یاور مہدی
دوستو! ‘‘الف’’ کے قصے تو آپ سماعت فرما چکے، اب ذرا ‘‘ب’’ کی بہار بھی دیکھ لیجیے۔ بچپن کے اس معصوم قاعدے میں تو ہم نے یہی پڑھا تھا کہ ’ب‘ سے ’بابا‘ اور ’بکری‘ ہوتی ہے، مگر جب ہوش سنبھالا اور گھر کی بزرگ ہستیوں نے تختی پر پہلی لکیر کھینچی تو یوں ارشاد ہوا: "بیٹا! ب سے بسم اللہ کرو"۔ ہم بھی سادہ لوحی میں یہ سمجھ بیٹھے کہ اگر ہر کام کا آغاز اس بابرکت نام سے ہو جائے تو زندگی کی ہر فائل ’ب‘ سے ’بغیر کسی رکاوٹ‘ کے پار لگ جایا کرے گی۔
مگر جناب! جب عملی دنیا کے اس ’ب‘ سے ’بارگاہِ سلطانی‘ اور ایوانوں میں قدم رکھا تو یہ عقدہ کھلا کہ ’بیوروکریسی‘ ہی طاقت کا ’ب‘ سے ’بنیادی مرکز‘ ہے، جہاں بعض فرعون صفت لوگ ’بسم اللہ‘ تو کجا، بندہ ’ب‘ سے ’بندگی‘ بھی بھول بیٹھتے ہیں۔
اسی ’ب‘ کی دنیا میں ایک نہایت قدآور شخصیت کا ذکر نہ کرنا صریح ناانصافی ہوگی، جنہیں ہم محبت اور احترام سے ’بڑے میاں صاحب‘ یعنی میاں نواز شریف کہتے ہیں۔ کیا ہی دور تھا جب وہ پنجاب کے ’ب‘ سے ’بااختیار‘ وزیراعلیٰ تھے اور ہم ان کے ایک ’ب‘ سے ’بھولے بھالے‘ اور نووارد افسر ہوا کرتے تھے۔ سچ پوچھیے تو ہم نے ان کی بے پناہ قربت، شفقت اور اعتماد کو، دوسروں کی طرح، کبھی ’کیش‘ نہیں کروایا؛ ورنہ آج ہم بھی ان بیوروکریٹس کی صف میں کھڑے ہوتے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ’ب‘ سے ’بڑے عہدوں‘ پر سفیر، وزیر یا مشیر بن کر ’ب‘ سے ’بڑی مراعات‘ کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
یقین جانیے، ہم نے اپنی انہی آنکھوں سے بہت سے ’ادنیٰ‘ کو ’اعلیٰ‘ بنتے دیکھا۔ کیا خوب مثال ہے کہ بڑے میاں صاحب کی شخصیت ہمیں ’پارس‘ سی لگی، جو پتھر کو سونا کر دے۔ اس دور میں جو بھی ان سے ’ب‘ سے ’براہِ راست‘ رگڑ کھا گیا، وہ محض ’ب‘ سے ’باوقار‘ اور چمکدار ہی نہ ہوا بلکہ ماشاء اللہ ’ب‘ سے ’بہت زیادہ مالدار‘ بھی ہو گیا۔
اسی عہدِ رفتہ کی ایک اور یاد ’ب‘ سے ’بساطِ سیاست‘ کے تضادات کی عکاسی کرتی ہے۔ جب مرکز میں محترمہ ’ب‘ سے بے نظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت تھی تو عجیب منظر ہوتا۔ ہم میاں صاحب کے ہمراہ سرکاری جہاز میں ’بڑے میاں صاحب‘ کی عوامی مقبولیت کے حصار میں پنجاب
کے دوروں پر ہوتے، جبکہ دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ جب کبھی لاہور تشریف لاتیں تو پروٹوکول کی نزاکتوں اور وقت کی سیاست کے باعث ان کا دورہ اکثر نہایت ’ب‘ سے ’بے آواز‘ اور مختصر ہوتا۔ ملازمت کے دوران یہ تضاد ہمیں ہمیشہ سوچنے پر مجبور کرتا رہا کہ اقتدار کی اس ’ب‘ سے ’بساط‘ پر حالات کیسے کیسے رنگ بدلتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ اسی ’ب‘ یعنی بیوروکریسی کے شکنجے میں ہم نے کچھ بیوروکریٹس کو ’ب‘ سے ’بے بس‘ ہوتے بھی دیکھا۔ ایوانِ اعلیٰ کی ان ٹھنڈی راہداریوں میں جہاں ہم نے اپنی زندگی کے کئی برس مختلف وزرائے اعلیٰ کے ساتھ کھپا دیے، وہیں ’ب‘ سے ’بڑے میاں صاحب‘ کے بڑے بڑے کام اور ’ب‘ سے ’بلند ارادے‘ انہیں اس ملک کے سب سے بڑے منصب تک لے گئے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ’ب‘ سے ’بہادر‘ بن کر نہایت کٹھن راہوں سے گزرے؛ ہمت ہی نہیں بلکہ قسمت کے بھی بڑے دھنی نکلے۔
کاش ہم ’بے بندگی‘ کے بجائے اپنی زندگی میں بھی وہی ’ب‘ سے ’بسم اللہ‘ والا اخلاص اور ’ب‘ سے ’بڑا دل‘ لے آتے تو آج اس نظام کا حلیہ ’ب‘ سے ’بدتر‘ نہ ہوتا۔ اللہ رب العزت ہمیں ’ب‘ سے ’بخل و بیر‘ سے محفوظ رکھے اور ’ب‘ سے ’بھلائی‘ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمارے اس عہد کے درخشندہ ستارے انور زاہد اور مہر جیون خان اپنی ’ب‘ سے ’بے پناہ‘ قابلیت اور انتظامی سوجھ بوجھ میں بے مثال تھے؛ سید صفدر جاوید اور جی ایم سکندر اخلاص کا پیکر تھے؛ جبکہ اطہر سیال، ہمایوں مظہر شیخ، ہمایوں فرشوری اور عبدالقیوم جیسے افسران نے اپنی ’ب‘ سے ’بصیرت‘ سے بیوروکریسی کے وقار کو چار چاند لگائے۔
دعا ہے کہ اللہ نوازش علی، قمر الزمان، شیخ حمید، خورشید علی زیدی، عبدل رشید اور وسیم جعفری و تمام مرحومین کے درجات بلند کرے۔ اس 'ب' کی بساط پر ایسے کئی اور بھی نامور ستارے تھے جن کے نام شاید اس وقت میری یادداشت کی ’ب‘ سے ’بے وفائی‘ یا بشری تقاضوں کے باعث اس تحریر میں شامل نہ ہو سکے، مگر ان کی ’ب‘ سے ’بے لوث‘ خدمات ہمارے نظام کی بنیادوں میں ہمیشہ روشن رہیں گی۔ اللہ ان سب کی مغفرت فرمائے جو وقارِ منصب کی زندہ مثالیں چھوڑ گئے۔
با ادب با مراد، بے ادب بے مراد۔
باقی رہی ’ب‘ کی یہ بساط تو اس کے لیے اگلے کالم کا انتظار کیجیے، کیونکہ کہانی ابھی باقی ہے۔