گوگل نے بحرِ اوقیانوس کا نام بدلنے کی ٹرمپ کی خواہش رد کردی

گوگل نے بحرِ اوقیانوس کا نام بدلنے کی ٹرمپ کی خواہش رد کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرِ اوقیانوس کا نام تبدیل کرکے ’ٹرمپ اوشن‘ (Trump Ocean) رکھنے کے لیے گوگل کے سی ای او سندر پچائی سے رابطہ کیا تھا، تاہم پچائی نے مبینہ طور پر اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے سندر پچائی سے پوچھا تھا کہ کیا گوگل بحرِ اوقیانوس کا نام تبدیل کر سکتا ہے؟ اس پر پچائی نے مبینہ طور پر وضاحت کی کہ سمندر متعدد ممالک کی حدود تک پھیلے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے نام تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں۔ٹرمپ نے اس گفتگو کے حوالے سے کہا کہ وہ غالباً بحرِ اوقیانوس کا نام تبدیل کرنے کا خیال ترک کردیں گے۔ تاہم انہوں نے مزاحیہ انداز میں بحرالکاہل کا نام ’امریکن اوشن‘ (American Ocean) رکھنے کی تجویز بھی پیش کی۔

جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کی کوششیں
یہ معاملہ ٹرمپ کی جانب سے جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ان کی انتظامیہ نے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’خلیجِ امریکا‘ (Gulf of America) رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس فیصلے کے بعد گوگل میپس نے امریکی صارفین کے لیے خلیج میکسیکو کا نام ’گلف آف امریکا‘ دکھانا شروع کردیا، جبکہ دیگر علاقوں میں صارفین کو مختلف نام دکھائے جانے کی پالیسی اختیار کی گئی۔فراہم کردہ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ رواں سال جھیل اونٹاریو کو ’لیک امریکا‘ (Lake America) کے نام سے دکھانے کا معاملہ سامنے آیا۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

گوگل میپس پر نام تبدیل کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟
جغرافیائی مقامات کے ناموں کے معاملے میں گوگل میپس مختلف ممالک کے سرکاری فیصلوں اور علاقائی ناموں کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف نام دکھا سکتا ہے۔ کسی مقام کا نام کسی ملک میں تبدیل کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی سطح پر اس کا نام بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ٹرمپ اور سندر پچائی کے درمیان مبینہ گفتگو سے متعلق یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جغرافیائی مقامات کے ناموں اور ان کی سرکاری شناخت کے حوالے سے سیاسی اور عوامی بحث جاری ہے۔