پاکستان کے معروف اداکار ہارون شاہد نے شادی کے موقع پر بھاری حق مہر مقرر کرنے کے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حق مہر کو کاروباری معاہدہ بنانے کے بجائے مرد کی مالی حیثیت کے مطابق طے کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق شادی کے لیے مالی مطالبات سے زیادہ لڑکے کے اخلاق، کردار اور رویے کو اہمیت دینی چاہیے۔حال ہی میں ندا یاسر کے مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ہارون شاہد نے حق مہر اور شادی کے معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض والدین بیٹی کے لیے بھاری حق مہر اس سوچ کے تحت مقرر کرواتے ہیں کہ اگر مستقبل میں بیٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یا وہ والدین پر مالی طور پر انحصار کرنے لگی تو یہ رقم اس کے کام آسکے گی۔اداکار کے مطابق بعض خاندانوں میں مستقبل کے خدشات کے باعث حق مہر کی رقم بہت زیادہ رکھی جاتی ہے، تاہم ان کے خیال میں کسی بھی شادی میں اس پہلو کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کے بجائے میاں بیوی کے درمیان احترام، اچھے برتاؤ اور باہمی سمجھ بوجھ کو ترجیح دینی چاہیے۔
بھاری حق مہر خوشگوار زندگی کی ضمانت نہیں
ہارون شاہد نے گفتگو کے دوران کہا کہ اگر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے تو بڑی جائیداد یا بھاری حق مہر بھی اس کے لیے خوشگوار ازدواجی زندگی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ مالی تحفظ اپنی جگہ اہم ہوسکتا ہے، لیکن شادی کے کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آئے۔ اگر رشتے میں محبت، اعتماد اور اچھا رویہ موجود نہ ہو تو محض مالی شرائط ازدواجی مسائل کا حل نہیں بن سکتیں۔اداکار کے خیالات کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ شادی کو صرف مالی معاملات اور شرائط تک محدود نہیں کرنا چاہیے، بلکہ شریکِ حیات کے مزاج، اخلاق اور ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
’میں خود ایک بیٹی کا والد ہوں‘
ہارون شاہد نے گفتگو میں اپنی بیٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود ایک بیٹی کے والد ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ان کی بیٹی سے سخت لہجے میں بھی بات کرے۔ان کے مطابق والدین کے لیے بیٹی کی خوشی، عزت اور تحفظ بہت اہم ہوتے ہیں، اسی لیے رشتہ طے کرتے وقت ایسے شخص کا انتخاب زیادہ اہمیت رکھتا ہے جو بیٹی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اسے عزت دے۔اداکار نے اس حوالے سے زور دیا کہ والدین کو رشتہ طے کرتے وقت صرف مالی حیثیت یا حق مہر کی رقم پر توجہ دینے کے بجائے لڑکے کے کردار اور اس کے رویے کو بھی اچھی طرح پرکھنا چاہیے۔
شادی میں اخلاق اور کردار کو ترجیح دینے پر زور
ہارون شاہد کے بیان نے شادی کے موقع پر حق مہر کی رقم اور مالی تحفظ سے متعلق بحث کو ایک بار پھر موضوعِ گفتگو بنا دیا ہے۔ ان کے مؤقف کے مطابق حق مہر کو مرد کی استطاعت کے مطابق طے کرنا چاہیے اور اسے ایسا مالی مطالبہ نہیں بنانا چاہیے جو شادی کے بنیادی مقصد پر حاوی ہوجائے۔