دوبارہ حملے کی صورت میں ایران نے زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیا، رائٹرز کا دعویٰ

دوبارہ حملے کی صورت میں ایران نے زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیا، رائٹرز کا دعویٰ

ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی حملوں کی صورت میں خلیج میں زیرِ سمندر بچھائی گئی مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کرلیے ہیں۔

 خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایران کے دو سینیئر سکیورٹی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس منصوبے کی تصدیق کی ہے۔ایرانی حکام کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب تہران کی جانب سے خبردار کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ سفارت کاری ناکام ہونے اور خطے میں دوبارہ جنگ چھڑنے کی صورت میں اہم مواصلاتی اور ڈیجیٹل تنصیبات بھی ممکنہ اہداف بن سکتی ہیں۔

کیبلز کو نقصان پہنچانے کے بعد مرمت روکنے کا منصوبہ
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے ایرانی حکام نے ممکنہ حملوں کے طریقہ کار یا مخصوص مقامات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تاہم، ان میں سے ایک اہلکار کے مطابق، ایران کا مقصد صرف زیرِ سمندر کیبلز کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ حملے کے بعد ان کی مرمت میں رکاوٹیں پیدا کرنا بھی ہوگا، تاکہ مواصلاتی نظام کی بندش طویل عرصے تک برقرار رہے۔ایرانی اہلکار نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں، بشمول خفیہ تنصیبات، تک کوئی ہدف ریڈ لائن نہیں رہے گا۔ایران کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ممکنہ نئے تنازع کی صورت میں خطے کے اہم ڈیجیٹل اور مواصلاتی ڈھانچے کو دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز میں سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز کا ذکر
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ سیاسی امور کے نائب سربراہ یداللہ جوانی نے بھی حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اگر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، جو خلیج کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ خطہ عالمی توانائی کی ترسیل کے ساتھ ساتھ علاقائی مواصلاتی رابطوں کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔تاہم، ایرانی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ ممکنہ کارروائی کب یا کس انداز میں کی جا سکتی ہے۔ امریکا اور ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے رائٹرز کی درخواست پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، جبکہ خلیجی ممالک کی جانب سے بھی فوری ردعمل رپورٹ نہیں ہوا۔

زیرِ سمندر کیبلز عالمی انٹرنیٹ کے لیے کیوں اہم ہیں؟
زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان انٹرنیٹ ڈیٹا منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، دنیا کی تقریباً 99 فیصد بین الاقوامی ڈیجیٹل مواصلات ان کیبلز کے ذریعے ہوتی ہیں۔اگر خلیج میں متعدد کیبلز کو نقصان پہنچا تو اس کے اثرات انٹرنیٹ کی رفتار، مالیاتی لین دین، ای کامرس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی خدمات پر پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کے مطابق نقصان کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ متاثرہ ڈیٹا ٹریفک کو متبادل راستوں پر کس حد تک منتقل کیا جا سکتا ہے اور ان راستوں میں کتنی گنجائش دستیاب ہے۔ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بینڈوڈتھ عالمی مجموعی مقدار کے ایک فیصد سے بھی کم ہے، اس لیے یہاں حملے کا عالمی سطح پر اثر محدود رہ سکتا ہے۔ اس کے باوجود خطے کے ممالک اور ان کے ڈیجیٹل نظام کو نمایاں خلل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جنگ کی صورت میں مرمت مزید مشکل ہوسکتی ہے
ماہرین کے مطابق، جنگی حالات میں زیرِ سمندر کیبلز کی مرمت معمول سے زیادہ مشکل ہو سکتی ہے۔ سکیورٹی خدشات، متاثرہ علاقوں تک رسائی میں رکاوٹیں، بیمہ اخراجات میں اضافہ اور متعلقہ سمندری حدود میں کام کرنے کی اجازت حاصل کرنے میں تاخیر، بحالی کے عمل کو طویل کر سکتی ہے۔اسی لیے اگر کیبلز کو نقصان پہنچانے کے ساتھ مرمت بھی روک دی جائے تو مواصلاتی تعطل زیادہ دیر تک جاری رہنے کا خدشہ ہوگا۔ تاہم، نقصان کی اصل نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات کا انحصار متاثرہ کیبلز، متبادل رابطوں اور بحالی کی سہولتوں پر ہوگا۔

ایران کی دھمکیوں کا مقصد کیا ہے؟
واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا کے مطابق، اس نوعیت کی دھمکیوں کا مقصد امریکا کو ممکنہ فوجی کارروائی کے معاشی اور تجارتی خطرات سے آگاہ کرنا اور خلیجی حکومتوں و امریکی کمپنیوں پر دباؤ بڑھانا بھی ہو سکتا ہے۔خلیجی ممالک تیل پر انحصار کم کرنے اور ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ایسے میں اہم مواصلاتی ڈھانچے کو خطرات ان منصوبوں اور خطے میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے اضافی خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔