لاہور: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ سے متعلق مقدمے میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
پولیس نے منگل کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر حماد اظہر کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا، جہاں تفتیشی افسر نے سابق وفاقی وزیر سے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی۔تاہم عدالت نے پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
حماد اظہر کا 50 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل
حماد اظہر کو 9 مئی 2023 کے واقعات کے دوران لاہور میں جناح ہاؤس پر حملے اور توڑ پھوڑ سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ میں مختلف مراحل پر توسیع حاصل کی گئی، جس کے بعد مجموعی طور پر ان کا 50 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہوا۔سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کو حماد اظہر کا پولی گرافک ٹیسٹ، جسے عام طور پر جھوٹ پکڑنے کا ٹیسٹ کہا جاتا ہے، کرانا ہے اور اس مقصد کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔دوسری جانب حماد اظہر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے ملزم کی رضامندی ضروری ہے اور اس حوالے سے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا لازم ہے۔
عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے پولیس کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی اور حماد اظہر کو جوڈیشل تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔حماد اظہر کی قانونی ٹیم نے فیصلے کو 50 روزہ جسمانی ریمانڈ کے اختتام کے حوالے سے اہم قرار دیا۔