مون سون

زاہدانصاری

یوں تو پاک و ہند کے تمام موسم بہت ہی خوبصورت ہیں مگر مون سون کو بہت خاص اہمیت حاصل ہے اس موسم کے شروع ہونے سے قبل اور اختتام ہونے کے بعد پاک و ہند میں ایک موسم شادیوں کا بھی ہوتا ہے جسے کبھی محکمہ موسمیات نے نہ ترجیح دی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کبھی کوئی پیش گوئی ہے کہ مون سون سے قبل کتنی شادیاں ہونگی اور اس کے اختتام پذیر ہونے پر کتنے لوگ نئی زندگی شروع کریں گے
قارئین یہ چند الفاظ از راہ تفنن لکھے ہیں اور اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف کہ مون سون کا موسم کن لوگوں کیلئے خوبصورت اور کن لوگوں کیلئے وبال جان ہوتا ہے ، میں بات شروع کرتا ہوں خود اپنے گھر سے کہ جب بھی مون سون کی بارشوں کا تصور بھی ذہن میں آتا ہے تو میرے ساتھ میرا پورا گھر خوفزدہ ہو جاتا ہے کیونکہ ہم لوگ جس گھر میں رہتے ہیں وہ قریب پچاس سال قبل میرے ابا نے بنایا تھا تب یہ گھر بہت خوبصورت تھا ہمارے تمام رشتہ دار اور میرے ابا کے تمام دوست اس گھر کی تعریفیں کرتے تھکتے نہیں تھے بلکہ جو بھی ہمارے گھر کو دیکھتا تھا وہ خواہش کرتا تھا کہ مجھے اللہ نے توفیق دی تو میں بھی بالکل ایسا ہی گھر تعمیر کروں گا 
قارئین میرے ابا کا بزنس بہت اچھا تھا اور ہماری زندگی تمام سہولیات سے آراستہ تھی ہمارے رشتہ دار کئی کئی ہفتے ہمارے گھر میں رہتے تھے بلکہ میری ایک خالہ اور ایک ماموں تو مستقل ہمارے ہی گھر میں رہتے تھے اور ابا نے کبھی ان کو احساس تک نہیں ہونے دیا تھا کہ یہ گھر ان کا نہیں ہے بلکہ ابا ہم بہن بھائیوں سے زیادہ میری خالہ اور ماموں کی خواہشات کا خیال رکھتے تھے پھر خالہ کی شادی ہوگئی تو وہ اپنے سسرال چلی گئیں اور ماموں بھی جب کام کاج کرنے کے قابل ہوئے تو وہ بھی ہمیں چھوڑ کر ملتان اپنے امی ابا کے پاس چلے گئے یعنی کہ ابا کا کاروبار اچھا تھا تو ہم بھی بہت اچھے تھے اور ہمارے تمام رشتہ دار بھی بہت اچھے تھے 
پھر وقت میں تبدیلی آنا شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ ابا کا کاروبار بھی ختم ہوتا گیا اور رشتے بھی ختم ہونا شروع ہو گئے 
قارئین: بات شروع ہوئی تھی مون سون کی بارشوں سے تو تب یہ بارشیں اتنی خوبصورت تھیں کہ بیان کرنے کیلئے لفاظی نہیں ہے ساون کی آمد سے پہلے ہی امی نے پوڑے اور پکوڑے بنانے کا سامان منگوا لینا کیونکہ امی جانتی تھیں کہ بارش میں میٹھے پوڑے اور نمکین پکوڑے سبھی کو بہت پسند ہیں اور ابا کو بھی بہت فکر ہوتی تھی کہ بارش کے موسم میں بچوں کی خواہش کے مطابق تمام چیزیں گھر میں ہونا کتنی ضروری ہیں لہٰذا ہماری زندگی میں کسی قسم کی کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کی ہمیں کبھی کمی محسوس ہوئی ہو
مگر آج سب سے بڑی کمی جو مجھے محسوس ہو رہی ہے اور جس کمی کی وجہ سے یہ تحریر لکھنے پہ مجبور ہوا ہوں وہ کمی کبھی بھی پوری نہیں ہو سکتی وہ کمی یہ کہ اب نہ پوڑے بنانے والی امی ہے اور نہ سامان لا کر دینے والے ابا جان ہیں اب میں خود ابا ہوں اور میرے بچوں کی امی کو پوڑے بنانا نہیں آتے ہیں اب وہ خوبصورت گھر جو ابا نے بنایا تھا اب وہ گھر بھی خوبصورت نہیں رہا اب مون سون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا نام سن کر بھی ہم سب گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ اب ہمارا گھر بہت پرانا ہو چکا ہے اور بارش ہوتے ہی ہمارے گھر کی چھتیں ٹپکنا شروع ہو جاتی ہیں اور پانی ہمارے گھر کے اندر کمروں میں داخل ہو جاتا ہے اور ہمیں شدید نفرت ہے مون سون کی بارشوں سے اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ میرے جیسے بہت سے لوگ ہونگے جنہیں مون سون کی بارشوں سے ڈر لگتا ہوگا اور وہ نفرت کرتے ہونگے ساون رت سے
قارئین میری دعا ہے کہ میرے جیسے جتنے بھی لوگ ان مون سون کی بارشوں سے نفرت کرتے ہیں اللہ پاک انہیں بہت خوبصورت اور پکے گھروں میں رہنے کی استطاعت دے اور وہ بھی اس خوبصورت موسم سے لطف اندوز ہو سکیں آخر میں اپنا ایک شعر آپ لوگوں کے ذوق مطالعہ کی نذر کرتا ہوں
شہر میں خستہ مکاں بھی ہیں بہت سے زاہد
ٹھیک ہوتا نہیں بادل کا برستے رہنا