایک ایسی راہ پر چلنے والی داستان ہے جس میں ہر قدم کے ساتھ نئے سوالوں کے ساتھ نئے راز افشاں ہوتے ہیں۔ آدمی اپنے سفر میں آہستہ آہستہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ یہ سوال کرنے لگتا ہے کہ آخر میں کہاں جا رہا ہوں؟ کون سی منزل مجھے درکار ہے؟ اور کیا میری یہ ساری بھاگ دوڑ، آخرکار مجھے کہیں پہنچا پائے گی؟
یہ وہ سوالات تھے جو روزانہ میرا پیچھا کرتے تھے، جیسے کسی دکھتے ہوئے سائے کی مانند۔ میں ایک طویل عرصے تک انہیں خود سے چھپانے کی کوشش کرتا رہا۔ میں نے اپنی دنیا بنائی، اپنے اصولوں کے مطابق، اپنے نظریات کے مطابق۔ مگر اندر ہی اندر ایک عجیب سا خلا تھا جو روز بروز بڑھتا جا رہا تھا
ایک دن جب سورج غروب ہونے کے قریب تھا اور آسمان پر رنگوں کا کھیل جاری تھا ، میں ایک تنگ گلی میں چل رہا تھا، جیسے راستے کی کوئی انتہاء نہ ہو۔ قدم اٹھاتے ہوئے میں ایک پل رک کر سوچتا ہوں کہ آخر یہ سب کیا ہے؟ یہ سب جتنا ہم جیتے ہیں، جتنا ہم اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گراتے ہیں، اتنا ہی ہم ایک کھوکھلے دائرے میں گردش کرتے جاتے ہیں۔ اور پھر دل میں ایک آواز گونجتی ہے، "لوٹ تو جاؤں۔"
یہ آواز میرے اندر سے آئی تھی۔ کوئی اور نہیں، بلکہ یہ آواز خود میری اپنی تھی، جو سالوں سے چھپی ہوئی تھی۔ کیا واقعی لوٹ کر جانا ممکن ہے ؟ کیا میں وہ سب کچھ واپس حاصل کر سکتا ہوں جو میں نے اس دوڑ میں گنوا دیا؟ کیا میری سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ میں اپنے راستے پر چلتے ہوئے اپنے آپ کو بھول بیٹھا تھا؟
یادوں کی ایک سیریز میرے دماغ میں چلنے لگی۔ بچپن کے دن، جب ہم سب مل کر چھوٹے چھوٹے خواب دیکھتے تھے۔ وہ لمحے جب دنیا ہمیں ایک کھلونا لگتی تھی، جب محبتیں بے تکلف اور امیدیں بے شمار ہوتی تھیں۔ پھر جوانی کی اس دوڑ میں سب کچھ بدل گیا۔ میں نے اپنی تقدیر کو خود ہی نوشت کیا، اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت میں بدلتے بدلتے وہ خواب خود ہی مٹنے لگے۔ میں سمجھنے لگا کہ دنیا میں کامیابی کا راز صرف آگے بڑھنے میں ہے، حالانکہ یہ کامیابی ایک نیا دائرہ بناتی تھی۔
دور کہیں، دل کے کونے میں، ایک چمک تھی جو مجھ سے مسلسل پکار رہی تھی، "لوٹ تو جاؤں۔" کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ میں اپنی زندگی کی پچھلی راہوں پر واپس چلا جاؤں؟ کیا یہ ممکن تھا؟ میں نے اپنے آپ کو اس سوال سے آزاد کیا اور قدموں کو ایک نئی سمت دی
کچھ لمحوں کے لئے، دنیا اور اس کی تکالیف میرے دماغ سے نکل گئیں۔ میں نے دل کی آواز کو سنا، اور وہ آواز کہہ رہی تھی، "واپس جاؤ، وہ راستہ دوبارہ اپناؤ جسے تم نے بھلا دیا تھا، اپنی سادگی، اپنی معصومیت، اپنے مقصد کی اصل حقیقت کو دوبارہ دریافت کرو۔" وہ آواز صرف
لفظوں میں نہیں تھی، بلکہ ایک اندرونی سکون کا پیغام تھا۔ شاید یہی وہ راستہ تھا جس کی مجھے تلاش تھی، ایک راستہ جو مجھ سے جڑا ہو ، جو اپنی حقیقت کو جان کر حقیقت میں بدلے۔
اب میں ایک نیا عزم لے کر اٹھا ، ایک نیا نظریہ لے کر۔ لوٹنا فقط جسمانی نہیں، بلکہ روحانی تھا۔ واپس جانا تھا اپنی اصل حقیقت کے ساتھ، اپنی دنیا کے ساتھ، اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ کے ساتھ۔ میں نے وہ راستہ دوبارہ چن لیا جس پر چلتے ہوئے، کبھی میں نے اپنے آپ کو چھوڑ دیا تھا۔
زندگی کبھی بھی ایک سیدھی لائن نہیں ہوتی۔ یہ ایک دائرہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا، اور ہمیشہ ہمارے اندر کی آوازوں کی رہنمائی سے ہم اسے دوبارہ دریافت کرتے ہیں۔ اس دائرے کے دوران، لوٹنا صرف ایک سفر نہیں تھا، بلکہ ایک نیا آغاز تھا، ایک نیا ارتقاء تھا۔ اور جب میں واپس لوٹا، تو مجھے یہ احساس ہوا کہ میں اس سفر سے کہیں زیادہ خوش تھا کیونکہ میں خود کو دوبارہ پا چکا تھا
شاید میں کبھی اس سوال کا جواب نہ پاتا کہ لوٹنا کیا تھا، لیکن جب میں نے خود کو دوبارہ پایا، تب مجھے یہ سمجھ آیا کہ لوٹنا کبھی ایک جگہ پر نہیں ہوتا، بلکہ اپنے آپ کی دریافت ہے