پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شہریوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے اخراجات نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔شہریوں کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نہ صرف سفری اخراجات بڑھ رہے ہیں بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیا بھی عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ ایندھن مہنگا ہونے کے باعث ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر گھریلو بجٹ پر پڑتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ محدود آمدن میں گھر کے اخراجات پورے کرنا پہلے ہی مشکل ہوگیا ہے، جبکہ بجلی، گیس، خوراک، تعلیم اور دیگر ضروریات کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے مالی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ ایسے حالات میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ عوام کے لیے ایک نیا بوجھ بن جاتا ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ سامان کی ترسیل، کاروباری سرگرمیوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کم آمدن والے طبقے کے ساتھ ساتھ تنخواہ دار افراد اور چھوٹے کاروباری حضرات بھی متاثر ہوتے ہیں۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات ضروری ہیں جن کے اثرات عام شہریوں کی زندگیوں میں نمایاں طور پر محسوس ہوں۔
شہریوں نے مزید زور دیا کہ حکومت آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور کم آمدن والے خاندانوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جامع اقدامات کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔