کارگل جنگ سے آپریشن سندورتک

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
بی جے پی کی قیادت میں انڈیامیں ہندوتوا(ہندو قوم پرستی)کانظریہ غالب آیاہے،جومسلمانوں کے خلاف سخت مقف اختیارکرتاہے۔ اسرائیل کا’’سیکیورٹی اسٹیٹ‘‘ماڈل بی جے پی کواپیل کرتاہے۔مودی حکومت کی طرف مسلم مخالف پالیسیاں،شہریت ترمیم ایکٹ، کشمیرکی خصوصی حیثیت کوختم کرنااوردیگراقدامات کواسرائیل کی طرف سے نہ صرف خاموش حمائت ملی ہے بلکہ بھارت اور امریکاکے تعلقات کوبہتربنانے کیلئے اسرائیل اورامریکی یہودی لابی نے ایک اہم کرداراداکیاہے۔  
بھارت اوراسرائیل کے درمیان سٹریٹجک قربت اوردفاعی تعلقات اب تجارت سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔بھارت،اسرائیل سے دفاعی سازوسامان خریدنے والاسب سے بڑاملک ہے۔اسرائیل نے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہیرون،ہاروپ اوردیگرڈرونزنے بھارت کی فوج کوہدف شناسی اورنگرانی میں برتری کیلئے فراہم کئے۔بھارتی نیوی کو مشترکہ طورپرتیارکیاگیاباراک8اسپائک اینٹی ٹینک گائیڈڈمیزائل سسٹم کے ساتھ ساتھ کئی جدیدترین ہتھیاربھی مہیاکئے گئے لیکن یہ الگ بات ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں نہ صرف یہ دونوں ممالک بلکہ اقوام عالم کے بہت ہی تجربہ کاردفاعی تجزیہ نگاربھی پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کودیکھ کرورطہ حیرت میں مبتلاہوگئے اورعالمی میڈیانے بھی اس کا جلی سرخیوں سے اعتراف بھی کیا۔ 
اسرائیل کے ظالمانہ تجربے اورہتھیاروں سے بھارت نے مظلوم کشمیریوں کے خلاف اورآپریشنزمیں اضافہ کیالیکن اس کے باوجود کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کودبانے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔اسرائیل بھارت کا سب سے بڑا دفاعی پارٹنر ہے اور دونوں ممالک میک ان انڈیا کے تحت کئی میزائل و دفاعی سسٹمز منصوبے مشترکہ طور پرچلا رہے ہیں۔پاکستان نے اسرائیل کے جدیدہاروپ ڈرون کوکامیابی سے تباہ کرکے اس کی ناقابل تسخیرحیثیت کو چیلنج کرکے اپنی ٹیکنالوجی کی سبقت کومنوالیاہے۔پاکستان نے اسرائیلی ساختہ ہاروپ ڈرون کونہ صرف تباہ کیابلکہ الیکٹرانک وارفیئرکے ذریعے اسے جام بھی کیا۔اس کامیابی نے پاکستان کی الیکٹرانک وارفیئرصلاحیتوں کی جہاں زبردست نشاندہی کی ہے وہاں ان کے ہاں اوربھی بہت سے حیران کردینے والی صلاحیتیں بھی موجودہیں۔یہ واقعہ ایک سائبروارفیئرصلاحیت کے اظہارکے طورپرپیش کیاگیا۔تاہم،انڈیااوراسرائیل اپنی خفت اور بدنامی کے خوف سے نہ تواس دعوے کی کوئی سرکاری تصدیق کررہے ہیں اور نہ ہی اس کی تردیدلیکن پاکستانی حکام نے عالمی میڈیا کے سامنے ان کے شواہدرکھ دیئے ہیں جس کے بعد ان ملکوں کے دفاعی ماہرین کوچھپنے کیلئے کوئی جگہ نہیں مل رہی کہ انہوں نے کس طرح دنیاکے سامنے اپنے ان ہتھیاروں کوناقابل تسخیرہونے کا دعوی کیاتھا۔یہ واقعہ ایک دفاعی
کامیابی کے طورپردنیاکے سامنے آگیاہے اوروہ تمام ممالک جوان ہتھیاروں کی خریداری میں دلچسپی لے رہے تھے،انہوں نے فی الحال ان منصوبوں سے ہاتھ کھینچ لیاہے لیکن حالیہ بیانات سے دکھائی دے رہاہے کہ بھارت اور اسرائیل کی شراکت پراس کاکوئی مستقل اثرنہیں پڑالیکن بھارتی اپوزیشن کی جماعتیں اب مل کرمودی سے اس شکست کاحساب مانگ رہی ہیں۔
بھارت نے یواے ای،سعودی عرب،قطرخاص طورپرخلیج جیسے ممالک کے ساتھ معاشی اورسٹریٹجک تعلقات بہتربنائے ہیں لیکن کشمیرپرعرب لیگ نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔اوآئی سی نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پربارہا بھارت کوتنقیدکانشانہ بنایا۔بھارت نے ان تعلقات کوالگ رکھتے ہوئے عرب دنیاکواسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پرقائل کرلیاہے۔ باوجود اس کے،عرب ممالک بھارت کوایک بڑی منڈی کے طورپردیکھتے ہیں،اسی لیے وہ اس کی اسلام مخالف پالیسیوں کواکثرنظر اندازکرتے ہیں ۔لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ عرب ممالک اب بھارت کوایک معاشی ضرورت سمجھتے ہیں،نہ کہ اسلامی اخوت کے تناظرمیں پرکھتے ہیں۔ 
عرب ممالک پاکستان کوایک مسلم ملک کے طورپرترجیح دیتے ہیں،خاص طورپرکشمیرکو’’مسلم مسئلہ‘‘کے طورپردیکھاجاتاہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان کاعرب ممالک کوفوجی تعاون بھی جاری ہے۔پاکستانی فوجی افسران سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،اوردیگرعرب ممالک کی فوجی تربیت میں مددکرتے ہیںلیکن دوسری طرف انڈیا کوعرب ممالک سے تیل درآمدکرناپڑتاہے،اورانڈیاکی کوشش ہے کہ یہ معاشی تعلق سیاسی حمایت میں تبدیل ہوجائے۔سعودی عرب،یواے ای اوردیگرچندخلیجی ممالک نے انڈیامیں غیرمعمولی سرمایہ کاری بھی کررکھی ہے جس کی بناپران ممالک کی طرف سے انڈیاکی کشمیرپالیسی پرتنقیدسے گریزکیاجارہاہے۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ہمارے مقتدرحلقے ایمانداری کے ساتھ سرجوڑکربیٹھیں اوراپنی سابقہ غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایسی نئی تجارتی پالیسیان مرتب کریں جس سے اس میدان میں انڈیاکی برتری کوختم کیاجاسکے۔
بھارت-اسرائیل تعلقات کاسکیورٹی محوراوران کے مابین تعلقات تب زیادہ مضبوط ہوتے ہیں جب بھارت اورپاکستان کے درمیان کشیدگی اورتنابڑھتاہے،جب بی جے پی حکومت برسرِاقتدارہوتی ہے،جب بھارت میں مسلم مخالف جذبات کوانتخابی سیاست میں استعمال کیاجاتاہے۔اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ تعلقات صرف خارجہ پالیسی نہیں بلکہ داخلی سیاسی مفادات سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔
بھارت اوراسرائیل کے تعلقات ایک پیچیدہ مگرمسلسل مضبوط ہونے والی دوستی کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ تعلقات نہ صرف دفاعی بلکہ نظریاتی،سفارتی اورسٹریٹجک سطح پرگہرائی اختیار کرچکے ہیں۔بھارت اوراسرائیل کے تعلقات کاجغرافیائی سیاست، نظریاتی ہم آہنگی، اور دفاعی ضرورت پرگہراانحصارہے۔یہ تعلقات وقت کے ساتھ محض سفارتی سطح پرنہیں بلکہ عوامی بیانیے اورداخلی سیاست کاحصہ بن چکے ہیں۔
پاکستان کیلئے یہ چیلنج ہے کہ وہ ان تعلقات کا توازن علاقائی سٹریٹجک حکمت عملی اورسفارتی کوششوں سے قائم رکھے،جبکہ مسلم دنیاکوبھی ایک واضح،متفقہ مؤقف اختیارکرناہوگاجبکہ اب یوں محسوس ہورہاہے کہ’’یہودہنوداتحاد‘‘امت مسلمہ کیلئے کس قدرخطرناک ثابت ہو سکتاہے،کچھ خلیجی ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اوربھارت میں عرب ممالک کی سرمایہ کاری کودیکھتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات کے پیچیدہ اورحقیقت پسندانہ تجزیے کے سامنے کمزورپڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔  
سوال یہ ہے کہ کیاواقعی یہود وہنوداتحاد اسلام کیخلاف ہے؟کیایہ بیانیہ زیادہ ترانتہاپسندمذہبی اورنظریاتی حلقوں میں رائج ہے،اس کازمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں؟یہ بیانیہ جس کی بنیاد تین نکات پرمبنی ہے اوراب روزِروشن کی طرح ہمارے سامنے بھی آچکی ہے،جس سے انکارکسی بھی صورت میں ممکن نہیں رہا۔دونوں ممالک میں مسلم اقلیتیں ہیں اوران کے ساتھ حکومتی رویہ اکثرانسانیت سوزاوروحشیانہ رہاہے(کشمیر،غزہ)اس کی بڑی مثالیں ہیں اورآج تک وہاں پربسنے والے مسلمانوں پرہونے والے مظالم کی ہوشرباداستانیں تو عالمی میڈیاپرہرروزدکھائی جارہی ہیں۔خودغزہ میں فلسطینی مسلمانوں کومارنے کیلئے ہندوافرادکوبھرتی کیاگیااورمودی حکومت نے بیشتربی جے پی کے متعصب ہندونوجوانوں کو اس کام کیلئے بھیجاہے۔سخت گیرقوم پرست جماعتیں(بی جے پی اورلیکود)برسراقتدارہیں جن کی پالیسیوں کواکثر’’اسلام مخالف‘‘قرار دیاجاتاہے اوراس کاعملی مشاہدہ بھی ہمارے سامنے ہے۔
اسرائیل اوربھارت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی کارروائیوں کو’’اسلام پسند شدت پسندی‘‘سے جوڑتے ہیں اوران کے اکثر متعصب رہنماتودونوں ممالک سے مسلمانوں کومکمل ختم کرنے کے درپے ہیں لیکن غزہ اور کشمیر میں تو ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ حقیقی دہشتگردکون ہیں۔