خودمختاری کا بھاؤ

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
بحرالکاہل میں ایک چھوٹاساجزیرہ دنیاکے نقشے پرنقطہ دکھائی دیتاہے،مگراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کی آواز ایک بڑی طاقت کی طرح ایک ووٹ شمارہوتی ہے۔دوسری طرف پاکستان ہے،وسیع سرزمین،بڑی آبادی،دفاعی صلاحیت اور بے شمارانسانی امکانات کے باوجودبارباربیرونی مالی سہارے کامحتاج۔یہ تقابل محض چھوٹے اوربڑے ملک کا نہیں؛قانونی آزادی،معاشی اختیاراورعوامی خوشحالی کے درمیان فاصلے کاہے۔اسی فاصلے میں عالمی سیاست کے دوہرے معیاراور ہماری اپنی حکمرانی کی کمزوریاں بیک وقت نمایاں ہوتی ہیں۔
زیرنظربحث کامرکزی سوال یہ ہے کہ محدودوسائل رکھنے والی ریاستیں عالمی نظام میں اپنی جگہ کیسے برقراررکھتی ہیں، بڑی طاقتیں ان سے کیافائدہ اٹھاتی ہیں،اورپاکستان اپنے وسائل کوقومی وقارمیں کیوں پوری طرح تبدیل نہیں کرپاتا۔اسی احتجاج کی زبان میں50’’جعلی ممالک‘‘کاسخت استعارہ سمجھانے کیلئے استعمال کیاجارہاہے تاہم جسے قانونی درجہ بندی کی بجائے ایسی خودمختاری پرتنقیدسمجھناچاہیے جوبیرونی انحصارسے محدودہوجاتی ہے۔چھوٹے ملک کے باشندے حقیقی انسان ہیں؛ان کی شناخت کااحترام کرتے ہوئے بھی ان کے گردقائم مفادات کے نظام پرپوری قوت سے سوال اٹھایاجاسکتاہے۔ 1945کے بعداقوام متحدہ کے منشورنے خودمختارمساوات اورطاقت کے استعمال پرپابندی کوقانونی بنیاددی۔تاہم جنرل اسمبلی کی برابرآواز،مالی اداروں میں برابراختیارنہیں؛ وہاں معاشی وزن فیصلہ سازی کومتاثرکرتاہے۔
مضمون کی طوالت سے بچنے کیلئے صرف پچاس ممالک کی بجائے صرف نام اورآبادی کے ساتھ صرف بائیس ممالک اور علاقوں کی مثالیں پیشِ خدمت ہیں؛باقی اٹھائیس نام ازخود شامل نہیں کیے گئے۔جبکہ دوسرے مقامات پربحث سے محفوظ  رکھنے کیلئے مذکورمثالیں متعلقہ خطے میں جمع کی گئی ہیں۔تاکہ قاری کونامکمل فہرست سے مکمل فہرست کابھی اندازہ ہو جائے۔
ان میں پہلاگروہ کیریبین کاہے:کیریبین کی بنیادی مثالوں میں سینٹ کٹس اینڈنیوس کی آبادی53ہزار،انٹیگواوباربوڈاکی ایک لاکھ،ڈومینیکاکی72ہزار،سینٹ لوشیا کی ایک لاکھ 80ہزاراورگریناڈاکی ایک لاکھ12ہزاربیان ہوئی ہے۔اسی خطے کی مالیاتی مثال کیمن آئی لینڈزہے،جس کی آبادی 68 ہزاربتائی جاتی ہے۔یہ برطانیہ کاسمندرپارعلاقہ ہے،آزادریاست نہیں۔ویسٹ انڈیزکا معروف کرکٹ نام اس خطے کی مشترکہ پہچان سمجھنے میں مدددیتاہے،لیکن اس سے تمام شریک معاشرے ایک ملک یا یکساں آئینی حیثیت نہیں اختیارکرلیتے۔
ان چھوٹی آبادیوں کیلئے ساحل،سیاحت،مالی خدمات اوربیرونی سرمایہ آمدن کے اہم امکانات بن سکتے ہیں۔تاہم محدودداخلی منڈی اوردرآمدی ضروریات انہیں عالمی کساد، سفری پابندیوں اورقدرتی آفات سے بھی متاثرکرتی ہیں۔ان کی حکومتوں کا مسئلہ صرف سرمایہ لانانہیں،اس سرمایہ کومقامی روزگار،تعلیم اوربنیادی خدمات میں تبدیل کرناہے۔ جب بیرونی کاروبار ترقی کی شرط بن جائے توضابطوں کی نرمی اورعوامی مفادکے درمیان کشمکش پیداہوتی ہے۔یہی کشمکش تنقیدکاایک بنیادی سراہے۔
دوسراگروہ بحرالکاہل سے منسوب ہے:بحرالکاہل کی بنیادی فہرست میں ناوروکی آبادی12ہزار،تووالوکی11ہزار،پالاکی18 ہزار،مارشل آئی لینڈزکی42ہزاراوروفاقی ریاست ہائے مائیکرونیشیاکی ایک لاکھ 15ہزارہے۔سفارتی مقابلے کی بحث میں وانواتوکی آبادی تین لاکھ، سولومن آئی لینڈزکی سات لاکھ اورکیریباتی کی ایک لاکھ 20ہزاربھی بیان ہوئی ہے۔یوں اس گروہ کی آٹھ مثالیں مکمل طورپرسامنے آتی ہیں۔یہ معاشرے ایک دوسرے سے مختلف ہیں،لیکن سمندری فاصلے اوربڑی طاقتوں کی دلچسپی ان کے معاملات میں مشترک اہمیت رکھتے ہیں۔
یہاں بندرگاہ،فضائی رسائی سمندری نگرانی اورسفارتی تعلقات کسی جزیرے کے زمینی رقبے سے کہیں بڑی اہمیت پیداکر سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکا،چین اورآسٹریلیاجیسے ممالک ان چھوٹی ریاستوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔مقامی حکومت کیلئے ترقیاتی منصوبہ بنیادی ضرورت ہوسکتاہے؛بیرونی شراکت دارکیلئے وہی منصوبہ طویل مدتی رسائی کاوسیلہ۔ دونوں ضرورتیں بیک وقت موجودہوں توتعلق کوسمجھنے کیلئے امدادکے حجم کے ساتھ معاہدے کی شرائط اورفیصلہ سازی کی آزادی بھی دیکھنی پڑتی ہے۔
تیسراگروہ یورپ میں اپناوجودبرقراررکھے ہوئے ہے۔یورپی مثالوں میں ویٹیکن سٹی کی آبادی800افراد،موناکوکی39ہزار، لیختنسٹائن کی38ہزار،سان مارینوکی33ہزار اور انڈوراکی77ہزاردرج ہے۔ان کاذکردکھاتاہے کہ چھوٹی ریاست کاتصورصرف دورافتادہ جزیرے تک محدودنہیں۔تاہم ویٹیکن سے متعلق ہولی سی اقوام متحدہ میں مستقل مبصر ہے،عام رکن کی طرح ووٹ نہیں رکھتا۔اس فرق کوماننے سے اصل استدلال ختم نہیں ہوتا؛صرف یہ واضح ہوتاہے کہ ہرچھوٹی سیاسی اکائی کوایک ہی ووٹنگ حساب میں شامل نہیں کیاجاسکتا۔
یہ تمام ممالک اپنے قومی پرچم کے ساتھ اپنی شناخت رکھتے ہیں یعنی سہولت کے پرچم کی وضاحت کیلئے پاناماکی آبادی44  لاکھ اورلائبیریاکی53لاکھ  ہے؛پہلاوسطی امریکااور دوسرامغربی افریقہ میں ہے۔موسمیاتی بحث میں جنوبی ایشیاکے مالدیپ کی آبادی پانچ لاکھ بیان ہوئی ہے۔ان تین مثالوں کوکیریبین،بحرالکاہل یایورپ میں زبردستی رکھنے کی بجائے الگ بیان کرنا جغرافیہ درست رکھتاہے۔ان کامشترک کرداریہ ہے کہ وہ پرچم،سمندر،تجارت یاماحولیاتی خطرے کے ذریعے عالمی معیشت سے جڑے ہوئے ہیں۔یادرہے کہ ان تینوں گروپس میں شامل بیشترممالک کی آبادی کراچی یالاہورکے ایک محلے سے بھی کم ہے یایوں کہہ سکتے ہیں کہ ان تمام ممالک کی مجموعی آبادی کراچی سے بھی کہیں کم ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان ریاستوں کو محض کمزور آبادیوں کے مجموعے کے باوجودعالمی مفادات کے فعال مراکزبناکرکیوں رکھا گیاہے۔انہیں ختم کرنامہنگااورموجودہ صورت میں برقرار رکھنا بڑی طاقتوں کیلئے نسبتاسستاہے۔قبضے کیلئے فوج،انتظامیہ اور مزاحمت کی قیمت اداکرناپڑتی ہے؛تعاون یاانحصارکے ذریعے مطلوبہ فائدہ کم خرچ میں حاصل ہوسکتاہے۔تمام ریاستوں کی پیدائش اوربقاکی  تاریخی توجیہ سمجھنے کیلئے چاروجوہات ہی کافی ہیں:
پہلی وجہ مالی پناہ گاہیں اورٹیکس کے مفادات ہیں۔بعض چھوٹے علاقے بڑی دولت کیلئے مالی پناہ گاہ بنتے ہیں۔کم ٹیکس، پیچیدہ کمپنی ڈھانچے اورمالک کی شناخت تک مشکل رسائی ایسے انتظامات کوپرکشش بناسکتی ہے۔کیمن آئی لینڈزاس استدلال کی نمایاں مثال ہے۔غیرمصدقہ دعوے کے طورپردنیاکی سوبڑی کمپنیوں میں سے نوے کے کاغذی دفاتروہاں ہیں اورتقریبادوہزارارب ڈالرکاکالادھن موجودہے۔ اس دعوے کابنیادی سیاسی مفہوم اہم ہے:دولت جہاں قانونی اورانتظامی سہولت پاتی ہے،وہاں طاقتورمفادات بھی اس سہولت کے تسلسل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔قانونی ٹیکس منصوبہ بندی،ٹیکس سے گریزاورغیرقانونی رقم چھپاناالگ معاملات ہیں، مگران کے درمیان دھندلاپن عوامی جواب دہی کو کمزورکرسکتاہے۔اعتراض اس بندوبست پرہیجس میں سرمایہ اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے راستے تلاش کرے اورعام شہری ریاستی اخراجات کابڑھتابوجھ اٹھائے۔یہ اعتراض کسی مخصوص رقم کی تصدیق کے بغیربھی اپنی اخلاقی معنویت رکھتاہے۔
دوسری وجہ سیاحت اورساحلی معیشت ہے:ساحلوں اورتفریحی معیشت کی تجارتی قدرہے۔انٹیگواکے365ساحلوں اورسالانہ دس لاکھ سیاحوں کی مثال سرفہرست ہے۔ان معاشروں کاامن،بیرونی سیاح،ہوٹل،فضائی کمپنی اورسرمایہ کارکے مفادسے جڑ جاتاہے۔اس نسبت سے بڑی طاقتوں کوان کی سلامتی اوربنیادی استحکام میں دلچسپی موجودہے تاہم یہ تعلق خودبخودکسی مستقل امریکی حفاظتی ضمانت کاثبوت نہیں؛مگریہاں بیان کردہ بات تجارتی مفاداورسیاسی دلچسپی کاممکنہ رشتہ ضرور دکھائی دیتاہے۔سیاحت مقامی معاشرے کو روزگار بھی دیتی ہے اورخطرات بھی۔بیرونی ہوٹل منافع باہرمنتقل کرے،ساحلی زمین مہنگی ہویا خوراک درآمدکرناپڑے توسیاحوں کی تعدادبڑھنے کے باوجودعوامی فائدہ محدودرہ سکتاہے۔اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ خوبصورت ساحل کس کیلئے محفوظ ہیں،بلکہ یہ بھی ہے کہ آمدن کس کے حصے میں آتی ہے۔دوسری وجہ اسی حقیقت کوکھولتی ہے کہ کسی چھوٹے ملک کاقدرتی حسن عالمی کاروبارکی ایسی ضرورت بن سکتاہے جسے برقراررکھنے میں متعدد طاقتوں کافائدہ ہو۔
تیسری وجہ سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت اوروہ پروگرام ہیں جنہیں اصل تحریرپاسپورٹ کی دکان کہتی ہے۔اس میں دو لاکھ ڈالرکے بدلے سینٹ کٹس یاانٹیگواکی شہریت،تقریباً 150 ممالک میں ویزے کے بغیرسفراورسالانہ500ملین ڈالرسے زیادہ مجموعی آمدن کے دعوے درج ہیں۔یہ اصل مفادات کی مثالیں ہیں؛اگرانہیں آج کی یکساں قیمت، مستقل سفری حق یاہرشریک ملک کی مصدقہ آمدن نہ بھی سمجھاجائے لیکن بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ریاستی شناخت خودایک معاشی اثاثہ بن جاتی ہے۔(جاری ہے)