افغان شہریوں کی ہلاکت کے الزامات مسترد‘دفاع کیلئے ضروری اقدامات کا حق ہے دفترخارجہ

 غلط معلومات اور گمراہ کن بیانیے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا  نہیں سکتے ‘افغان سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکا جائے
عالمی برادری افغان  حکومت کو  سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دیگر متعلقہ وعدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکامی پر جواب دہ ٹھہرائے
اسلام آباد(آئی این پی )د فترخارجہ  کے ترجمان نے افغان طالبان حکومت کے بے بنیاد الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے  پاکستان دہشت گردی کے خلاف دفاع کا حق رکھتا ہے۔دفتر خارجہ  سے جاری بیان کے مطابق  ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق بے بنیاد اور غیر مصدقہ الزامات کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غلط معلومات اور گمراہ کن بیانیے نہ تو ان دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا سکتے ہیں جو افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور نہ ہی افغان طالبان حکومت کو اس ذمہ داری سے بری کر سکتے ہیں کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔بیان میں  کہاگیا  ہے کہ صرف 2026 میں ان حملوں کے نتیجے میں 3,500 سے زائد جانی نقصانات ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے مسلسل سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق افغان طالبان حکومت بدستور متعدد دہشت گرد تنظیموں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور انہیں کھلی چھوٹ حاصل ہے، ان تنظیموں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، فتن الخوارج، بلوچ لبریشن آرمی، فتنہ الہندوستان اور ان سے وابستہ گروہ شامل ہیں، یہ تنظیمیں خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں شہید ہو چکی ہے، ان حملوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت، سرپرستی اور عملی کارروائیاں افغان سرزمین سے کی گئی ہیں، اور یہ سب افغان طالبان حکومت کی نگرانی، سرپرستی اور فعال معاونت کے تحت ہوا ہے