ممبئی: بالی ووڈ اداکار عمران خان کو بھارت چھوڑنے کے حکم کے خلاف قانونی کارروائی میں عارضی ریلیف مل گیا ہے۔
ممبئی ہائی کورٹ نے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس آئندہ سماعت تک معطل کردیا ہے، جس کے بعد اداکار کے خلاف فوری کارروائی کا خطرہ ٹل گیا ہے۔عدالت نے کیس کی اگلی سماعت پیر، 2 نومبر کو سہ پہر 3 بجے مقرر کی ہے۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کی مزید سماعت کے لیے وقت دیا جائے، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔
عمران خان امریکی شہری، او سی آئی کارڈ بھی موجود
عامر خان کے بھانجے اور بالی ووڈ اداکار عمران خان امریکی شہری ہیں اور ان کے پاس اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ بھی موجود ہے۔ ان کی جانب سے بھارت چھوڑنے کے حکم کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مہیش چندرا ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی مختصر سماعت کی۔ اس دوران مرکزی حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انیل سنگھ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اگلی سماعت تک عمران خان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
وکیل کا مؤقف، اداکار کو فوری بھارت چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا
عمران خان کے سینئر وکیل وینکٹیش دھونڈ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آر آر او کی جانب سے جاری حکم کے تحت اداکار کو اگلے ہی روز بھارت چھوڑنا تھا۔ وکیل نے اس حکم کے خلاف قانونی اعتراضات اٹھاتے ہوئے عدالت سے مداخلت کی استدعا کی۔عدالت کی جانب سے نوٹس معطل کیے جانے اور حکومت کی یقین دہانی کے بعد عمران خان کو اگلی سماعت تک عارضی ریلیف حاصل ہوگیا ہے۔ تاہم اس فیصلے کو مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ معاملے کی مزید سماعت ہونا باقی ہے۔
بی جے پی رہنما کی شکایت سے معاملہ شروع ہوا
اطلاعات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کرٹ سومیا نے پولیس کو شکایت دی تھی کہ عمران خان بھارتی شہری نہیں بلکہ امریکی شہری ہیں، لہٰذا ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے معاملہ فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس کو بھجوا دیا، جس کے بعد اداکار کو بھارت چھوڑنے سے متعلق نوٹس جاری کیا گیا۔
احتجاج کے دوران ممبئی پولیس نے حراست میں لیا تھا
رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ 10 اکتوبر کو اس وقت سامنے آیا جب ممبئی پولیس نے عمران خان کو اگست کرانتی میدان کے قریب سے حراست میں لیا۔ وہاں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے لیے جاری خصوصی مہم، جسے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کہا جاتا ہے، کے خلاف احتجاج کیا جارہا تھا۔مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کررہے تھے۔ اسی احتجاج کے دوران اداکار کی حراست اور بعد ازاں ان کی شہریت سے متعلق شکایت نے معاملے کو قانونی رخ دے دیا۔
اگلی سماعت میں کیا ہوگا؟
ممبئی ہائی کورٹ میں 2 نومبر کو ہونے والی سماعت میں ایف آر آر او کے نوٹس اور اس کے خلاف عمران خان کے قانونی اعتراضات پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔ فی الحال عدالت نے نوٹس کو آئندہ سماعت تک معطل کیا ہے اور حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس دوران اداکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔