میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے محکمہ داخلہ سندھ نے باضابطہ طور پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔

جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کریں گے، جبکہ مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں کے سینئر افسران بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔محکمہ داخلہ سندھ نے جے آئی ٹی میں افسران کی نامزدگی کے لیے متعلقہ اداروں کو مراسلے جاری کردیے ہیں، جن میں گریڈ 18 یا اس سے اوپر کے افسران کو نامزد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

کن اداروں کے افسران جے آئی ٹی میں شامل ہوں گے؟
محکمہ داخلہ سندھ کے مراسلے کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں درج ذیل اداروں کے سینئر نمائندے شامل ہوں گے:

انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)
انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)
پاکستان رینجرز سندھ
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)
متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مقررہ گریڈ کے افسران نامزد کریں تاکہ تحقیقات میں مختلف اداروں کی معاونت حاصل کی جاسکے اور کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

انکوائری کمیشن کی سفارش پر جے آئی ٹی تشکیل
میر رضا علی قتل کیس کے حوالے سے جسٹس عمر سیال پر مشتمل یک رکنی انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ محکمہ داخلہ سندھ نے اسی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔جے آئی ٹی کا مقصد کیس سے متعلق دستیاب شواہد اور معلومات کا جائزہ لینا اور قتل کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کو آگے بڑھانا ہے۔

مقدمہ تھانہ فیروز آباد میں درج
میر رضا علی قتل کیس کا مقدمہ کراچی کے تھانہ فیروز آباد میں درج ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعد اب مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندے تحقیقات میں حصہ لیں گے۔