مجوزہ ترمیم کے مطابق سیاسی جماعتیں، امیدوار اور حامی اے آئی سے بنا یا تبدیل شدہ انتخابی مواد واضح لیبل کے بغیر شائع نہیں کر سکیں گے
ڈیپ فیک، مصنوعی آواز اور ویڈیو پر اے آئی جنریٹڈ ہونے کا واضح ذکر لازم ہوگا، ووٹرز کو دھوکہ دینے والا مواد بنانا، شائع کرنا ممنوع ہوگا
کسی شخص کی شکل، آواز یا بیان کو جعلی انداز میں بنانا ممنوع ہوگا، جج، الیکشن اہلکار اور افواج کے خلاف جعلی ڈیپ فیک مواد پر پابندی ہوگی
اسلام آباد(آئی این پی )الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی عمل میں مصنوعی ذہانت(اے آئی) کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں، میڈیا اور مبصرین کے ضابطہ اخلاق میں اے آئی ترمیم کی تجویز دے دی، انتخابی عمل میں اے آئی کا غلط استعمال روکنے کیلئے عوام اور سیاسی جماعتوں سے تجاویز طلب کر لی گئی۔سیاسی جماعتوں کو اے آئی سے متعلق مجوزہ ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا۔مجوزہ ترمیم کے مطابق سیاسی جماعتیں، امیدوار اور حامی اے آئی سے بنا یا تبدیل شدہ انتخابی مواد واضح لیبل کے بغیر شائع نہیں کر سکیں گے، ڈیپ فیک، مصنوعی آواز اور ویڈیو پر اے آئی جنریٹڈ ہونے کا واضح ذکر لازم ہوگا، ووٹرز کو دھوکا دینے والا اے آئی مواد بنانا، شائع کرنا ممنوع ہوگا۔مجوزہ ترمیم میں کہا گیا کہ کسی شخص کی شکل، آواز یا بیان کو جعلی انداز میں بنانا سختی سے ممنوع ہوگا، جج، الیکشن اہلکار اور افواج کے خلاف جعلی ڈیپ فیک مواد پر پابندی ہوگی، مصوعی ذہانت بوٹس اور آٹومیٹڈ اکائونٹس سے جعلی ٹرینڈز اور لائکس بنانے پر پابندی ہوگی، روبو کالز اور وائس کلون میسجز پر شروع میں اے آئی جنریٹڈ کا بتانا لازم ہوگا، تمام اے آئی مواد کا ریکارڈ رکھنا اور الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا لازم ہوگا۔الیکشن کمیشن نے میڈیا کے اے آئی استعمال سے متعلق بھی مجوزہ ترامیم جاری کر دیں۔مجوزہ ترمیم کے مطابق تمام پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اے آئی مواد پر واضح لیبل لگائیں گے، میڈیا کو امیدوار یا انتخابی معاملے پر اے آئی تصویر، ویڈیو، آڈیو نشر کرتے وقت اے آئی کا بتانا لازم ہوگا، جعلی، توہین آمیز اور ہتک آمیز ڈیپ فیک مواد بنانا سختی سے ممنوع ہوگا۔مجوزہ ترمیم میں کہا گیا کہ میڈیا ہائوسز اے آئی کا استعمال صرف کنٹینٹ جنریشن، ترجمہ اور تجزیہ کیلئے کر سکیں گے، پیمرا، ایس ایم پی آر اے اور این سی سی آئی اے اے آئی مواد کی مانیٹرنگ کریں گے، بغیر لیبل والے اے آئی مواد پر کارروائی اور رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھجوائی جائے گی