وعدہ خلافی

آپا منزہ جاوید
انسان کی پہچان اس کے لباس، دولت یا منصب سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے، اور کردار کی سب سے روشن علامت وعدہ نبھانا ہے وعدہ صرف زبان سے ادا کیے جانے والے چند الفاظ نہیں ہوتابلکہ وہ اعتماد کی بنیاد یقین کا سرمایہ اور انسان کی سچائی کا پیمانہ ہوتا ہے جب کوئی شخص کسی سے وعدہ کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے الفاظ کو اپنی عزت اور اپنے کردار سے جوڑ دیتا ہیاگر وہ وعدہ پورا کر دے تو اعتماد مضبوط ہوتا ہے لیکن اگر وہ وعدہ توڑ دے تو صرف ایک بات نہیں ٹوٹتی بلکہ دل امیدیں اور رشتے بھی بکھر جاتے ہیں
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج وعدہ خلافی ہمارے معاشرے کا ایک معمول بنتی جا رہی ہے لوگ بغیر سوچے سمجھے وعدے کر لیتے ہیں مگر انہیں پورا کرنے کی فکر نہیں کرتے کبھی دوستی کے نام پر کبھی محبت کے نام پر، کبھی کاروبار میں کبھی سیاست میں اور کبھی گھریلو تعلقات میں ایسے وعدے کیے جاتے ہیں جو چند دن بعد محض الفاظ ثابت ہوتے ہیں اس رویے نے معاشرے سے اعتماد کی دولت چھین لی ہے آج لوگ کسی کی بات پر یقین کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہوں نے بارہا وعدوں کو ٹوٹتے دیکھا ہے۔
اسلام نے وعدہ پورا کرنے کو محض ایک سماجی خوبی نہیں بلکہ ایمانی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔
(سور? بنی اسرائیل، آیت 34)
یہ آیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ ہر وعدہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اہم ہے۔ دنیا میں لوگ شاید بھول جائیں، مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر عہد کا حساب ہوگا۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ بات بہت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔
(سور? الصف، آیات 2-3)
یہ آیات صرف وعدہ خلافی کی مذمت نہیں کرتیں بلکہ انسان کو اس کے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کرنے کی دعوت دیتی ہیں جو شخص زبان سے کچھ اور کہتا ہے اور عمل اس کے برعکس کرتا ہے، وہ اپنے کردار کو کمزور کر دیتا ہے۔
رسولِ اکرم ? نے بھی وعدہ خلافی سے سختی سے منع فرمایا۔ آپ ? نے ارشاد فرمایا:
"منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 33، صحیح مسلم، حدیث: 59)
یہ حدیث ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ وعدہ خلافی صرف ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ ایک ایسی خصلت ہے جو انسان کو نفاق کی صفات کے قریب لے جاتی ہے۔
ہم میں سے ہر شخص نے کبھی نہ کبھی وعدہ خلافی کا درد محسوس کیا ہے۔ بعض زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں، مگر ٹوٹا ہوا اعتماد آسانی سے بحال نہیں ہوتا۔ ایک بچہ جب اپنے والدین کے وعدے بار بار ٹوٹتے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہیایک دوست جب اپنے دوست کی وعدہ خلافی کا سامنا کرتا ہے تو دوستی کے معنی بدلنے لگتے ہیں ایک شریکِ حیات جب وعدوں کو محض الفاظ بنتے دیکھتا ہے تو رشتے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں اس لیے وعدہ خلافی صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات حالات انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے اور وہ کسی حقیقی مجبوری کی وجہ سے اپنا وعدہ پورا نہیں کر پاتا۔ اسلام ایسے شخص کو وعدہ خلاف نہیں کہتا جو سچی مجبوری کے باعث معذور ہو اور خلوصِ دل سے اپنی معذرت پیش کرے۔ اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان جان بوجھ کر جھوٹے وعدے کرے، لوگوں کو امید دلائے اور پھر ان کی امیدوں کو توڑ دے۔ یہی رویہ دلوں میں نفرت، بداعتمادی اور دوریوں کو جنم دیتا ہے۔
وعدہ خلافی کا سب سے گہرا اثر انسانی دل پر ہوتا ہے۔ بعض زخم وقت گزرنے کے ساتھ بھر جاتے ہیں، مگر ٹوٹا ہوا اعتماد برسوں بعد بھی دل میں ایک خلش بن کر باقی رہتا ہے۔ انسان دھوکا شاید معاف کر دے، مگر وہ لمحہ کبھی نہیں بھولتا جب اسے احساس ہوا کہ جس شخص پر اس نے اعتماد کیا تھا، اس کے الفاظ حقیقت نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وعدہ خلافی صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک ایسا رویہ ہے جو دلوں میں بدگمانی، مایوسی اور بے یقینی پیدا کرتا ہے۔
دوستی کا رشتہ اعتماد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ سچا دوست وہ نہیں جو صرف خوشیوں میں ساتھ ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے وعدوں کا بھی پاس رکھے۔ جب ایک دوست بار بار وعدہ کرے اور پھر ہر بار اپنی بات سے پھر جائے تو دوستی کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ ایسے میں رشتہ ظاہری طور پر تو باقی رہ سکتا ہے، مگر اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دوستی کی حفاظت صرف محبت سے نہیں بلکہ سچائی، وفاداری اور وعدہ نبھانے سے ہوتی ہے۔
ازدواجی زندگی میں بھی وعدہ نبھانے کی اہمیت بے حد زیادہ ہے۔ نکاح صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا گیا ایک مضبوط عہد ہے۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق، احترام اور ساتھ نبھانے کے وعدے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں تو گھر سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ لیکن جب وعدے نظر انداز ہونے لگیں، باتوں اور عمل میں فرق آ جائے، اور اعتماد ٹوٹنے لگے تو وہی گھر بے سکونی کا سبب بن 
 جاتا ہے کاروبار میں بھی کامیابی کا اصل سرمایہ صرف دولت نہیں بلکہ اعتبار ہے۔ ایک تاجر جو اپنے وعدے پورے کرتا ہے، وقت کی پابندی کرتا ہے اور اپنے گاہک سے سچ بولتا ہے، لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جھوٹے وعدے، غلط یقین دہانیاں اور وعدہ خلافی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہیں، مگر دائمی عزت، اعتماد اور برکت کبھی نہیں دے سکتیں۔
اسی طرح معاشرے میں جب حکمران، رہنما یا ذمہ دار افراد عوام سے ایسے وعدے کریں جنہیں پورا کرنے کا نہ ارادہ ہو اور نہ صلاحیت، تو لوگوں کے دلوں میں صرف ان افراد ہی سے نہیں بلکہ پورے نظام سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ ایک مضبوط معاشرہ صرف مضبوط عمارتوں سے نہیں بنتا بلکہ ایسے لوگوں سے بنتا ہے جن کے الفاظ پر بلا جھجھک یقین کیا جا سکے۔
ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہم معمولی باتوں میں وعدہ خلافی کے عادی تو نہیں ہو گئے۔ بچوں سے کیا گیا وعدہ، کسی دوست سے ملاقات کا وقت، دفتر کی ذمہ داری، کسی ضرورت مند کی مدد کی یقین دہانی یا کسی امانت کی واپسی، یہ سب وعدے ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اگر ہم چھوٹے وعدوں کو معمولی سمجھ کر توڑتے رہیں تو آہستہ آہستہ یہ عادت ہمارے کردار کا حصہ بن جاتی ہے۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر کسی وعدے کو پورا کرنا ممکن نہ رہے تو خاموشی اختیار کرنے یا جھوٹ بولنے کے بجائے سچائی کے ساتھ معذرت کی جائے۔ سچ بولنے والا شخص وقتی شرمندگی تو محسوس کر سکتا ہے، مگر وہ اپنے کردار کی عزت محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے برعکس جھوٹا وعدہ وقتی خوشی دے سکتا ہے، لیکن آخرکار شرمندگی، بداعتمادی اور تعلقات کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بنتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر وعدہ صرف انسانوں سے نہیں ہوتا۔ ہم اپنے رب سے بھی عہد کرتے ہیں کہ اس کے احکام پر عمل کریں گے، سچ بولیں گے، امانت ادا کریں گے اور انصاف سے کام لیں گے۔ اگر ہم اپنے خالق کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو ہمیشہ یاد رکھیں تو بندوں کے ساتھ کیے گئے وعدے نبھانا بھی آسان ہو جائے گا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف کامیابی حاصل کرنا نہ سکھائیں بلکہ یہ بھی سکھائیں کہ کامیابی سے کہیں زیادہ قیمتی چیز اچھا کردار ہے؛ ایسا کردار جس کی بنیاد سچائی، امانت داری اور وعدہ پورا کرنے پر ہو۔ کیونکہ دولت، شہرت اور طاقت وقتی ہو سکتی ہیں، مگر ایک باکردار انسان کی عزت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
آخر میں ہر انسان کو خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: کیا میرے الفاظ پر لوگ اعتماد کرتے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب "ہاں" ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اور اگر جواب "نہیں" ہے تو ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے کردار کی اصلاح کریں۔
یاد رکھیے! وعدہ صرف زبان سے ادا ہونے والے الفاظ نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی کے دل میں رکھی گئی ایک امانت ہوتا ہے۔ امانت اگر سنبھال لی جائے تو رشتے عمر بھر مہکتے رہتے ہیں، اور اگر اس میں خیانت ہو جائے تو صرف وعدہ نہیں ٹوٹتا، بلکہ انسان بھی اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔
وہی لوگ تاریخ میں عزت پاتے ہیں جن کی زبان اور کردار میں یکسانیت ہوتی ہے، کیونکہ سچا وعدہ صرف رشتے نہیں جوڑتا بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب بھی کر دیتا ہے۔