لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے ضلع اٹک میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے ایک ارب روپے مالیت کی 10 ایکڑ زمین عطیہ کرنے کا اعلان کردیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پسماندہ علاقوں کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی مفت فراہمی یقینی بنانا ہے۔گورنر پنجاب نے لاہور میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی آٹھویں دو سالہ کانفرنس کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے صحت کے شعبے میں مفت علاج کی سہولیات، طبی تحقیق اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ ضلع اٹک میں انڈس ہسپتال کی تعمیر سے علاقے کے عوام کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات مفت میسر آسکیں گی۔ ان کے مطابق انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے تعاون سے ضلع اٹک میں جدید اور معیاری طبی سہولیات سے آراستہ ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آبادی کو صحت کی سہولیات کے حصول میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ غریب اور مستحق عوام کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو اکثر بنیادی اور جدید طبی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ان کی محرومیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ صحت کی سہولیات تک رسائی ہر شہری کے لیے اہم ہے اور ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جن کے ذریعے کم آمدن والے خاندانوں کو مالی مشکلات کے بغیر علاج کی سہولت میسر آسکے۔
مفت علاج کی فراہمی قابلِ تقلید مثال ہے، گورنر پنجاب
سردار سلیم حیدر خان نے انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی جانب سے معیاری طبی سہولیات مفت فراہم کرنے کے ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی خدمت ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ ان کے مطابق صحت کے شعبے میں ایسے فلاحی اداروں کا کردار اہم ہے جو ضرورت مند افراد کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طبی تحقیق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے مؤثر طریقۂ کار اور طبی رہنما اصولوں کو صحت سے متعلق پالیسیوں کا حصہ بنایا جائے، تاکہ صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جاسکے اور ہنگامی حالات میں عوام کو بروقت طبی امداد فراہم کی جاسکے۔
موسمیاتی تبدیلی صحت کے نظام کے لیے بڑا چیلنج
گورنر پنجاب نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلیوں کے صحت کے شعبے پر مرتب ہونے والے اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور شدید موسمی حالات پاکستان کے صحت کے نظام کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور دیرپا حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات کے تناظر میں ماحول دوست اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ صحت کا نظام تشکیل دینا ہوگا، تاکہ قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات کے دوران طبی سہولیات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے عوام، بالخصوص کمزور اور پسماندہ طبقات کو محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ صحت کے شعبے میں پیشگی منصوبہ بندی، طبی تحقیق اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔گورنر پنجاب کے مطابق جدید طبی سہولیات کی فراہمی، مفت علاج کے دائرہ کار میں توسیع اور صحت کے نظام کو موسمیاتی خطرات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے سرکاری اداروں اور فلاحی تنظیموں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔