عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا

عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ سعودی عرب کی آئل ریفائنری پر حملے کے دعوے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 1.3 فیصد اضافے کے بعد 115.36 ڈالر فی بیرل، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 1.22 فیصد بڑھ کر 101.12 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 28 اکتوبر 2026 کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق صبح ایک بج کر 40 منٹ پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی کی اہم تنصیبات کو لاحق خطرات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔

برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت ایک ڈالر 48 سینٹ، یعنی 1.3 فیصد اضافے کے بعد 115.36 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت ایک ڈالر 22 سینٹ اضافے کے بعد 101.12 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر تیل کی پیداوار یا ترسیل کے اہم راستے متاثر ہوئے تو عالمی منڈی میں رسد کم اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

حوثیوں کا سعودی آئل ریفائنری پر میزائل حملے کا دعویٰ
رائٹرز کے مطابق یمن کے ایران نواز حوثیوں نے منگل کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری راس تنورہ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ اس تنصیب کی یومیہ تیل پراسیسنگ کی صلاحیت تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار بیرل ہے۔ سعودی حکام نے فوری طور پر حملے کی تصدیق نہیں کی تھی، اس لیے حملے سے متعلق دعوے کو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ راس تنورہ سعودی عرب کی اہم تیل برآمدی تنصیبات میں شامل ہے۔ خطے میں اس نوعیت کی تنصیبات کو لاحق خطرات عالمی منڈی میں خام تیل کی رسد، ترسیل اور قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہی خدشات حالیہ اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

 مذاکرات سے قیمتیں گریں، کشیدگی نے دوبارہ بڑھا دیں
عالمی منڈی میں اس سے ایک روز قبل مشرقِ وسطیٰ میں مذاکرات کے باعث تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں کچھ کمی آئی تھی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 2 ڈالر فی بیرل نیچے آگئی تھیں۔ تاہم، سعودی ریفائنری پر حملے کے دعوے کے بعد سرمایہ کاروں کی توجہ دوبارہ ممکنہ سپلائی رکاوٹوں کی جانب مبذول ہوگئی اور قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 امریکی خام تیل کے ذخائر میں معمولی اضافے کا امکان
دوسری جانب امریکا میں خام تیل کے ذخائر کے حوالے سے بھی مارکیٹ کی نظریں تازہ اعداد و شمار پر مرکوز ہیں۔ رائٹرز کے آٹھ تجزیہ کاروں کے سروے کے مطابق 23 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 15 ہزار بیرل اضافے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔ تیل کے ذخائر میں اضافہ عموماً رسد کی صورتحال بہتر ہونے کا اشارہ سمجھا جاتا ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور اہم توانائی تنصیبات کو لاحق خطرات قیمتوں پر الگ دباؤ ڈال سکتے ہیں۔