نرجی کا دیوتا، سورج

 نازیہ آصف 
ازمنہ قدیم سے بنی نوع انسان کی یہ روایت رہی ہے کہ جس چیز سے اسے  فوائد حاصل ہوئے، انسان نے اس  کی پوجا شروع کر دی، یا جس چیز سے اسے تحفظ کا احساس ملا، اسے بھی دیوی یا دیوتا کا درجہ دے دیا۔
اس سلسلے میں کء چیزوں کی مثال دی جا سکتی ہے جیسے گائے، بیل، چاند، آگ یا پھر سورج ،  سورج کو قدیم مذاہب میں دیوتا کا درجہ حاصل رہا ہے۔
سورج ہماری زندگی کا محور و منبع ہے۔
ہندومت میں اسے "سوریا" کہہ کر پوجا  گیا، قدیم مصری تہذیب میں اسے سورا کہا گیا گیا۔ یونانی اور اہل روم سورج کی تکریم میں ان سے بھی آگے بڑھ گئے ، ان کے بقول "  دو دیوتا " ہیلیوس اور سول"  سورج کی گاڑی کھینچنے پہ مامور تھے۔ 
مایا اور انکا تہذیب میں اسے کائنات کو منظم رکھنے والا قرار دیا دیا گیا۔
یعنی کوء مذہب اور تہذیب بھی سورج کی افادیت کو رد نہ کر سکی۔
مگر ہم دین اسلام کی بات کریں' تو یہ بات بالکل سچ ثابت ہوتی ہے کہ یہ سورج ہی ہے جو ہماری زندگی کا محور و منبع ہے اور ہمارے اوقات کار منظم رکھے ہوئے ہے۔
مقولہ یے کہ " جس گھر میں سورج داخل نہیں ہوتا، وہاں ڈاکٹر داخل ہوتا ہے۔  یہاں سورج سے مراد دھوپ ہے ، دھوپ ایک قدرتی جراثیم  نعمت ہے ، انسان کے کء مسائل کا حل اس دھوپ میں بھی پوشیدہ ہے۔ہمارے خطے میں جہاں موسم سخت تر ہوتا جا رہا ہے ایسے میں سردی بھی بھرپور جوبن دکھاتی ہے، مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اپنے گھر کچھ اس ڈھب پہ بنا لیے ہوئے ہیں کہ ان میں دھوپ جھاتی بھی نہیں ڈال سکتی، ہماری صبحیں اور شامیں دیوار پہ ٹنگے کلاک سے ہوتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہت سے مسائل دھوپ کی عدم دستیابی سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔۔نزلہ ،زکام ، جوڑوں کا درد، شوگر ، بلڈ پریشر ، ڈپریشن، چڑچڑا پن،  کے علاوہ بھی کء ایسے مسائل ہیں جن کی وجوہات میں دھوپ سے مستفید نہ ہونا بھی ایک اہم وجہ ہے۔
ہم طلوع غروب آفتاب کے خوبصورت مناظر سے لطف اٹھانے کی بات تو اکثر سنتے ہیں ،مگر اس لطف کے پیچھے پوشیدہ ایک سائنسی کلیہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ   آنکھوں کو بھلا لگنے والے اس سین میں دھوپ  ہمارے اندر وٹامن ڈی کو متحرک کرتی ہے ، جو کیلشیم اور فاسفورس کے تعاون سے پٹھوں کو تقویت دیتے ہیں، یوں مثبت طاقت کے بڑھنے سے کارٹیسول (سٹریس پیرا کرنے والے ہارمونز) کم ہوتا چلا جاتا ہے اور انسان خود کو تندرست و توانا محسوس کرتا ہے۔
ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہمارا ملک خط استوا کے اس حصے میں واقع ہے کہ جہاں ہمارے ہاں کے موسم میں تنوع پایا جاتا ہے، ورنہ دنیا میں ایسے خطے بھی ہیں جہاں سورج طلوع ہی نہیں ہوتا۔
عموما تاریکی میں رہنے والے لوگوں میں ڈپریشن، مایوسی اور دوسرے جسمانی عوارض نسبتا زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس لیے جہاں ڈپریشن مایوسی منفیت زیادہ ہو جاتی ہے وہاں اکثر شوگر ، دل کے عوارض ، اور جوڑوں کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے نزدیک  کووڈ کے دنوں میں جانبر نہ ہو پانے والے مریضوں میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان کے  ٹیسٹوں میں وٹامن ڈی کی شدید کمی بھی پاء گء تھی۔ اسی طرح جوڑوں کا درد آجکل درد سر بنا ہوا یے اگرچہ اس کی کء اور وجوہات بھی ہیں مگر اس میں ایک اہم وجہ وٹامن ڈی کی کمی بھی ہے۔اس لیے لازم ہے کہ روزانہ کچھ دیر دھوپ میں بیٹھا جائے ، یا کوء کام کاج دھوپ میں بیٹھ کر کر لیا جائے، اس سے ذہنی قلبی و جسمانی تقویت ملتی یے۔
 اکثر لوگ خاص طور پہ خواتین بالوں کے گرنے اور ایڑیوں کے پھٹ جانے جیسے مسائل سے زیادہ دوچار ہوتی ہیں ، ان کے عوامل میں سرد، خشک ہوا کے علاؤہ وٹامن ڈی کی کمی بھی کار فرما ہوتی ہے۔
مگر بہت اچھی بات یہ ہے کہ اللہ پاک نے ان تمام مسائل کا حل  بہت مہنگے فوڈ سپلیمنٹس میں نہیں بلکہ ہم  انسانوں کو عطا کی گء نعمتوں میں رکھا ہے۔
عموما یہ کہا جاتا ہے کہ " بڑھاپا ٹانگوں سے شروع ہوتا ہے "  تو اس بلا کو ٹالنے کے ساتھ ساتھ  مندرجہ بالا عوارض میں آفاقے اور  چاک و چوبند رہنے کے لیے  موسم سرما کی چمکدار دھوپ میں بیٹھ کر سردیوں کی نعمتوں مالٹا، مولی، شلجم سے لطف اندوز ہوا جائے، اس سے ان کی افادیت دوگنا ہو جاتی ہے۔ دھوپ سے وٹامن ڈی لیتے ہیں دوسرا ان نعمتوں سے آپ زنک اور میگنیشیم بھی حاصل کرتے ہیں۔جو ہڈیوں پٹھوں کے لے بہت ضروری ہیں۔
بدقسمتی سے آج کی نسل کو دھوپ میں بیٹھنے سے  رغبت ہے نہ فرصت ، دوسرا سانولی رنگت کا خوف، اوپر سے  سموگ اور آلودہ فضا سونے پہ سہاگہ والا کردار ادا کر رہے ہیں ،  مگر پھر بھی لازم ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے جیسا کہ
ماسک لگا کر ، ناک کے اندر تیل لگا کر، یا پھر کوء رومال ہلکا سا گیلا کر کے ناک پہ رکھ کر دھوپ میں بیٹھا جائے یا تھوڑی دیر لیٹ کر سستا لینے میں بھی کوء حرج نہیں۔  ان مسائل سے نبٹنے کے لیے بہت اچھے سن بلاک یا سن سکرینز بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کو دھوپ میں لٹا کر تیل سے ان کی مالش کی جائے۔
آجکل ہمارے نوجوانوں میں جم جانے اور ورزش کرنے کا رحجان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے جو کہ بہت خوش آئند بات ہے، ان نوجوانوں کے لیے بھی لازم ہے کہ  وہ ہفتے میں ایک بار ہی سہی، دھوپ میں بیٹھ کر جسم کا اچھے سے تیل سے مساج ضرور کریں ، ماضی میں اکھاڑوں میں کشتی لڑنے والے پہلوانوں کا یہی عمل اس امر کی تائید کرتا یے۔
آجکل صرف دھوپ کے صرف نقصانات گنوائے جاتے ہیں جبکہ اس کے مفید پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے مگر اللہ پاک کی کوء تخلیق بھی ضرر رساں نہیں ، خرابی ہمارے استعمال کے طریقہ کار میں ہے۔